Tuesday , September 25 2018
Home / اضلاع کی خبریں / ضلع محبوب نگر میں تلگودیشم پارٹی کا موقف کمزور

ضلع محبوب نگر میں تلگودیشم پارٹی کا موقف کمزور

مزید تین ارکان اسمبلی کی دوسری پارٹیوں میں چھلانگ لگانے کی کوشش

مزید تین ارکان اسمبلی کی دوسری پارٹیوں میں چھلانگ لگانے کی کوشش

محبوب نگر /18 مارچ ( ایم اے مجیب کی رپورٹ ) عام انتخابات سے عین قبل ضلع میں تلگودیشم پارٹی کا موقف روز بہ روز کمزور ہوتا جارہا ہے ۔ گذشتہ عام انتخابات میں ضلع کے 14 اسمبلی حلقہ جات میں سے 9 ایم ایل ایز تلگودیشم کے منتخب ہوئے تھے جن میں سے تاحال 3 ایم ایل ایز نے پارٹی کو خیرباد کہہ دیا ہے ۔ ناگر کرنول کے ایم ایل اے ناگم جناردھن ریڈی نے علحدہ تلنگانہ کیلئے پارٹی اور اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دے دیا تھا دوبارہ انتخاب جیتا اور اب بی جے پی میں شامل ہوگئے ۔ نارائن پیٹ اور کلواکرتی کے ایم ایل ایز یلاریڈی ، جئے پال یادو نے حال ہی میں ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ تلگودیشم کیلئے باوثوق ذرائع سے ملنے والی خبر جھٹکہ سے کم نہیں ہے کہ مزید 3 ایم ایل ایز بھی دیگر پارٹیوں میں چھلانگ لگانے کی تیاری میں ہیں ۔ پارٹی کا ایم ایل اے خود جب دوسری پارٹی میں شامل ہوجاتا ہے تو پارٹی کیسے مستحکم رہ سکتی ہے ۔ علحدہ تلنگانہ پر تلگودیشم کا غیر واضح موقف تلنگانہ عوام کیلئے ناراضگی کا سبب بنا تھا ۔ اس موجودہ صورتحال میں ضلع کے تلگودیشم اراکین اسمبلی کا جھکاؤ دوسری پارٹیوں کی جانب ہوچکا ہے ۔ یہ ایم ایل ایز عوامی برہمی سے بچتے ہوئے اپنے سیاسی وجود کو باقی رکھنے کوشاں ہیں ۔ حال ہی میں تلگودیشم سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے سینئیر قائد وائی یلاریڈی کو ٹی آر ایس نے مکتھل سے امیدوار بنانے کا اعلان کیا ۔

ٹھیک اسی طرح کلواکرتی کے جئے پال یادو نے بھی ٹی آر ایس میں شامل ہوتے ہوئے کلواکرتی سے ہی اپنا ٹکٹ پکا کرلیا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ علحدہ تلنگانہ تحریک سے مذکورہ بالا قائدین دور ہی رہے تھے اور حصول تلنگانہ کے بعد ٹی آر ایس میں شامل ہوتے ہوئے ووٹ کیلئے پھر سے عوام کے سامنے ہیں ۔ اب وقت ہی بتائے گا کہ عوام ان کے حق میں کیا فیصلہ دیتے ہیں ۔ باقی ماندہ تلگودیشم کے ایم ایل ایز آر چندرا شیکھر ریڈی ونپرتی ، دیاکر ریڈی مکتھل ، ستیادیاکر ریڈی دیورکدرہ ، پی راملو اچم پیٹ ، ریونت ریڈی کوڑنگل اور ایرہ شیکھر جڑچرلہ میں سے بھی 3 ایم ایل ایز دیگر جماعتوں میں شمولیت کیلئے پرتول رہے ہیں ۔ ٹی ڈی پی سربراہ این چندرا بابو نائیڈو نے پی راملو ایم ایل اے اچم پیٹ کو این ٹی آر ٹرسٹ بھون طلب کرتے ہوئے پارٹی نہ چھوڑنے کا مشورہ دیا اوران کو تلنگانہ تلگودیشم پارٹی کا ممبر بنانے کا اعلان کیا ۔ اندرون 3 یوم یہ تجسس ختم ہوجائے گا کہ کتنے ایم ایل ایز تلگودیشم چھوڑدیں گے ۔ ضلع میں تلگودیشم کی اس ابتر صورتحال کے پیش نظر ضلع کی اسمبلی نشستوں کیلئے امیدواروں کی کمی کا خدشہ تک محسوس کیا جانے لگا ہے ۔ بلدی انتخابات میں بھی اکثر ٹی ڈی پی قائدین اور کارکنان ٹی آر ایس کا ٹکٹ لے کر میدان میں ہیں ۔ ضلع کے 8 بلدیات میں کئی وارڈز ایسے ہیں جہاں تلگودیشم کا امیدوار ہی نہیں ہے ۔ بظاہر کمزور نظر آنے والی تلگودیشم کو عام انتخابات میں عوام کس درجہ پر رکھیں گے وہ نتائج سے ہی ظاہر ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT