Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ سے فروخت پر اثر

ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ سے فروخت پر اثر

رمضان المبارک میں قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ، عوام کی قوت خرید سے باہر
حیدرآباد۔14جون (سیاست نیوز)  ریاست میں اسکولوں کی کشادگی کے ساتھ ہی بازاروں میں گہما گہمی بڑھ گئی ۔ ریاست میں ماہ رمضان اور اسکولوں کے آغاز سے تاجرین میں کچھ حد تک مایوسی پائی جاتی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ آئندہ چند یوم کے دوران حالات میں تبدیلی رونما ہوگی۔ شہرحیدرآباد میں بازاروں کی رونق میں ہورہے اضافہ کے باوجود گاہکوں کی تعداد میں اضافہ نہ ہونے کی وجوہات کے متعلق تاجرین کا کہنا ہے کہ اسکولوںکی کشادگی کے سبب رمضان کی خریداری پر کچھ حد تک اثر ہوا ہے لیکن اس سے زیادہ اثر اچانک ترکاری و دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ کے سبب عوام کی قوت خرید میں گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے اس پر اسکولوں کے اخراجات نے عوام کو بے بس کر دیا ہے۔ ما رمضان المبارک کے دوران قیمتوں میں اضافہ کو روکنے کا کوئی میکانزم نہ ہونے کے سبب صورتحال ابتر ہوتی جا تی ہے لیکن اس سال اسکولوں کے اخراجات کے ساتھ ساتھ مہنگائی کی مار سے عوام سنبھل نہیں پا رہے ہیں۔ ریاست میں 13جون سے اسکولوں کے آغاز کے ساتھ ہی خانگی اسکولوں میں کتب کی خریدی کیلئے دباؤ اور فیس کی ادائیگی کیلئے دباؤ کے آگے والدین بے بس ہو چکے ہیں اور وہ اپنے بچوں کی تعلیم کو اولین ترجیح دیتے ہوئے اسکولی ضروریات کی تکمیل پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ رمضان المبارک کے لئے لگائے گئے خصوصی بازاروں کی جانب متوجہ نہیں ہو رہے ہیں۔ تاجرین با لخصوص اشیائے خورد و نوش فروخت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ماہ رمضان کے آغاز سے ہی بازار میں مندی دیکھی جا رہی ہے جس کی بنیادی وجہ ہوٹل والوں کی نظر میں مہنگائی ہے۔ مہنگائی کے سبب عوام ضروری اجناس اور اشیائے ضروریہ کی خریدی اور عید تک کی خریداری کر چکے ہوتے ہیں اسی لئے حالات کا اندازہ فوری طور پر کیا جانا مشکل لگ رہا ہے۔ شہر میں موجود خانگی تعلیمی اداروں کی جانب سے کتابوں کے نصاب مخصوص دکانوں تک پہنچا دیئے جانے کے باعث چند کتابوںکی دکانوں پر کافی گہما گہمی دیکھی جا رہی ہے اور بعض اسکولوں کے یونیفارمس مخصوص دکانات میں دستیاب ہونے کے سبب ان جگہوں پر بھی کافی بھیڑبھاڑ نظر آرہی ہے۔افطار کے فوری بعدکے اوقات میں جہاں شہر میں حلیم کی ہوٹلوں پر بھیڑ بھاڑ ہوا کرتی تھی اب وہ بھیڑ بھاڑ اڈلی ‘ دوسے کی ٹھیلہ بنڈیوں پر نظر آنے لگی ہے ‘ جس کی بنیادی وجہ بتایا جاتا ہے کہ قیمتوں میں ہوئے اضافہ کے سبب لوگ اڈلی ‘ دوسے کا رخ کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT