Wednesday , January 24 2018
Home / اضلاع کی خبریں / ضلع نظام آباد میں انتخابی مہم کا اختتام

ضلع نظام آباد میں انتخابی مہم کا اختتام

تشکیل تلنگانہ کی دعویداری پر کانگریس اور ٹی آر ایس میں مقابلہ

تشکیل تلنگانہ کی دعویداری پر کانگریس اور ٹی آر ایس میں مقابلہ

نظام آباد:28؍ مارچ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)ضلع نظام آباد میں بلدی انتخابات مہم کا آج شام 5 بجے اختتام عمل میں آیا۔ انتخابات سے 48 گھنٹے قبل انتخابی مہم کا اختتام عمل میں آیا۔ ضلع نظام آباد کے نظام آباد میونسپل کارپوریشن کے علاوہ کاماریڈی ، بودھن ، آرمور کے 3 بلدیہ ہے نظام آباد میونسپل کارپوریشن کے 50 ڈویژنوں میں جملہ 414 امیدوار انتخابات میں حصہ لیا ہے اور 2لاکھ 71ہزار 545 رائے دہندے ان امیدواروں کے حق میں اپنا فیصلہ 30؍ مارچ کے روز کریں گے کاماریڈی میونسپل میں 33 وارڈوں میں جملہ 184 امیدوار میدان میں ہے اور کاماریڈی بلدیہ کے 33 وارڈوں میں جملہ63,557 رائے دہندے ہیں بلدیہ بودھن کے 35وارڈوں میں 317 امیدوار میدان میں ہے اور 35 وارڈوں میں 51,675 رائے دہندے ہیں آرمور کے بلدیہ میں 23 وارڈوں میں 141 امیدوار میدان میں ہے اور34,666 رائے دہندے ہیں ۔ بلدیہ انتخابات میں کانگریس ، ٹی آرایس کے علاوہ تلگودیشم، وائی ایس آر سی پی ، سی پی آئی ایم ، لوک ستہ ، سی پی آئی اوردیگر مقابلہ کررہی ہے اپنے اپنے پارٹیوں کی کامیابی کیلئے آج آخری روزانتخابی مہم چلائی شہر نظام آباد میں کانگریس کے اعلیٰ قائد ڈی سرینواس 50 ڈویژنوں میں کامیابی کیلئے منصوبہ بند طریقہ سے انتخابی مہم چلائی تو تلگودیشم کی جانب سے تلگودیشم صدر وی جی گوڑ، ارکلہ نرساریڈی نے انتخابی مہم حصہ لیا۔

ٹی آرایس کی جانب سے ٹی آرایس اراکین اسمبلی کے علاوہ صدر تلنگانہ جاگرتی کے کویتا نے انتخابی مہم حصہ لیا ۔کاماریڈی میں سابق ریاستی وزیر محمد علی شبیراور ٹی آرایس کی جانب سے رکن اسمبلی گمپا گوردھن ، کے کویتا، ایم کے مجیب الدین کے علاوہ دیگر پارٹیوں نے انتخابی مہم چلائی۔ ضلع انتظامیہ کی جانب سے پہلی مرتبہ الیکشن کمیشن کے احکامات کے مطابق قواعد کی عمل آوری کرتے ہوئے دیکھاگیا اور پولیس نے بھی انتخابات پر سخت نگاہ رکھی ہوئی تھی جس کی وجہ سے وارڈوں میں کوئی انتخابی تحریر، فلکسیاں، بیانرس، نصب نہیں کئے گئے تھے اور چند جگہوں پر انتخابات کی سرگرمیاں تک بھی نہیں دیکھی گئی جس کی وجہ سے رائے دہندوں کا رحجان کا بھی اندازہ لگانا بھی مشکل ہورہا تھاتلنگانہ قیام کے بعد پہلی مرتبہ ہونے والے انتخابات میں کانگریس ، ٹی آرایس دونوں کامیابی کے دعویٰ پیش کررہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT