Tuesday , June 19 2018
Home / ہندوستان / صنعتکاروں نے گجرات کو ’’سیل‘‘ پر اٹھادیا ہے : کجریوال

صنعتکاروں نے گجرات کو ’’سیل‘‘ پر اٹھادیا ہے : کجریوال

کچھ ۔ 6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی قائد اروند کجریوال نے بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی پر اپنی تنقیدوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مودی کے اس دعوے کو کھوکھلا قرار دیا جہاں وہ خود کو ’’وکاس پُرش‘‘ (مرد ترقیات) کہتے ہیں۔ اروند کجریوال نے کہا کہ بے شک مودی وکاس پرش ہیں لیکن صرف صنعتکاروں کے لئے۔ یاد رہیکہ مودی کے

کچھ ۔ 6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی قائد اروند کجریوال نے بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی پر اپنی تنقیدوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مودی کے اس دعوے کو کھوکھلا قرار دیا جہاں وہ خود کو ’’وکاس پُرش‘‘ (مرد ترقیات) کہتے ہیں۔ اروند کجریوال نے کہا کہ بے شک مودی وکاس پرش ہیں لیکن صرف صنعتکاروں کے لئے۔ یاد رہیکہ مودی کے ترقیاتی دعوؤں کا بہ نفس نفیس مشاہدہ کرنے کجریوال اس وقت گجرات کے دورے پر ہیں اور انہوں نے وہاں مندرا تعلقہ کے کسانوں سے ملاقات کے بعد یہ بات کہی۔ مندرا تعلقہ میں ہی خصوصی اکنامک زون (SEZ) اور اڈانی بندرگاہ واقع ہے۔ کجریوال نے انتہائی چبھتی ہوئی بات کہی کہ بڑے بڑے صنعتکاروں کی حکومت کے ساتھ ساز باز ہے اور وہ اراضیات ہڑپ کررہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہیکہ پوری ریاست گجرات کو فروخت کیا جارہا ہے یعنی اس کا سیل لگا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتکاروں کے پاس اتنا زیادہ کالا دھن ہیکہ وہ کسی بھی وقت سوئٹزرلینڈ فرار ہوسکتے ہیں۔ میڈیا کے ذریعہ مودی گجرات کی ترقی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں لیکن کیا عام آدمی کی آواز آپ نے یہاں سنی ہے؟ عام آدمی اپنی تکالیف اور مشکلات بیان کررہا ہے۔

اروند کجریوال نے یہاں کے سکھ کسانوں سے بھی ملاقات کی جہاں انہیں یہ بتایا گیا کہ حکومت گجرات سکھ کسانوں کو ان کی اراضیات واپس کرنا نہیں چاہتی ۔ حکومت گجرات نے سکھ کسانوں کی اراضیات کو 2010ء میں منجمد کردیا تھا۔ صنعتکاروں نے بڑے بڑے وکیلوں کی موٹی موٹی فیس ادا کرتے ہوئے اس معاملہ کو عدالت تک گھسیٹا تھا تاکہ سکھ کسان اپنی اراضیات سے ہمیشہ محروم رہیں۔ دریں اثناء کسانوں کے ایک نمائندہ پرتھوی سنگھ نے بتایا کہ اس نے کجریوال کو حکومت گجرات کی کسان مخالف پالیسیوں کے بارے میں بتایا جس کے بعد کجریوال نے یہ تیقن دیا کہ وہ اس معاملہ کو ضرور اٹھائیں گے۔ پرتھوی سنگھ نے یہ بھی کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ اب کوئی بھی کچھ نہیں کرسکتا کیونکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کا نفاذ ہوچکا ہے۔ ہم نے اب تک حکومت سے کئی نمائندگیاں کیں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ مودی تو اس معاملہ کو سپریم کورٹ تک لے گئے ہیں۔ کجریوال نے مچھیروں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی اور بھوج میں ایک ہاسپٹل کا بھی دورہ کرنا چاہتے تھے لیکن مودی کے حامیوں کی جانب سے احتجاج اور ہجوم نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ کل بھی کجریوال کو عبوری طور پر گرفتار کیا گیا تھا جبکہ بی جے پی ورکرس نے کچھ میں ان کی کار کو بھی نقصان پہنچایا تھا۔

TOPPOPULARRECENT