Monday , June 18 2018
Home / شہر کی خبریں / صوبیدار میجر ڈاکٹر پی آر رتنم پلائی ،

صوبیدار میجر ڈاکٹر پی آر رتنم پلائی ،

آئی ایس ایم ڈی 1863-1943

آئی ایس ایم ڈی 1863-1943
حیدرآباد۔/19اگسٹ ، ( راست ) مدراس پریسیڈنسی میں 1863ء میں پیدا ہوئے ڈاکٹر پی آر رتم پلائی نے رویا پورم میڈیکل اسکول سے طِب کی تعلیم مکمل کی جو اُس زمانے میں ’’کانجی تھوٹی ہاسپٹل ‘‘ میڈیکل اسکول کے نام سے معروف تھا۔ 18ویں صدی میں جب وہ نوجوان تھے، ڈاکٹر پلائی حیدرآباد منتقل ہوگئے اور پولاورم میں واقع ملٹری ہاسپٹل میں ہاسپٹل اسسٹنٹ 1202 آئی ایس ایم ڈی کی حیثیت سے انڈین میڈیکل سرویسس سے وابستہ ہوئے اور بعد ازاں ہندوستانی فوجی افسران کے ہاسپٹل سے وابستگی اختیار کی جو آج بیگم پیٹ میں سررونالڈ روس انسٹی ٹیوٹ کے نام سے معروف ہے۔
برما کی جنگ میں ڈاکٹر پی آر پلائی نے ہندوستانی فوجیوں کی خدمت کی اور اپنی جانفشانی اور بے لوث خدمات پر کئی تمغے حاصل کئے اور انہیں عہدہ پر ترقی دیتے ہوئے صوبیدار میجر بنایا گیا۔ انھیں سورڈ آف آنر سے بھی نوازا گیا۔ سکندرآباد کا رجمنٹل بازار وہ علاقہ ہے جہاں ڈاکٹر پلائی اور اُن کا خاندان رہائش پذیر رہا، اور یہی وہ مکان ہے جہاں انہوں نے 1943ء میں اپنی موت تک اپنی ریٹائرڈ زندگی گزاری۔ اُن کے انتقال کے بعد اُن کے تابوت کو برطانوی پرچم سے لپیٹا گیا تھا اور اُن کی تدفین بھوئی گوڑہ قبرستان میں عمل میں آئی تھی۔ اُن کے پوتا، پوتی، نواسے،نواسیاں آج بھی سکندرآباد میں رہائش پذیر ہیں۔
ملیریاسے متعلق ریسرچ میں ڈاکٹر پلائی نے ڈاکٹر رونالڈ روس کی معاونت کی۔ درحقیقت یہ ڈاکٹر پلائی ہی تھے جنہوں نے ڈاکٹر رونالڈ کی توجہ ’ زنانی انوفیلس ‘ مچھر کی ایک نئی قسم کی جانب مبذول کروائی۔
ڈاکٹر ڈی وی سبا ریڈی جنہوں نے ’’انڈین جرنل آف دی ہسٹری آف میڈیسن‘‘ نامی کتاب 1957ء میں تصنیف کی جس میں انہوں نے نشاندہی کی کہ ’’ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ ڈاکٹر رونالڈ اپنے معاون ڈاکٹر رتنم پلائی کا نام بھول گئے جنہوں نے مچھر کی ایک نئی قسم کی جانب اُن کی توجہ مبذول کروائی تھی جو دیوار پر موجود تھا۔ یہی نہیں بلکہ ڈاکٹر پلائی نے قریب میں واقع ایک آبی ذخیرے سے حاصل کئے مچھروں کی ایک نئی قسم کی جانب بھی ان کی توجہ مبذول کروائی اور ان سے کہا تھا کہ وہ ان مچھروں کا مشاہدہ کریں۔ جنہیں ’’ پروں والے انوفیلس مچھر ‘‘ کہا گیا تھا۔
انگریزی اخبار ’ دکن کرانیکل ‘ کی 11ستمبر 1957ء کی اشاعت میں بھی اخبار کے ایڈیٹر نے مذکورہ بالا واقعہ من و عن قلمبند کیا تھا کہ کس طرح ڈاکٹر پلائی نے ڈاکٹر رونالڈ کی توجہ مچھروں کی ایک نئی قسم کی جانب مبذول کروائی تھی جو دیوار پر موجود تھا اور پانی کے ذخیرہ سے حاصل کئے گئے مچھر بھی اُسی نئی قسم سے تعلق رکھتے تھے۔
سکندرآباد میں 2006ء میں ڈاکٹر پلائی کی دو سو سالہ تقریبات منائی گئی تھیں جس میں ڈاکٹر رتنم پلائی کے مضامین اور تصاویر کی نمائش کے ذریعہ اُن کے کارناموں کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں ’’ انڈین جرنل آف دی ہسٹری آف میڈیسن ‘‘ نامی کتاب میں بھی ’ دکن کرانیکل ‘ کی 11ستمبر 1957ء کی شائع کردہ رپورٹ کا اقتباس کچھ اس طرح ہے۔
’’ اس موضوع پر تبصرہ کرتے ہوئے ’ دکن کرانیکل‘ کے ایڈیٹر نے اس واقعہ پر کچھ یوں روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرنل رونالڈ روس اپنے اُس معاون کا نام بھول گئے جس نے ہاسپٹل میں اُن کے مختلف کاموں میں اُن کی معاونت کی تھی۔ وہ کوئی اور نہیں بلکہ ڈاکٹر رتنم پلائی ( آئی ایم ڈی ) تھے جنہوں نے نہ صرف مچھر کی ایک نئی قسم کی جانب رونالڈ روس کی توجہ مبذول کروائی بلکہ قریب کے آبی ذخیرہ میں موجود اُسی نوعیت کے مچھروں کی بھی نشاندہی کی۔ ڈاکٹر رتنم پلائی رویا پورم میڈیکل اسکول کے گریجویٹ تھے جسے ’’ کانجی تھوٹی ہاسپٹل ‘‘ میڈیکل اسکول کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ برما کی جنگ میں انہوں نے ہندوستانی فوجیوں کی خدمات انجام دیں اور اپنی بیش بہا خدمات کیلئے متعدد تمغے حاصل کئے اور انہیں صوبیدار میجر کے عہدہ پر ترقی دی گئی۔ حالانکہ ڈاکٹر پلائی پستہ قد تھے لیکن ذہانت کے معاملہ میں بلند قامت تھے۔ وہ مزاح کی حِس بھی رکھتے تھے اور حاضر جواب بھی تھے۔ انہوں نے اپنی ریٹائرڈ زندگی سکندرآباد میں گزاری۔
ڈاکٹر رتنم پلائی کے پوتا۔ پوتی یا نواسہ۔ نواسی ( گرانڈ چلڈرن)1۔ شیلا پی،2۔ شرلے پی،3۔ فرینکلن پی،4۔ سیموئل پی شامل ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT