Monday , November 20 2017
Home / ہندوستان / ضعیف والدین سے بدسلوکی پر عدالت کا انتباہ

ضعیف والدین سے بدسلوکی پر عدالت کا انتباہ

نئی دہلی 24 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے آج کہاکہ تاریخ خود کو دہراتی ہے اور ایک شخص کو متنبہ کیا جو اپنے بھائی کے ساتھ ملکر اپنے والدین سے بدسلوکی کے الزامات کا سامنا کررہا ہے۔ کارگذار چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس انو ملہوترہ کی بنچ نے دونوں بھائیوں سے کہاکہ جس طرح وہ اپنے والدین سے برتاؤ کئے وہی سلوک اُن کے بچے اُن کے ساتھ کرسکتے ہیں۔ عدالت نے کہاکہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ اِس کیس کے محاسن پر تبصرہ سے قطع نظر یہ زندگی کی حقیقت ہے۔ جو کچھ آگ اپنے والدین کے ساتھ کرو گے آپ کو آپ کے بچے وہی واپس لوٹائیں گے۔ تم کیوں اپنے والدین کو اُن کی ضعیف العمری میں امن و سکون سے رہنے نہیں دیتے۔ عدالت کا یہ اخلاقی درس اُس عرضی کی سماعت کے دوران سامنے آیا جو دونوں بھائیوں میں سے ایک نے سنگل جج رولنگ کے جواز کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کی ہے کہ والدین اپنے بالغ بچوں کو جو اُنھیں ستائیں اپنے گھر سے نکال باہر کرسکتے ہیں۔ سنگل جج نے 15 مارچ کو فیصلہ سنایا تھا کہ جب تک والدین کا جائیداد پر قانونی قبضہ ہے چاہے وہ خود کی حاصل کردہ ہو یا وراثت میں ملی ہو، وہ اپنے ناخلف بالغ بچوں کو گھر سے نکال سکتے ہیں۔ یہ رولنگ دو بھائیوں کی اپیل پر صادر کی گئی جن میں سے ایک شرابی پولیس ملازم ہے جس نے متعلقہ ٹریبونل کے اکٹوبر 2015 ء کے حکمنامے کے جواز کو چیلنج کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT