ضلع کھمم میں کانگریس پارٹی کی انتخابی مہم

مسلمانوں کے اجتماعی جلسے سے مولانا خسرو پاشاہ، حافظ پیر شبیر، بٹی وکر مارک کا بیان

حیدرآباد ۔24 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں دن بدن انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے امیدواروں کی کامیابی مسلمانوں کے ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ یہ ووٹ اگر کسی بھی پارٹیوں کے حق میں استعمال ہوں گے تلنگانہ کے 119 حلقہ اسمبلی میں 58 اسمبلی حلقے ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کے فیصلہ کن ووٹ ہیں۔ یو پی اے صدرنشین شریمتی سونیا گاندھی کا کل دورہ تلنگانہ میں طاقتور ثابت ہونے کے بعد سے ٹی آر ایس پارٹی خوفزدہ ہوچکی ہے۔ ان کی اب سے ہی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔ مسلمان اب ٹی آر ایس کے باتوں میں آنے والے نہیں ہیں۔ اس بات کا انکشاف آج بٹی وکرامارک ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ نے انتخابی مہم کے دوران عوام سے اپیل کی کہ وہ اس بار مہاکوٹمی کے حق میں بھاری ووٹ استعمال کرتے ہوئے کامیابی کو یقینی بنائیں۔ آج صبح حلقہ اسمبلی مدیرا سے کانگریسی امیدوار بٹی وکرامارک ایک روڈ شو میں رائے دہندوں سے پرزور اپیل کی کہ ضلع کھمم کے 10 حلقہ اسمبلی کے نشستوں پر مہا کوٹمی اور کانگریس کے امیدوار کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں۔ ان کے ہمراہ سابق صدرنشین وقف بورڈ آندھراپردیش خسرو پاشاہ بیابانی نے بھی انتخابی مہم میں حصہ لیتے ہوئے ان کی تائید میں روڈ شو میں شرکت کی۔ قبل ازیں کھمم ٹاؤن میں بھی مسلمانوں کا ایک بڑا اجتماعی جلسہ منعقد کیا گیا جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے حافظ پیر شبیر، مولانا خسرو پاشاہ بیابانی اور ناماناکیشور راؤ، مہاکوٹمی امیدوار نے شرکت کی۔ اس اجتماعی جلسہ سے مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دور میں ہی مسلمانوں کی فلاح و بہبودی ہوگی۔ ماضی میں مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کئے جانے سے کئی نوجوان کو تعلیم اور روزگار میں کافی فائدہ پہنچا۔
کئی لڑکیاں ڈاکٹرس اور انجینئرس بھی بنے۔ کے سی آر نے گذشتہ انتخابات سے قبل اسی بات کا اعلان کیا کہ جیسے ہی ٹی آر ایس برسراقتدار آئے گی وہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دے گی۔ تاہم وعدہ فراموشی کرکے مسلمانوں کے جذبات و احساسات کا کھلواڑ کیا۔ اب ہم کے سی آر کے کسی بھی باتوں میں آنے والے نہیں ہیں۔ اس بار انہیں ہم ایسی شکست دیں گے جسے وہ زندگی بھر یاد رکھیں گے۔

TOPPOPULARRECENT