Wednesday , November 22 2017
Home / اداریہ / ضمنی انتخابات کے نتائج

ضمنی انتخابات کے نتائج

ملک کی چھ ریاستوں میں 4 لوک سبھا اور 10 اسمبلی حلقوں کے لئے ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج پرانے نوٹوں کی منسوخی کیلئے وزیراعظم نریندر مودی کے فیصلہ پر عوام کا ریفرنڈم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان ضمنی انتخابات میں حکمراں پارٹیوں کو کامیابی ملنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش، ٹاملناڈو، مغربی بنگال، تریپورہ اور پڈوچیری میں 19 نومبر کو ضمنی انتخابات کیلئے رائے دہی ہوئی تھی۔ حالیہ نوٹوں کی تبدیلی کے فیصلہ کے بعد عوام کے جذبات اگرچیکہ مجروح ہوئے ہیں لیکن مرکز کی بی جے پی حکومت کے خلاف عوامی رائے میں بتدریج تبدیلی کے فوری نتائج کا سامنے آنا غیرمتوقع ہے۔ بعض سیاسی حلقوں نے ان ضمنی انتخابات کو بڑی نوٹوں کی منسوخی کے فیصلہ کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کیلئے سب سے بڑی پہلی انتخابی آزمائش قرار دیا ہے۔ بلاشبہ یہ نتائج ملک کی دیگر ریاستوں کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتے۔ پارلیمنٹ کے جاریہ سیشن پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ اس پر بھی اپوزیشن پارٹیوں کے لئے کوئی خاص بات نہیں ہوگی۔ کانگریس زیرقیادت اپوزیشن نے نوٹوں کی منسوخی کے مسئلہ پر حکومت کو نشانہ بنایا ہے اور کارروائی خلل اندازی کا شکار ہورہی ہے۔ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کو دونوں حلقوں پر کامیابی ملی ہے۔ جہاں بی جے پی قیادت کو چیف منسٹر ممتا بنرجی نے مسلسل نشانہ بنایا تھا۔ یہ انتخابات دونوں پارٹیوں کے لئے ایک چیلنج بن گئے تھے۔ اسمبلی انتخابات میں بھی حکمراں پارٹیوں کے حق میں ہی فیصلہ آیا ہے۔ 8 نومبر کو وزیراعظم نے نوٹوں کی تبدیلی کا اعلان کرکے رائے دہندوں کے ذہنوں کو جھنجھوڑ دیا تھا، تاہم ضمنی انتخابات کی مہم کے دوران اپوزیشن نے زبردست مہم چلائی جس کا معمولی اثر یہ دیکھا گیا کہ غیربی جے پی ریاستوں میں اسے سیاسی شکست و کامیابی کے درمیان زبردست قوت آزمائی کرنی پڑی۔ مدھیہ پردیش اور آسام میں بی جے پی حامیوں نے پارٹی کے حق میں ہی ووٹ دیا۔ ٹاملناڈو میں انا ڈی ایم نے تمام تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔

یہاں چیف منسٹر جیہ للیتا کی علالت اور دواخانہ میں زیرعلاج ہونے سے عوام کی ہمدردیوں کے ووٹ ملے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں بی جے پی کو لوک سبھا اور اسمبلی نشستوں پر دوبارہ کامیابی ملی ہے تو یہ توقع کے مطابق ہی سمجھی جائے گی۔ یہاں کانگریس کو شکست افسوسناک ہے کیونکہ نوٹوں کی منسوخی کے خلاف اس کی مہم کا بھی عوام پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ تریپورہ میں سی پی آئی ایم نے دونوں اسمبلی حلقوں سے کامیابی حاصل کی ہے تو یہ جیت بھی موافق حکمرانی لہر کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔ پھر پڈوچری میں کانگریس کے سینئر لیڈر نارائنا سوامی نے ضمنی انتخاب میں انا ڈی ایم کے لیڈر کو شکست دی ہے تو واضح ہوتا ہے کہ ہر حلقہ کے رائے دہندوں نے اپنے 2014ء کے فیصلے کو ہی دہرایا ہے۔ رائے دہندوں کا ذہن ان چند مہینوں کی پریشانیوں سے متاثر نہیں ہوا ہے تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ عوام میں صبر و تحمل کا جذبہ مضبوط ہے۔ مغربی بنگال میں اپنی پارٹی کی کامیابی کو نوٹوں کی تبدیلی کے خلاف عوام کا اعلان جنگ قرار دینے والی چیف منسٹر ممتا بنرجی کو اب مرکز کی مودی حکومت کے خلاف اپنے مورچہ کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔ پارلیمنٹ سیشن کے آغاز سے ہی وہ نوٹوں کی منسوخی کے خلاف احتجاج کررہی ہیں۔ اب انہیں دیگر اپوزیشن پارٹیوں کی بھی تائید حاصل ہوچکی ہے۔ عوام نے اپنے ووٹوں کے ذریعہ برہمی کا اظہار کیا ہے۔ وہ عوام کی بھرپور حمایت کے ساتھ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مرکز کے خلاف آواز کو بلند کرے گی۔ ان کی آواز کو مضبوط بنانے کے لئے دیگر ضمنی انتخابات کی شکست خوردہ پارٹیاں ہی آگے آئی ہیں تو اس سے تحریک کو مضبوطی حاصل ہوسکتی ہے۔ نوٹوں کی منسوخی کے فیصلہ سے عوام مر رہے ہیں اور سیاسی پارٹیاں عوامی مسائل کو پیش کرکے حکومت کو اس کے فیصلہ سے ہونے والی خرابیوں سے واقف کرانے کو اپنا سیاسی فریضہ سمجھتی ہیں۔ ایسے میں ضمنی انتخابات ان کی جدوجہد کو کمزور بھی کرسکتے ہیں لیکن ملک کے عوام کی رائے کو صرف 6 ریاستوں کے ضمنی چناؤ کے نتائج سے تقابل نہیں کیا جانا چاہئے۔ ملک میں نوٹ کے بعد ووٹ ڈالنے والوں نے علاقائی طور پر اپنی رائے ظاہر کی ہے، اس پر سیاسی تجزیہ کا رُخ حکمراں پارٹی کے طاقتور ہوجانے کی جانب نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ملک کی معیشت کو سست روی کا شکار بنانے والے نوٹوں کی تبدیلی کے فیصلہ پر عوام کا غم و غصہ برقرار ہے۔

TOPPOPULARRECENT