Tuesday , December 12 2017
Home / سیاسیات / ضمنی انتخابات میں شکست سے سبق حاصل کریں

ضمنی انتخابات میں شکست سے سبق حاصل کریں

کانگریس اور سماج وادی پارٹی کو شیوسینا کا مشورہ
ممبئی ۔ 18 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے جاریہ تنازعہ پر شیوسینا نے آج کانگریس اور سماج وادی پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ حالیہ منعقدہ اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے نتائج سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ عوام نے سیاستدانوں کی زیر سرپرستی طلباء کے احتجاج کو مسترد کردیا ہے ۔ پارٹی کے ترجمان سامنا کے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ ضمنی انتخابات کے نتائج سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں نائب صدر کانگریس راہول گاندھی کے تماشہ کو عوام نے مسترد کردیا ہے ۔ مہاراشٹرا میں حکمران اتحاد کی حلیف جماعت نے کہا کہ حیدرآباد یونیورسٹی یعقوب میمن اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں افضل گرو کی تائید کرنے والے طلباء قوم کے لیے خطرہ بن گئے ہیں اور جن سیاستدانوں نے ان طلباء کی سرپرستی کی ہے انہیں 7 ریاستوں کے ضمنی انتخابات میں ہزیمت اٹھانی پڑی ۔ واضح رہے کہ بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں نے 7 ریاستوں میں منعقدہ اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں 12 حلقوں میں سے 8 پر قبضہ کرلیا ہے جو کہ اترپردیش میں سماج وادی پارٹی اور کرناٹک میں کانگریس کے لیے ایک دھکا تصور کیا جارہا ہے ۔ اترپردیش میں حکمراں سماج وادی پارٹی 3 میں سے 2 نشستیں کھو دینے پر شیوشینا نے کہا کہ عوام نے ذات پات کی سیاست کے خلاف ووٹ دیا ہے اور یہ نشاندہی کی کہ ضمنی انتخابات میں مسلمانوں کی خوشامدی بھی سماج وادی پارٹی کے لیے کارگر ثابت نہیں ہوسکی ۔ اگرچیکہ اکھلیش یادو حکومت نے مسلم ووٹ بینک کی دلجوئی کے لیے پاکستانی فنکاروں کو مدعو کیا تھا لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوسکا اور عوام نے حکمراں جماعت کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT