Monday , December 11 2017
Home / دنیا / صومالیہ میں مُردہ خانوں اور فارنسک سہولیات کا فقدان

صومالیہ میں مُردہ خانوں اور فارنسک سہولیات کا فقدان

ہلاکتوں کی تعداد 358 ہوگئی
تقریباً 100 افراد کی ناقابل شناخت نعشوں کی عاجلانہ تدفین
امریکہ ، ترکی ، قطر اور کینیا سے ادویات اور ڈاکٹرس کی سربراہی
الشباب کو نیست و نابود کرنے صدر محمد عبداللہی محمد کا عزم
موگادیشو ۔ 21 اکتوبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) صومالیہ کی تاریخ میں ہوئے بدترین دھماکوں میں جو دارالخلافہ موگادیشو میں ایک ٹرک بم کے ذریعہ کئے گئے تھے، ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 358 ہوگئی جبکہ زخمیوں کی تعداد میں مزید 228 افراد کا اضافہ ہوگیا۔ یاد رہے کہ ایک ٹرک جس میں دھماکو اشیاء لدی ہوئی تھیں ، ہوذان علاقہ میں 14 اکتوبر کو دھماکہ کے ساتھ پھٹ گیا ۔ ہوذان ایک کمرشیل علاقہ ہے اور دھماکے سے آس پاس کی 20 عمارتوں کو نقصان پہنچا جبکہ کئی لوگ اتنی بری طرح جھلس گئے کہ اُن کی شناخت بھی مشکل ہوگئی ۔ اس سانحہ کی تحقیقات کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرک مںے کم سے کم 500 کیلو دھماکو اشیاء لدی ہوئی تھی ۔ تازہ ترین اعداد و شمار اس طرح ہیں۔ 358 افراد ہلاک ، 228 زخمی اور 56 افراد لاپتہ جبکہ بری طرح جھلسے ہوئے 122 افراد کو ترکی ، سوڈان اور کینیا روانہ کیا گیا ہے تاکہ اُن کاوہاں بہتر علاج ہوسکے ۔ صومالیہ کے وزیراطلاعات عبدالرحمن عثمان نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد ابتداء میں بالترتیب 276 اور 300 بتائی گئی تھی لیکن اب اُن میں قابل لحاظ اضافہ ہوا ہے ۔ امریکہ ، قطر ، ترکی اور کینیا سے ادویات سے لدے کئی طیارے اور ڈاکٹرس موگادیشو بھیجے گئے ہیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ہلاکتوں کی صحیح تعداد ہنوز نامعلوم ہے کیونکہ یہاں کے لوگ ہلاک ہونے والوں کی فوری تدفین کررہے ہیں ۔ حالانکہ اب تک اس خونریز دھماکہ کی کسی بھی تنظیم نے ذمہ داری نہیں لی ہے لیکن سمجھا یہ جارہا ہے کہ القاعدہ سے مربوط الشباب نامی دہشت گرد تنظیم ہی دھماکہ میں ملوث ہوسکتی ہے کیونکہ موگادیشو میں الباب کی جانب سے اکثر و بیشتر خودکش دھماکے کئے جاتے ہیں جو دراصل صومالیہ کی عالمی سطح پر تائید والی حکومت کا تختہ پلٹنا چاہتی ہے ۔

الشباب گروپ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ دہشت گردانہ حملوں کے بعد اُس کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی بلند بانگ دعوے کرتا ہے تاہم دہشت گردانہ حملے اتنے شدید نوعیت کے ہوتے ہیں کہ اُن کی عالمی سطح پر مذمت کی جاتی ہے ۔ تقریباً 100 افراد ایسے ہیں جن کی تعدفین بھی ہوچکی ہے کیونکہ اُن کی نعشیں اس قدر مسخ ہوچکی تھیں کہ اُن کی شناخت ناممکن ہوگئی تھی اور حکام کے پاس نعشوں کی تدفین کے سوائے کوئی اور متبادل نہیں تھا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ مذہب اسلام میں مرنے والوں کی جلد تدفین کی جاتی ہے اس نکتہ کو مدنظر رکھتے ہوئے نعشوں کی عاجلانہ تدفین کردی گئی کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو نعشوں سے اُٹھنے والا تعفن ناقابل برداشت ہوجاتا ہے اور اُس سے بیماریاں پھوٹ پڑنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے ۔ سب سے اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ صومالیہ حکومت کے پاس نعشوں کو رکھنے کیلئے مردہ خانے نہیں ہیں اور نہ ہی فارنسک سہولت ہے جس کے ذریعہ ناقابل شناخت نعشوں کی بھی شناخت ہوجاتی ہے ۔ دوسری طرف صومالیہ کے صدر محمد عبداللہی محمد نے چہارشنبہ کو ایک اہم بیان دیا تھا کہ الشباب کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی ۔ انھوں نے کہاکہ صومالیہ میں کئے گئے دھماکے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ الشباب کے خاتمہ کیلئے ہم نے ( صومالی حکومت ) اطمینان بخش کارروائیاں نہیں کیں۔ اگر اتنے بڑے سانحہ پر بھی ہم نے سخت ردعمل کا اظہار نہیں کیا تو ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ ہمارے جسم کے ٹکڑے بھی اِدھر اُدھر بکھرے پڑے ہوں گے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم متحد ہوجائیں اور الشباب کے خلاف ایسی لڑائی چھیڑیں جس سے اُس کا خاتمہ ہوجائے کیونکہ اس خطرناک تنظیم کے لوگوں نے قتل عام کا سلسلہ عرصۂ دراز سے جاری رکھا ہے۔ البتہ اب تک یہ معلوم نہیں ہوا ہے کہ صرف آٹھ ماہ قبل برسراقتدار آئے فرباجو جو خود بھی الشباب کو نیست و نابود کرنے کا عزم رکھتے ہیں ، دہشت گرد تنظیم کو اتنی شدید نوعیت کے حملے کرنے سے روکنے کیا حکمت عملی بنارہے ہیں ۔ یاد رہے کہ صومالیہ میں قبل ازیں بدترین حملہ اکتوبر 2011 ء میں کیا گیا تھا جس میں 82 افراد ہلاک اور 120 افراد زخمی ہوئے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT