ضمنی انتخابات میں حکمران جماعت کو سبق سکھانے کا بہترین موقع

سنگاریڈی۔/10ستمبر، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)حلقہ پارلیمان میدک کے ضمنی انتخابات میں کانگریس پارٹی امیدوار سنیتا لکشما ریڈی کی انتخابی مہم کے حصہ کے طور پر آج سہ پہر ٹی این جی اوز بھون سنگاریڈی میں مسلم اقلیتوں کا جلسہ جناب شیخ صابر صدر ٹاؤن کانگریس کمیٹی سنگاریڈی کی زیر صدارت اور جناب ایم اے فہیم قائد کانگریس حلقہ سنگاریڈی کی نگرانی میں منعقد ہوا۔ جس میں پونالہ لکشمیا صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی، محمد علی شبیر ایم ایل سی، رام ریڈی وینکٹ ریڈی، سمپت کمار، یادیا اراکین اسمبلی، دامودر راج نرسمہا سابق ڈپٹی چیف منسٹر، محمد سراج الدین صدر کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ، ایس کے افضل الدین سکریٹری پردیش کانگریس کمیٹی، سید یوسف ہاشمی سکریٹری کانگریس کے علاوہ دیگر قائدین نے شرکت کی۔

پونالہ لکشمیا صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے اپنے مختصر اردو خطاب میں کہا کہ کانگریس نے اپنے 10سالہ دور اقتدار میں مسلمانوں کی ترقی اور فلاح و بہبود کے بے نظیر کارنامے انجام دیئے۔ مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کانگریس کا ناقابل فراموش اور تاریخی کارنامہ ہے۔ انہوں نے ٹی آر ایس حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے عوام سے سنہرے تلنگانہ کا وعدہ کیا لیکن آج 100دن گذر جانے کے باوجود عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی کام انجام نہیں دیا۔ کے سی آر اپنے وعدوں کی تکمیل سے قاصر ہیں اور وعدوں کو پورا کرنے کے بجائے بیان بازی کے ذریعہ کام لے رہے ہیں۔ ٹی آر ایس حکومت عوام سے ووٹ مانگنے کا اخلاقی حق کھوچکی ہے۔

عوام بھی کے سی آر کی زبانی جمع خرچ کے ہنر سے واقف ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غریب عوام کی ترقی صرف اور صرف کانگریس پارٹی کے ذریعہ ہی ممکن ہے چنانچہ عوام کانگریس پارٹی کو ووٹ دے کر کامیاب کریں۔ جناب محمد علی شبیر ایم ایل سی نے کہا کہ نریندر مودی کی مرکزی حکومت اور کے سی آر کی ریاستی حکومت دونوں ہی ایک سکے کے دو رُخ ہیں چونکہ گذشتہ 100یوم میں ان دونوں حکومتوں نے مسلمانوں کیلئے کوئی بھی کام انجام نہیں دیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کے وعدے پر عدم عمل آوری کا الزام عائد کرتے ہوئے ٹی آر ایس پر شدید تنقید کی اور کہا کہ مسلمانوں کو تحفظات، اسکالر شپس، فیس ری ایمبرسمنٹ، راجیو آروگیہ شری، کسانوں کو مفت برقی سربراہی، مسلم لڑکیوں کی شادیوں کیلئے مالی امداد کی اجرائی جیسی اسکیمات کو کانگریس حکومت نے روشناس کروایا اور آج ٹی آر ایس حکومت صرف اس پر عمل کررہی ہے ٹی آر ایس حکومت نے مسلمانوں کیلئے کوئی نئی اسکیم شروع نہیں کی۔ حلقہ پارلیمان میدک سے کانگریس پارٹی امیدوار سنیتا لکشما ریڈی کی کامیابی سے ریاستی اور مرکزی حکومتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن ٹی آر ایس کو سبق ملے گا کہ مسلمانوں سے جھوٹے وعدے کرتے ہوئے ان کی معصومیت کا استحصال نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے مسلمانوں سے کانگریس پارٹی امیدوارہ سنیتا لکشما ریڈی کو ہاتھ کے نشان پر ووٹ دے کر کامیاب کرتے ہوئے سیکولرازم کو مستحکم کرنے کی اپیل کی۔ مسٹر دامودر راج نرسمہا سابق ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ آئندہ پانچ سال تک وہ حلقہ اسمبلی سنگاریڈی کی ذمہ داری لے چکے ہیں اور عوام کسی بھی مسئلہ پر ان سے راست رجوع ہوسکتے ہیں۔ محمد سراج الدین چیرمین اقلیتی ڈپارٹمنٹ کانگریس نے کہا کہ 37کروڑ کے اقلیتی بجٹ کو کانگریس پارٹی نے اپنے دور میں1027 کروڑ روپئے کرتے ہوئے کئی ترقیاتی کام انجام دیئے۔ ایس کے افضل الدین سکریٹری کانگریس نے کہا کہ سیکولرازم کی بقاء اور نریندر مودی اور ان کے ہمنواؤں کی ناکامی کیلئے کانگریس پارٹی کو ووٹ دیں ۔ اس موقع پر میر ہدایت علی، محمد آصف، معراج خاں ہاشمی، محمد نواز، محمد مختار، فہد بصراوی، محمد فیاض خاں، محمد عابد، محمد احمد، محمد قطب الدین، محمد ظہر الدین، احمد خاں، محمد وحید، مسیح الدین منو، ایم اے مجید، گووردھن نائک وائس چیرمین بلدیہ سنگاریڈی، محمد جیلانی، محمد انور اور دیگر قائدین و کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔

TOPPOPULARRECENT