Saturday , November 18 2017
Home / ہندوستان / ’صلہ رحمی کا جذبہ ‘ عوام کے حلق پر مسلط نہیں کیا جاسکتا‘

’صلہ رحمی کا جذبہ ‘ عوام کے حلق پر مسلط نہیں کیا جاسکتا‘

سپریم کورٹ کا ریمارک ۔ گوشت کی امتناع پر التوا کے ممبئی ہائیکورٹ کے فیصلے میں مداخلت سے انکار
نئی دہلی 17 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے آج بمبئی ہائیکورٹ کے ایک حکمنامہ کے خلاف درخواست کو قبول کرنے سے انکار کردیا جس میں ممبئی میں جین تہواروں کے موقع پر گوشت کی فروخت پر امتناع پر حکم التوا جاری کردیا گیا تھا ۔ عدالت نے کہا کہ صلہ رحمی اور عدم تشدد کے جذبہ کو کسی اور طریقہ سے پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ اسے عوام کے حلق پر مسلط نہیں کیا جاسکتا ۔ جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اور جسٹس کورین جوزف پر مشتمل ایک بنچ نے تاہم درخواست گذار شری تپا گاچیا آتما کمل کو یہ اجازت دی کہ وہ اپنی شکایات کے ساتھ دوبارہ بمبئی ہائیکورٹ سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ بنچ نے کہا کہ عدالت نے اس مقدمہ کے میرٹ کے تعلق سے کوئی تبصرے نہیں کئے ہیں ۔ درخواست گذار کیلئے یہ موقع ہوگا کہ دوبارہ ہائیکورٹ سے رجوع ہو اور ہائیکورٹ میں اس تعلق سے چھ مہینے میں فیصلہ ہوسکتا ہے ۔ عدالت اس درخواست کو دستبردار سمجھتے ہوئے مسترد کرتی ہے ۔ ابتداء ہی سے عدالت نے بمبئی ہائیکورٹ کے حکم پر التوا جاری کرنے سے انکار کردیا تھا اور کہا کہ آدھا دن پہلے ہی گذر چکا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ بہت وسیع ہے ۔ عدالت نے کہا کہ تحمل اور بھائی چارہ کا جذبہ ہونا چاہئے اور کوئی بھی چیز کسی مخصوص طبقہ پر مسلط نہیں کی جاسکتی ۔ ایک جج نے شاعر کبیر داس کا ایک دوحہ پڑھا اور کہا کہ اچھائی کی تعلمیات بھی دوسروں پر مسلط نہیں کی جاسکتیں۔ عوام جو بوتے ہیں وہ کاٹتے ہیں۔ عدالت نے یہ ریمارک ایسے وقت میں کیا جب درخواست گذار کے وکیل نے کہا تھا کہ جانوروں کے تعلق سے عدم تشدد اور صلہ رحمی بھی اچھائی کی تعلیمات میں شامل ہیں اور دو دن تک گوشت کی فروخت پر امتناع سے کسی کو نقصان نہیں پہونچتا ۔ عدالت نے ریمارک کیا کہ جانوروں کے تعلق سے صلہ رحمی صرف تہواروں کے دنوں میں نہیں ہونی چاہئے ۔ عدالت نے کہا کہ چونکہ امتناع پر حکم التوا محدود علاقہ تک ہے اس لئے اس میں مداخلت نہیں کی جائیگی ۔

TOPPOPULARRECENT