Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / صنعتی پیداوار میں بھاری گراوٹ، جی ایس ٹی کا منفی اثر

صنعتی پیداوار میں بھاری گراوٹ، جی ایس ٹی کا منفی اثر

چھوٹی اور متوط صنعتوں کے لیے مشکلات ، خانگی سروے میں انکشاف
حیدرآباد۔3اگسٹ(سیاست نیوز) ملک میں جی ایس ٹی کے نفاذ کا ایک ماہ گذرنے کے بعد حالات کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک میں ہونے والی صنعتی پیداوار میں فروری 2009 کے بعد پہلی مرتبہ اتنی بھاری گراوٹ ریکارڈ کی جارہی ہے جس کی بنیادی وجہ جی ایس ٹی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ صنعتی پیداوار کی شرح کا جائزہ لینے کے لئے خانگی کمپنی کی جانب سے کروائے گئے سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ملک کے بیشتر صنعتی اداروں میں پیداوار بتدریج گھٹتی جا رہی ہے اور اس کی بنیادی وجہ صنعتکار اور اشیاء کی سربراہی کرنے والوں کے درمیان پیدا ہونے والی صورتحال پر کنٹرول نہ ہونا ہے۔ ماہرین کا کہنا کہ صنعتی ادارے جی ایس ٹی کے سبب جو حالات پیدا ہوئے ہیں انہیں ابھی تک سمجھ نہیں پا رہے ہیں اور جن صنعتی اداروں میں پیداوار کا سلسلہ جاری ہے وہ اپنی پیداوار کی فروخت کے سلسلہ میں پریشان ہیں کیونکہ انہیں ان کی پیداوار کے لئے حاصل کردہ خام اشیاء کے متعلق تفصیلات فراہم کرنا ضروری ہے۔ ریاست تلنگانہ ہی نہیں بلکہ ملک کی دیگر ریاستوں کی صنعتی صورتحال پر جی ایس ٹی کے سبب کافی فرق دیکھا جا رہا ہے اور شرح پیداوار کے نشان میں 3.7 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کئے جانے کا دعوی خانگی ادارہ کی رپورٹ میں کیا جا رہا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ صنعتی اداروں کی ایسی صورتحال فروری 2009کے دوران ہوئی تھی اور اس صورتحال کی مختلف وجوہات تھی جن میں عالمی معاشی انحطاط کا کلیدی رول تھا لیکن اس مرتبہ جولائی کے بعد سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس صورتحال کی بنیادی وجہ جی ایس ٹی بتائی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ حالات معمول پر آنے کیلئے مزید 4تا6ماہ درکار ہوں گے اور اس مدت کے دوران کتنے صنعتی ادارے باقی رہتے ہیں اور کتنے ادارے مقفل ہوسکتے ہیں یہ کہا نہیں جا سکتا کیونکہ 6ماہ تک نقصان برداشت کرتے ہوئے صنعتی اداروں کو جاری رکھنا چھوٹی اور متوسط صنعتوں کے لئے انتہائی مشکل ہوتا ہے ۔ گذشتہ 8برسوں کے دوران ہندستان میں صنعتی مصروفیات و پیداوار میں ریکارڈ کی گئی سب سے بڑی گراوٹ کے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے جی ایس ٹی کے نفاذ کیلئے جو اصول مرتب کئے ہیں انہیں سمجھنے کیلئے وقت فراہم کیاجاتا اور حالات کو معمول پر لانے تک لزوم عائد کرنے سے اجتناب کیا جاتا تو صنعتی اداروں کی ایسی صورتحال نہیں ہوتی اور نہ ہی پیداوار میں اتنی گراوٹ ریکارڈ کی جاتی۔

TOPPOPULARRECENT