Sunday , September 23 2018
Home / اضلاع کی خبریں / ضلع چتور میں وائی ایس آر کانگریس کا شاندار مظاہرہ

ضلع چتور میں وائی ایس آر کانگریس کا شاندار مظاہرہ

مدن پلی۔/17مئی، ( محمد اشرف کی رپورٹ ) ضلع چتور کو آندھرا پردیش کی متحدہ ریاست میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ تلگودیشم کے سربراہ چندرا بابو نائیڈو کا آبائی مقام اور سابق وزیر اعلیٰ کرن کمار ریڈی کا آبائی مقام کے علاوہ یہاں کے قائدین متحدہ ریاست میں اہم کردار نبھاتے آرہے ہیں۔ ضلع کڑپہ سے متصل رہنے کی وجہ سے آنجہانی راج شیکھر ریڈی کے پرستا

مدن پلی۔/17مئی، ( محمد اشرف کی رپورٹ ) ضلع چتور کو آندھرا پردیش کی متحدہ ریاست میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ تلگودیشم کے سربراہ چندرا بابو نائیڈو کا آبائی مقام اور سابق وزیر اعلیٰ کرن کمار ریڈی کا آبائی مقام کے علاوہ یہاں کے قائدین متحدہ ریاست میں اہم کردار نبھاتے آرہے ہیں۔ ضلع کڑپہ سے متصل رہنے کی وجہ سے آنجہانی راج شیکھر ریڈی کے پرستاروں اور جگن موہن ریڈی کے حامیوںکی غالب آبادی ہے۔ ضلع چتور میں تین پارلیمانی نشستیں تروپتی، چتور اور راجم پیٹ ہیں۔ یہاں پر چتور اور تروپتی ریزروڈ ہونے کی وجہ سے راجم پیٹ پارلیمانی سیٹ کو اہمیت حاصل رہی ہے۔ چتور پارلیمانی حلقہ سے سابق رکن پارلیمان این سیوا پرساد نے 44ہزار سے زائد ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ چندرا بابو نائیڈو کا اسمبلی حلقہ بھی اسی پارلیمانی حلقہ میں رہنے کی وجہ سے شیوا پرساد کی کامیابی ہوئی ورنہ دوسرے حلقوں میں وائی ایس آر کے امیدوارسامنیا کرن کی اکثریت انہیں شکست دے سکتی تھی۔ تروپتی حلقہ سے سابق مرکزی وزیر چنتا موہن کانگریس کے امیدوار رہے۔ وی ورا پرساد وائی ایس آر کانگریس اور ٹی ڈی پی ۔ بی جے پی کی جانب سے کے جیا رام میدان میں رہے۔ کانگریس کے امیدوار کو ڈپازٹ بھی حاصل نہیں ہوئی۔ٹی ڈی پی۔ بی جے پی نے قوی امید لگارکھی تھی کہ تروپتی کی کامیابی ان کی جھولی میں ہوگی۔ تروپتی پارلیمانی حلقہ کے تحت آنے والے تروپتی، کلا ہستی، ستیہ ویڈو، وینکٹ گری میں تلگودیشم کی اکثریت کے باوجود کراس ووٹنگ کے ذریعہ وائی ایس آر کانگریس امیدوار پرساد کو 37 ہزار سے زائد اکثریت حاصل ہوئی۔ راجم پیٹ پارلیمانی حلقہ میں سے ٹی ڈی پی۔ بی جے پی کے مشترکہ امیدوار این ٹی آر کی دختر سابق کانگریس مرکزی وزیر پورندیشوری اور سابق ریاستی وزیر پیدی رام چندرا ریڈی کے فرزند پی متھن ریڈی کے درمیان کڑا مقابلہ رہا۔ متھن ریڈی گذشتہ چار سالوں سے راجم پیٹ پارلیمانی حلقہ میں اپنی شناخت بنارکھی تھی۔ مودی کی لہر اور پورندیشوری کی مقبولیت سے شروع میں تھوڑی دقت ہوئی۔ ٹی ڈی پی۔ بی جے پی نے اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کی کوشش کی۔ نریندر مودی کا جلسہ عام منعقد کیا اور چندرا بابونائیڈو بھی اپنی ذاتی دشمنی، خاندانی اختلافات کو ہٹاتے ہوئے کیڈر کو حکم دیا کہ وہ پورندیشوری کو کامیاب کرائیں۔ اس کے باوجود پہلی مرتبہ سیاسی میدان میں آئے ہوئے متھن ریڈی نے 1.5لاکھ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ادھر اسمبلی حلقوں میں بھی وائی ایس آر نے اپنی اکثریت دکھائی۔ ضلع کے 14اسمبلی حلقوں میں سے 8پر کامیابی حاصل کی۔ بقیہ 6 پر تلگودیشم نے سبقت حاصل کی ۔

سابق وزیر اعلیٰ کرن کمار ریڈی جنہوں نے جئے سمکھیا آندھرا کے نام سے نئی پارٹی قائم کی اور اپنے حلقہ اسمبلی پلیرو میں اپنے بھائی کو کھڑا کیا ۔ پلیرو میں کئی ترقیاتی کاموں کرنے کی وجہ سے ان کی کامیابی کو یقینی مانا گیا مگر کرن کمار ریڈی کے سیاسی حریف پیدی ریڈی رام چندر ریڈی نے اپنے سارے حربوں کا استعمال کیا اور وائی ایس آر کے امیدوار کو 15ہزار سے زائد ووٹوں سے کامیاب کرایا۔ کپم اسمبلی حلقہ چندرا بابو نائیڈو کے لئے ہر بار محفوظ ثابت ہورہا ہے۔ اس مرتبہ وائی ایس آر نے وظیفہ یاب آئی اے ایس عہدیدار چندرا مولی کو چندرا بابو نائیڈو کے مقابل کھڑا کیا مگر چندرا بابو نائیڈو کی مقبولیت کے سامنے وہ کچھ نہیں کرپائے اور بابو کو 44ہزار سے زائد اکثریت حاصل ہوئی۔ چتور اسمبلی حلقہ سے مشہور صنعت کا آنجہانی آدی کیشولو کی بیوی ستیہ پربھاکو موقع دے کر چندرا بابو نائیڈو نے تلگودیشم میں نیا جوش پیدا کیا۔ ستیہ پربھا کے حق میں درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء درگاہ کے مجاورین نے بھی مہم چلائی اورمسلم طبقہ کے ووٹوں کو متاثر کیا اور ستیہ پربھا کو 6800 سے زائد اکثریت حاصل ہوئی۔ تروپتی میں گذشتہ ضمنی انتخابات میں وائی ایس آر کانگریس کے کروناکر ریڈی نے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس وقت کے کانگریس کے امیدوار اس مرتبہ تلگودیشم کے امیدوار رہے۔ وینکٹ رمنا نے اپنی کامیابی آسانی سے حاصل کی اور 41ہزار سے زائد ووٹوں کی اکثریت حاصل کی۔ سابق وزیر گوپال کرشنا ریڈی نے سری کلا ہستی میں تلگودیشم کی مقبولیت کو برقرار رکھتے ہوئے کامیاب ہوئے اور7400 سے زائد ووٹوں کی اکثریت حاصل کی۔ تمبل پلی حلقہ اسمبلی میںہر وقت ریڈی سماجی طبقہ کے افراد کامیاب ہوتے آرہے ہیں۔ صرف دو خاندانوں کے درمیان یہاں پر فیصلہ ہوتا تھا۔ پہلی مرتبہ بی سی طبقہ کے شنکر نے یہاں سے 9ہزار سے زائد ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ مدن پلی حلقہ اسمبلی سے ڈاکٹر تپا ریڈی ( جو فی الوقت رکن کونسل بھی ہیں ) نے 16 ہزار سے زائد اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ مسلم اقلیت کی کثیر آبادی نے بھی وائی ایس آر کانگریس کو ووٹ دیا۔ یہاں سے سابق ارکان اسمبلی شاہ جہاں پاشاہ کانگریس کے امیدوار رہے جنہیں چوتھا مقام حاصل ہوا۔ ٹی ڈی پی۔ بی جے پی کے امیدوار نرسمہا ریڈی کوکامیاب کرانے کیلئے بی جے پی کے قائد وینکیا نائیڈو نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر پھر بھی وہ ناکام رہے۔ سابق وزیر جنگلات پیدی ریڈی رام چندرا ریڈی پنگنور اسمبلی حلقہ میں اپنی گرفت کو ایک مرتبہ پھر ظاہر کیا اور 31ہزار سے زائد اکثریت حاصل کی۔اداکارہ روجا پچھلے دو انتخابات میں شکست حاصل کی تھی مگر اس مرتبہ تلگودیشم کے اعلیٰ قائد گالی مدو کرشنما نائیڈو کے خلاف اپنی کامیابی کا مظاہرہ کیا اور 800 سے زائد اکثریت حاصل کی۔ پلیمنری اسمبلی حلقہ میں سابق رکن اسمبلی امرناتھ ریڈی نے اپنی کامیابی کی قوی توقع رکھی تھی مگر صرف 2800 سے زائد ووٹ حاصل کرکے بال بال بچ گئے۔ چندرا گری حلقہ اسمبلی چندرا بابو نائیڈو کا آبائی مقام ہے جہاں پر سابق کانگریس وزیر جی ارونا کماری نے ٹی ڈی پی میں شمولیت اختیار کرکے میدان میں رہے۔ ان کے خلاف سی بھاسکر ریڈی نے اپنی کامیابی حاصل کی اور 4500 سے زائد اکثریت حاصل کرکے ارونا کماری کو شکست دی۔ سابق ڈپٹی اسپیکر کتوہلما جنہوں نے ٹی پی پی میں شمولیت اختیار کرکے گنگادھر نیلور سے میدان میں رہے لیکن وائی ایس آر کے نارائن سوامی نے 20ہزار سے زائد ووٹ کی اکثریت حاصل کی۔ پوتل پٹو میں وائی ایس آر کے سنیل کمار نے ٹی ڈی پی کے للتا کماری کو 983 ووٹوں سے شکست دی۔ پلیرو اسمبلی حلقہ میں تلگودیشم نے اقلیتی طبقہ سے ڈاکٹر اقبال احمد کو موقع دیا تھا انہوں نے تیسرا مقام حاصل کرتے ہوئے33ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے۔

TOPPOPULARRECENT