Monday , August 20 2018
Home / سیاسیات / ضمنی چناؤ کے نتائج سے کانگریس کیلئے مشکلات کا اندیشہ

ضمنی چناؤ کے نتائج سے کانگریس کیلئے مشکلات کا اندیشہ

ایس پی ۔ بی ایس پی اتحاد کی فتح یوپی میں کانگریس کی اہمیت گھٹانے کا موجب، سیاسی مبصرین کا تاثر

نئی دہلی 16 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش اور بہار میں ضمنی چناؤ کے نتائج کانگریس کے لئے نیک شگون نہیں ہیں کیوں کہ علاقائی پارٹیوں کا مضبوط ہونا اِس قدیم پارٹی کے 2019 ء کے عام انتخابات کے لئے متحدہ اپوزیشن فرنٹ کی قیادت کرنے کے امکانات کمزور پڑسکتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا احساس ہے کہ جب تک کانگریس بعض ریاستوں کو بی جے پی کے قبضہ سے دوبارہ چھین نہ لے اور کرناٹک کے اسمبلی انتخابات میں اپنا قبضہ برقرار نہ رکھے، کسی اتحاد کی قیادت کے اُس کے امکانات مزید کمزور پڑسکتے ہیں۔ تاہم کانگریس کا ماننا ہے کہ اترپردیش میں ایس پی ۔ بی ایس پی اتحاد کی فتح عام روش سے ذرا ہٹ کر ہے اور صرف وہی ملک بھر میں وجود رکھنے والی پارٹی ہے جو بی جے پی کو شکست دینے کے لئے ہمخیال پارٹیوں کو یکجا کرتے ہوئے مخلوط کی قیادت کرسکتی ہے۔ کانگریس کو اترپردیش کے ضمنی چناؤ میں ایس پی ۔ بی ایس پی اتحاد سے دور رکھا گیا، جہاں نئے اتحاد نے چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ کے گڑھ گورکھپور اور نائب کیشو پرساد موریا کے حلقے پھولپور میں بی جے پی کو شکست سے دوچار کردیا۔ جہاں ایک طرف کانگریس 2019 ء کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کا مقابلہ کرنے کے لئے متحدہ اپوزیشن اتحاد تشکیل دینے کوشاں ہے وہیں علاقائی پارٹیوں کو اُمید ہے کہ وہ ایک اور متبادل کے طور پر کانگریس کے بغیر یونائیٹیڈ فرنٹ تشکیل دے پائیں گے۔ ٹی آر ایس سربراہ اور چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھر راؤ پہلے ہی اِس ضمن میں سبقت لیتے ہوئے دیگر علاقائی پارٹیوں کے قائدین جیسے ترنمول کانگریس کی ممتا بنرجی کے ساتھ ربط قائم کرچکے ہیں۔ تاہم کانگریس بھی اپوزیشن کو یکجا برقرار رکھنے کی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پارٹی لیڈر سونیا گاندھی نے حال ہی میں تمام غیر بی جے پی پارٹیوں کے لئے ڈنر کا اہتمام کیا جس میں 20 اپوزیشن پارٹیوں کے قائدین شریک ہوئے۔ کانگریس کمیونکیشنس انچارج رندیپ سرجیوالا نے کہاکہ اب نہایت واضح ہوچلا ہے کہ ملک کے عوام نے مودی طرز کی سیاست جو حقائق کے مقابل لفاظی پر مبنی ہے اور ملک کے مسلمہ انتظامیہ کے مقابل متوازی انتظامیہ کے زیراثر ہے، اُسے مسترد کرتے ہوئے اپنے عدم اعتماد کا اظہار کرچکے ہیں۔ ایک اور کانگریس لیڈر سابق مرکزی وزیر ایس جئے پال ریڈی نے کہاکہ تیسرے محاذ کا قیام جو چندرشیکھر راؤ نے پیش کیا، عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے شعبدہ بازی کے سوا کچھ نہیں۔ اترپردیش کے ایک سینئر کانگریس لیڈر اور سابق وزیر نے خدشہ ظاہر کیاکہ ضمنی چناؤ کے بعد علاقائی پارٹیاں ایس پی اور بی ایس پی ہوسکتا ہے کانگریس کو اِس ریاست میں اہمیت نہ دیں۔ اُنھوں نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ کانگریس کا یوپی کی حد تک مستقبل بڑی حد تک یہی دونوں پارٹیوں کے ہاتھوں میں ہے اور دونوں میں سے کوئی بھی نہیں چاہیں گے کہ کانگریس یوپی میں 80 لوک سبھا نشستوں کے منجملہ 5-6 نشستوں سے زیادہ پر مقابلہ کرے۔

TOPPOPULARRECENT