Saturday , November 25 2017
Home / سیاسیات / ضمنی انتخابات: بوانا میں عآپ اور گوا میں بی جے پی کامیاب

ضمنی انتخابات: بوانا میں عآپ اور گوا میں بی جے پی کامیاب

بی جے پی بدعنوان پالیسیوں میں ملوث: کانگریس، پارٹی کے حوصلے بلند: پاریکر
نئی دہلی۔28 اگست (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی نے آرام سے بوانا اسمبلی حلقہ میں اپنا قبضہ برقرار رکھا اور کانگریس اور بی جے پی سے آگے رہی۔ حالیہ عرصہ میں کانگریس مسلسل انتخابی ناکامیوں کی وجہ سے اپنا فخر کھوچکی ہے۔ بی جے پی دوسرے اور کانگریس تیسرے مقام پر رہی۔ انہیں الترتیب 35834 اور 31919 وٹ حاصل ہوئے۔ بی جے پی 4 ماہ میں پہلی بار نقصان سے دوچار ہوئی ہے۔ قبل ازیں بلدی انتخابات اور راجوری گارڈن ضمنی انتخابات میں اسے شاندار کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ پاناجی سے موصولہ اطلاع کے بموجب چیف منسٹر گوا منوہر پاریکر نے پاناجی سے انتخابی کامیابی حاصل کرلی۔ جبکہ گوا کے وزیر وشواجیت رانے ضمنی انتخابات میں اپنی نشست پر قبضہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے تیسرے اور آخری مرحلہ کی رائے شماری کے بعد 16167 ووٹ حاصل کئے جبکہ کانگریس کے امیدوار رائے نائک نے 6101 ووٹ لئے۔ آزاد امیدوار روحی داس گائونکر کی تائید میں 316 ووٹ حاصل ہوئے۔ 454 رائے دہندوں نے نوٹا استعمال کیا۔ کولکتہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے آج چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال اور عام آدمی پارٹی کو بوانا اسمبلی ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کے امیدوار رام چندر نے ضمنی انتخابات میں اپنے قریبی حریف بی جے پی کے ویدپرکاش کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ کانگریس کے امیدوار سریندر کمار تیسرے مقام پر رہے۔ کانگریس نے ضمنی انتخابات کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے بدعنوان عوامل میں ملوث ہوکر کامیابی حاصل کی ہے۔ گوا کے دو اسمبلی نشستوں پر ضمنی انتخابات میں کانگریس نے انتخابی ناکامی حاصل کی جبکہ برسر اقتدار پارٹی دونوں نشستوں پر کامیاب رہی۔ گوا پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر شانتارام نائک نے کہا کہ انتخابات بی جے پی کی اخلاقی شکست ہیں کیوں کہ اس کے امیدوار اپنے عہدے کا استحصال کرتے ہوئے بدعنوان عوامل میں ملوث رہے۔ انہوں نے دو امیدواروں کے ووٹ بھی حاصل کئے۔ حالانکہ وہ بدعنوان عوامل میں ملوث ہوئے بغیر بھی انتخابی کامیابی حاصل کرسکتے تھے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کی پارٹی کا دونوں انتخابی حلقوں میں کوئی اثر و رسوخ نہیں تھا۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ان دو حلقوں کے بی جے پی امیدوار جو وزیر کے عہدے پر ہیں، حالانکہ وہ رکن اسمبلی بھی نہیں ہیں۔ ملازمتوں کی فراہمی کے جھوٹے وعدے کرتے ہوئے اپنے عہدوں کا استحصال کرتے رہے۔ ان الزامات کو بی جے پی گوا کے جنرل سکریٹری سدانند تانائوڑے میں نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے ردعمل سے دونوں نشستیں کھودینے پر مایوسی ظاہر ہوتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT