Sunday , February 18 2018
Home / Top Stories / ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی شکست انٹرویل، پوری فلم 2019 ء میں: شیوسینا

ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی شکست انٹرویل، پوری فلم 2019 ء میں: شیوسینا

الور اور اجمیر کے تمام اسمبلی حلقہ جات پر قبضہ کے باوجود کانگریس کی کامیابی زعفرانی پارٹی کیلئے خطرے کی گھنٹی
نئی دہلی 2 فروری (سیاست ڈاٹ کام) راجستھان اور مغربی بنگال میں ضمنی چناؤ کے نتائج بی جے پی کے لئے کافی مشکلات کھڑے کردیئے ہیں۔ بی جے پی کی شکست اور کانگریس کی کامیابی کے حوالے سے سیاسی بیان بازی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ مہاراشٹرا اور مرکز میں بی جے پی حکومت کی حلیف شیوسینا نے اِس شکست پر فلمی انداز میں طنز کرتے ہوئے کہاکہ یہ تو صرف انٹرویل ہے، 2019 ء میں فلم مکمل ہوجائے گی۔ واضح رہے کہ کچھ دنوں پہلے ہی شیوسینا نے بی جے پی سے علیحدہ ہوکر لوک سبھا چناؤ تنہا لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ شیوسینا ترجمان سنجے راوت نے کہاکہ گجرات چناؤ ٹریلر اور راجستھان اور مغربی بنگال کے ضمنی انتخابات انٹرویل ہیں۔ اب پوری فلم 2019 ء میں دکھائی جائے گی۔ انھوں نے کہاکہ 2019 ء کے عام انتخابات تنہا لڑنے کے پارٹی کے عہد سے پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک بار جب تیر کمان سے نکل جاتا ہے تو اُس کے لوٹنے کا امکان نہیں رہتا۔ قابل ذکر ہے کہ جاریہ سال 23 جنوری 2018 ء کو شیوسینا کے بانی بال ٹھاکرے کی یوم پیدائش کے موقع پر پارٹی نے واضح طور پر بی جے پی سے رشتہ ختم کردینے کا اعلان کیا۔ راجستھان کی دو لوک سبھا نشستیں اور ایک اسمبلی سیٹ پر منعقد شدنی انتخابات میں بی جے پی کو بُری طرح شکست ہونے کے بعد ہر طرف سے تیکھے ردعمل ظاہر کئے جارہے ہیں اور اسے 2019 ء میں بی جے پی کیلئے خطرہ کی گھنٹی سمجھا جارہا ہے۔ راجستھان میں جاریہ سال ہی منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے ملنے والی یہ شکست چیف منسٹر وسندھرا راجے کے پیشانی پر پریشانیوں کی لکیریں کھڑی کردی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف تینوں سیٹوں پر کانگریس کی کامیابی کانگریس کے لئے آب حیات تصور کیا جارہا ہے۔ کیوں کہ 2013 ء کے اسمبلی انتخابات میں مکمل اکثریت کے ساتھ بی جے پی اقتدار میں آئی تھی جہاں بی جے پی نے 200 میں سے 163 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ پھر اُس کے بعد 2014 ء کے عام انتخابات میں بھی راجستھان کے تمام 25 لوک سبھا نشستوں پر بی جے پی نے ہی کامیابی کا جھنڈا لہرایا تھا اور کانگریس کا کھاتہ بھی نہیں کھل سکا تھا۔ ایسے میں ضمنی انتخابات میں دونوں لوک سبھا نشستوں پر کانگریس کی کامیابی کانگریس کی دم توڑتی ہوئی پارٹی میں آب حیات کا کام کیا ہے۔ اگر اجمیر لوک سبھا حلقہ کے تحت آنے والے اسمبلی حلقہ جات پر غور کیا جائے تو یہاں 8 میں سے 7 اسمبلی حلقہ جات سیٹیں بی جے پی کے پاس ہیں جبکہ کانگریس کے پاس صرف ایک نشست ہے۔ اِس مضبوط گڑھ میں بھی بی جے پی کا چاروں خانے چت ہوجانا بی جے پی کے لئے تشویش کا سبب بن گیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ چیف منسٹر وسندھرا راجے یہاں پر کافی پہلے سے ہی انتخابی مہم میں مصروف نظر آرہی تھیں اور یہاں ایک بڑے سیاسی قائد سانور لعل جاٹ کے انتقال کے بعد انتخابات میں مقابلہ کررہے اُن کے فرزند رام سوروپ لانبا کو کانگریس امیدوار رگھو شرما نے 84 ہزار ووٹوں سے شکست دے دی جو بذات خود بی جے پی کے لئے نوشتۂ دیوار سمجھا جارہا ہے۔ وہیں دوسری طرف الور میں کابینی وزیر ہونے کے باوجود بی جے پی کوشکست کا سامنا کرنا پڑا۔

TOPPOPULARRECENT