ضلع نظام آباد کے ہاسٹلوں میں دھاندلیاں

موثر نگرانی نہ ہونے کے باعث عہدیداروں کی لوٹ مار ۔اے سی بی تحقیقات میں انکشاف

موثر نگرانی نہ ہونے کے باعث عہدیداروں کی لوٹ مار ۔اے سی بی تحقیقات میں انکشاف
نظام آباد:3 ؍ اگست(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع نظام آباد کے سوشیل ویلفیر ہاسٹل کی دھاندلیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اس کے دھاندلیوں کو ختم اور طلباء کو بہتر سے بہتر سہولتوں کی فراہمی کیلئے حکومت کی جانب سے اقدامات ناگزیر قرار دیتے ہوئے اے سی بی ڈی ایس پی مسٹر سنجیو رائو نے حکومت سے سفارش کی ہے۔ ضلع کے سوشیل ویلفیر ہاسٹلوں کی دھاندلیوں پر اے سی بی کی جانب سے مکمل تحقیقات کیلئے ان ہاسٹلوں کا اچانک دورہ کرتے ہوئے تفصیلی جائزہ لینے کے علاوہ ضلع کے تمام ہاسٹلوں کی کار کردگی کے بارے میں اے سی بی ڈی ایس پی مسٹر سنجیو رائو نے صحافیوں کو واقف کراتے ہوئے بتایا کہ ضلع نظام آباد میں جملہ 126 ہاسٹل ہے ان میں 70 ایس سی ہاسٹل، 40 بی سی ہاسٹل ،16 ایس ٹی ہاسٹل ہے ان میں 15000طلباء و طالبات قیام پذیر ہیں ان طلباء کو حکومت کی جانب سے طعام و قیام کے علاوہ ملبوسات، ضروری اشیاء اور طالبات کیلئے ٹرانسپورٹ چارجنگ کے تحت 75 روپئے اور طلباء کو 65 روپئے فراہم کیئے جاتے ہیں ہر سال کروڑوں روپئے خرچ کرتے ہوئے طلباء کو بہترسے بہتر تعلیم فراہم کا حکومت کا بنیادی مقصد ہے لیکن محکمہ سوشیل ویلفیر کے عہدیدار حکومت کی جانب سے دی جانے والی سہولتوں کا طلباء کو فائدہ پہنچانے کے بجائے ذاتی طورپر فائدہ حاصل کررہے ہیں اور کئی دھاندلیاں کرنے کا آگے تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے۔ طلباء کو دئیے جانے والے کھانے، کاسمٹک چارجس، ترکاری کی خریدی اور اشیاء کی خریدی میں زبردست دھاندلیاں کی جارہی ہیں۔ اے سی بی ڈی ایس پی مسٹر سنجیو رائو نے بتایا کہ ضلع سطح کے عہدیداروں کے ہاسٹلوں پر نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے ہاسٹل وارڈنس کی من مانی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے جس پر طلباء اے سی بی سے شکایت کرنا مناسب سمجھتے ہوئے اے سی بی سے شکایت کرنے کے بعد ہاسٹلوں کا جائزہ لیا گیا۔ ڈی ایس پی نے تفصیلات سے واقف کراتے ہوئے کہا کہ بودھن کے ایس ٹی ، بی سی ہاسٹلس کا جائزہ لیا گیا یہاں پرکئی دھاندلیاں سامنے آئی۔ ایس سی ہاسٹل کے وارڈن شریمتی رچناکی جگہ پر ان کے شوہر دیون کمار گوڑکام کررہے ہیں۔ اس ہاسٹل میں جملہ طلباء کی تعداد 115 رجسٹرمیں بتائی گئی اور تنقیح کے موقع پر صرف 60طلباء موجود تھے وہ ان تمام طلباء کیلئے ایک ہی حمام، ایک ہی بیت الخلاء اور نہ کوئی اسٹاک رجسٹراور نہ قواعد کی عمل آوری کی جارہی ہے۔ بی سی ہاسٹل کی تنقیح کرنے پر پتہ چلا کہ یہاں کوئی قواعد کی عمل آور ہورہی ہے طلباء کی تعداد 106 بتائی گئی تنقیح میں 75 طلباء کی تعداد تھی اور ان میں 20طلباء کو غیر حاضر بتایا گیااور 11 طلباء کو بغیر اندراج کے رکھا گیا ار یہ دونوں ہاسٹلس کے وارڈن نظام آباد کے سبھاش نگر کے کرانہ دکان سے اشیاء خریدنے کی بلیں پیش کررہے ہیںلیکن حقیقت اس کے برعکس ہے اس دکان سے کوئی سامان خریدا نہیں گیا اور ہر ماہ بل حاصل کرتے ہوئے مالک دکان کو 8 فیصد کمیشن ادا کرتے ہوئے روپئے حاصل کرلئے جارہے ہیں۔ اے سی بی ڈی ایس پی مسٹرسنجیو رائو نے بتایا کہ ایس سی ہاسٹلس کے واچمین نشہ کی حالت میں طلباء کو مارپیٹ کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے یہ شکایت بھی طلباء حاصل کرتے ہوئے میڈیکل سرٹیفکٹ بھی حاصل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بنیادی طورپر جائزہ نہ لینے کی وجہ سے اس طرح کے واقعات پیش آئے ہیں۔ سامان کی خریدی میں 2لاکھ روپئے کا کمیشن حاصل کیا گیا۔ ڈی ایس پی نے پوچھ تاچھ کی غرض سے دونوں وارڈن کو نظام آباد طلب کیا اور ان سے پوچھ تاچھ بھی کی۔ ہاسٹلوں میں ہونے والی دھاندلیوں کی مکمل رپورٹ حکومت اور ضلع کلکٹر کو پیش کرنے اور اس کا مکمل جائزہ لینے کی سفارش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔

TOPPOPULARRECENT