Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / صومالیہ کی تاریخ کا بدترین بم دھماکہ، 300افراد ہلاک

صومالیہ کی تاریخ کا بدترین بم دھماکہ، 300افراد ہلاک

l ہاسپٹلس میں چیخ و پکار اور آہ و بکا کے علاوہ ہر طرف خون کی بو
l صدر محمد عبداللہٰی محمد کا تین دنوں کے سوگ اور خون کا
عطیہ کرنے کا اعلان
l امریکہ، فرانس ترکی اور اقوام متحدہ نے حملے کی مذمت کی، ترکی
کی جانب سے طبی امداد روانہ

موگادیشو ۔ 16 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) صومالیہ کی تاریخ میں اب تک ہونے والے بدترین بم دھماکے میں 300 سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی 300 بتائی گئی ہے۔ صومالیہ کے وزیراطلاعات نے آج صبح یہ بات بتائی اور افسوس کا اظہار کیا کہ اس افریقی ملک میں آج تک کسی بھی واحد بم دھماکے میں اتنی زیادہ ہلاکتیں پہلی بار ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال اتنی سنگین ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ اپنے ایک ٹوئیٹ میں عبدالرحمن عثمان نے بم دھماکے کو انتہائی بربریت سے تعبیر کرتے ہوئے بتایا کہ ترکی اور کینیا نے پہلے ہی طبی امداد پہنچانے کا وعدہ کیا ہے۔ ٹرک دھماکہ ایک ایسے مقام پر کیا گیا جو عام طور پر بھیڑبھاڑ والا علاقہ ہوتا ہے۔ مزید برآں یہاں مختلف وزارتوں بشمول امورخارجہ کے دفاتر بھی واقع ہیں۔ اس دھماکے کے بعد کثیر تعداد میں ہوئی ہلاکتوں کو دیکھ کر عوام برہم ہوگئے جبکہ صومالیہ کی حکومت نے اس حملے کیلئے القاعدہ سے ملحقہ الشباب انتہاء پسند گروپ کو موردالزام ٹھہرایا ہے اور اسے قومی سانحہ سے تعبیر کیا۔ حالانکہ اب تک انتہائی خونخوار سمجھے جانے والے افریقہ کے اس اسلامی گروپ نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے جبکہ ماضی میں اس گروپ نے کئی اہم علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ جاریہ سال کے اوائل میں الشباب نے ٹرمپ انتظامیہ اور صومالیہ کے حال ہی میں منتخبہ صدر کی جانب سے الشباب کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے عزم کے بعد حملوں میں اضافہ کردیا تھا۔ اس دھماکہ کو 2015ء میں کینیا کی گاریسا یونیورسٹی اور 1998ء میں کینیا اور تنزانیہ میں واقع امریکی سفارتخانوں کے حملوں سے بھی بدترین قرار دیا گیا ہے۔ اس وقت موگادیشو کے ہاسپٹلس میں ڈاکٹرس زخمیوں کا علاج کرنے میں مصروف ہیں جبکہ کئی افراد اتنے زیادہ جھلس چکے ہیں کہ ان کی شناخت مشکل ہوگئی ہے لیکن چونکہ سانس چل رہی ہے تو ڈاکٹرس بھی اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس موقع پر مدینہ ہاسپٹل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد یوسف نے کہا کہ یہ حملہ ماضی میں کئے گئے کسی بھی حملہ کے مقابلہ شدید ترین ہے جس کا اندازہ ہلاکتوں کی تعداد سے لگایا جاسکتا ہے۔ ہاسپٹل میں ایسے زخمیوں کو لایا جارہا ہے جن کے مختلف اعضاء بم دھماکے میں اڑ چکے ہیں۔ کسی کا ہاتھ نہیں ہے، کسی کا پیر نہیں ہے اور ہاسپٹل کے ہر وارڈ میں چیخ و پکار مچی ہوئی ہے کیونکہ زخمی بری طرح کراہ رہے ہیں اور وہاں موجود ان کے رشتہ دار انہیں دیکھ کر آہ و بکا کررہے ہیں۔ دریں اثناء ایک نرس سمیر عابدی نے بتایا کہ جتنے بھی زخمی ہاسپٹل میں لائے گئے ہیں، ان میں سب لوگ شدید طور پر زخمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالات اتنے سنگین ہیں کہ ہر طرف دہشت کا ماحول ہے اور پورے ہاسپٹل میں خون کی بو پھیلی ہوئی ہے۔ سارے شہر میں ایمبولینس کے سائرنس بجتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں جبکہ مختلف منہدمہ عمارتوں کے ملبہ میں پریشان حال اپنے رشتہ داروں کو تلاش کررہے ہیں۔ آمین ایمبولینس سرویس نے بھی اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ ان کا کام ہی زخمیوں کی امداد کرنا ہے لیکن اس نوعیت کی تباہ کاری ہم نے بھی کبھی نہیں دیکھی۔ چار بچوں کی ماں زینب شریف نے کہا کہ اس کا سب کچھ لٹ گیا کیونکہ دھماکے میں اس کا شوہر ہلاک ہوچکا ہے۔ دریں اثناء ملک کے صومالی۔ امریکی صدر محمد عبداللہٰی محمد ملک میں تین دنوں کے سوگ کا اعلان کیا ہے اور مختلف ہاسپٹلس کی جانب سے خون کے عطیہ کیلئے کی جانے والی پہل میں خود بھی شامل ہوگئے اور کہا کہ تمام صومالی عوام سے وہ استدعا کرتے ہیں کہ خون کے عطیہ کیلئے آگے آئیں اور اپنے ہم وطنوں کی جان بچائیں۔ دریں اثناء اقوام متحدہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور ترکی کے علاوہ دیگر ممالک نے بھی اس خونریز بم دھماکہ کی زبردست مذمت کی ہے۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہیکہ امریکہ اس دردناک سانحہ پر صومالی حکومت اور عوام کے ساتھ ہے۔ ہم اس دھماکہ کی انتہائی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ دوسری طرف صدر ترکی رجب طیب اردغان کے ترجمان ابراہیم کالین نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے طبی امداد فراہم کی جارہی ہے اور ادویات لیکر کئی طیارے روانہ ہوئے ہیں جبکہ شدید زخمیوں کو ترکی لاکر ان کا مؤثر علاج کیا جائے گا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT