Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / ضلع نلگنڈہ میں 10 کروڑ مالیتی وقف اراضی پر ناجائز قبضے

ضلع نلگنڈہ میں 10 کروڑ مالیتی وقف اراضی پر ناجائز قبضے

خانگی افراد کی جانب سے رجسٹریشن کرانے تحصیلدار کا اعتراف و دوبارہ تحویل میں لینے کا اعلان
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : ضلع نلگنڈہ میں 10 کروڑ مالیت کی قیمتی 42.25 ایکڑ وقف اراضی پر ناجائز قبضہ کرتے ہوئے خانگی افراد نے غیر قانونی طور پر اس کا رجسٹریشن کرالیا ہے ۔ متعلقہ تحصیلدار نے وقف اراضی کا خانگی افراد کی جانب سے رجسٹریشن کرانے کا اعتراف کیا ہے ۔ اعلیٰ حکام سے اس کی شکایت کرتے ہوئے اراضی کو دوبارہ تحویل میں لینے کا اعلان کیا ہے ۔ آئے دن وقف اراضیات پر ناجائز قبضے ہورہے ہیں ایک اور واقعہ ضلع نلگنڈہ کے چنتا پلی منڈل میں واقع کورمیڈ موضع میں پیش آیا ہے ۔ جہاں سروے نمبر 140 ، 141 ، 145 ، 146 کی 42.25 ایکڑ وقف اراضی نہ صرف قبضہ ہوگئی ہے بلکہ خانگی افراد کی جانب سے اس کا رجسٹریشن بھی کرالیا گیا ہے ۔ جس کی مارکٹ قدر 10 کروڑ روپئے سے زیادہ بتائی گئی ہے ۔ وقف اراضی کا تحفظ وقف بورڈ اور متعلقہ تحصیلدار کی ذمہ داری ہے ۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عہدیداروں نے اراضی کے رجسٹریشن میں خانگی افراد کے ساتھ مکمل تعاون و اشتراک کیا ہے ۔ اس اراضی پر عبدالنبی کی جانب سے برسوں سے زراعت کی جارہی ہے اور اس سے ہونے والی آمدنی سے ہر سال محرم کا اہتمام کیا جاتا تھا ۔ جاریہ سال اگست میں عبدالنبی نے جملہ 42.25 ایکڑ اراضی ہمیں فروخت کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے حیدرآباد کے چند افراد نے اس کا غیر قانونی طور پر رجسٹریشن کرالیا ہے ۔ وقف اراضی رجسٹریشن کرانے والوں نے تحصیل آفس سے رجوع ہو کر پٹہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ تحقیقات کرنے کے بعد تحصیل آفس عہدیداروں نے اس کو وقف اراضی قرار دیتے ہوئے پٹہ پاس بک کی اجرائی سے انکار کردیا ۔ جس سے قیمتی وقف اراضی کا غیر قانونی رجسٹریشن ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ وقف اراضی کا غیر قانونی رجسٹریشن کرانے والے افراد پٹہ پاس بک حاصل کرنے کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے متعلقہ ریونیو عہدیداروں پر دباؤ ڈال رہے ہیں ۔ اس مسئلہ پر جب متعلقہ رجسٹریشن آفس کے عہدیداروں سے بات چیت کی گئی تو وہ گول مٹول جواب دے رہے ہیں ۔ اراضی خانگی افراد کی ہونے کا دعویٰ کرنے پر رجسٹریشن کرانے کا دعویٰ کررہے ہیں ۔ یہ اراضی امتناعی فہرست میں ہے یا نہیں اس کا جائزہ لینے کے بجائے رجسٹریشن کا عمل مکمل کرنا انتہائی افسوس کی بات ہے ۔ اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ گذشتہ 2 سال سے گاؤں میں محرم کا اہتمام نہ ہونے کی گاؤں کے عوام کی جانب سے وقف اراضی پر قبضہ ہوجانے کی اسٹیٹ وقف بورڈ آفس ضلع کلکٹر اور آر ڈی او کو شکایت کرنے کے باوجود کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے ۔ چنتا پلی منڈل کے تحصیلدار دیو داس نے اعتراف کیا کہ سروے نمبر 140 ، 141 ، 145 ، 146 کی جملہ 42.25 ایکڑ اراضی وقف ہے جس کو کوئی خرید سکتا ہے نہ کوئی فروخت کرسکتا ہے ۔ ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ اس وقف اراضی کا غیر قانونی رجسٹریشن کرایا گیا ہے اس اراضی کے دستاویزات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی کو پٹہ پاس بک دیا جائے گا ۔ مکمل تحقیقات کرتے ہوئے قصور واروں کے خلاف کارروائی کرنے اعلیٰ عہدیداروں کو رپورٹ دی جائے گی اور بہت جلد تمام اراضی کو تحویل میں لے لیا جائے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT