Wednesday , May 23 2018
Home / اضلاع کی خبریں / ضلعی ہاسپٹل گلبرگہ میں دو نومولود بچوں کی شناخت میں الجھن

ضلعی ہاسپٹل گلبرگہ میں دو نومولود بچوں کی شناخت میں الجھن

پولیس کی مداخلت سے مسئلہ عارضی طور پر حل
گلبرگہ 22 ڈسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلعی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس گلبرگہ مسٹر این ششی کمار کی مداخلت سے گورنمینٹ جنرل ہاسپٹل ، گلبرگہ میں ایک ہی دن پیدا ہونے دو نومولود بچوں کی شناخت کا مسئلہ منگل کی شام عارضی طور پر حل کرلیا گیا ۔ ایس پی ششی کمار نے کہا کہ موضع کونسی رسگی تعلقہ گلبرگہ کی خاتون نند اماں اور موضع کادم گیرا تعلقہ شاہ پور کی خاتون نجمہ بیگم دونوں 15 ڈسمبر کو گلبرگہ کے ضلعی سرکاری ہسپتال میں شریک کرلی گئی تھیں ۔ وہاں ان دونو ںکی زچگی ہوئی تھی ۔ ہسپتال کے اسٹاف نے پہلے نند اماں کو یہ دکھایا کہ اسے لڑکا ہوا ہے ۔ لیکن بعد میں انھوں نے کہا کہ ان سے غلطی ہوئی ہے ۔ انھوں نے نند اماں کو بتایا کہ دراصل اسے لڑکی تولد ہوئی ہے جبکہ نجمہ بیگم کو لڑکا پیدا ہوا ہے ۔ جمعہ کے دن سے دونوں خواتین الجھن میں پڑ گئیں ۔ نند اماں نے نومولود لڑکی کو اپنا دودھ پلانے سے انکار کردیا اور اسی طرح نجمہ بیگم نے بھی لڑکی کو دودھ پلانے سے انکار کردیا ۔ اس کے بعد ہسپتال کے ذمہ داران نے ان دونوں نومولد بچوںکو بچوںکے وارڈ میں رکھتے ہوئے اپنی نگرانی میں لے لیا ۔ منگل کے دن دونوں نومولود بچوںکے والدین کے خون کی جانچ کی گئی ۔ نند اماں اور اس کے شوہر کا خون کا گروپ اور نومولد لڑکی کے خون کے گروپ کی A پازیٹیو کی حیثیت سے جانچ ہوئی ۔ نجمہ بیگم ، اس کے شوہر اور نومولود لڑکے کے خون کی جانچ B پازیٹیو کی حیثیت سے کی گئی ۔ لیکن نند اماں اس کا شوہر اور والدین بلڈ گروپ رپورٹ کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہوئے ۔ انھوں نے ڈاکٹروں سے کہا کہ وہ نومولود لڑکی کو لینے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ آخر کار اس معاملہ میں ڈاکٹروں نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ششی کمار سے ربط پیدا کیا ۔ انھوں نے دونوں نومولود بچوں کے والدین سے بات چیت کی اور انھیں بھروسہ دلایا ۔ انھوں نے نند اماں کے شوہر سے کہا کہ وہ نومولود لڑکی کو اپنی تحویل میں لیں ، اور اسی طرح نجمہ کے شوہر سے کہا کہ وہ نومولود لڑکے کو اپنی تحویل میں لیں ۔ پھر انھوں نے ان دونوںکی بیویوں سے کہا کہ وہ فوری طور پر ان نومولود بچوں کو دودھ پلانا شروع کردیں ۔ ان بچوں کا خیال رکھیں ۔ انھوں نے نند اماں کے شوہر سے کہا کہ وہ پولیس میں ایک شکایت داخل کریں اور اس واقعہ کی تفصیلات بتانے کے ساتھ ساتھ ڈی این اے ٹیسٹDNA ٹسٹ کروانے کی درخواست کریں ۔ پولیس ضلعی ہسپتال سے سفارش کرے گی کہ وہ ڈی این اے ٹسٹ کرائے ۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ خواتین اور بچوںکے خون کی کسی اور جگہ جانچ کرواکر مسئلہ کا حل نکالا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT