Tuesday , December 12 2017
Home / ہندوستان / طاسِ دریائے کرشنا میں سیلاب کی صورتحال تشویشناک

طاسِ دریائے کرشنا میں سیلاب کی صورتحال تشویشناک

کئی ذخائر سے پانی چھوڑا گیا، 60 افراد جزائر میں پھنس گئے
گلبرگی، 22 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام ) کرناٹک کے کرشنا طاس میں سیلاب کی صورتحال تشویشناک ہوگئی ہے کیونکہ باگل کوٹ ضلع کے الماٹی ریزروائر میں پانی کا شدید بہاؤ دیکھا جارہا ہے۔ ذخیرہ آب کے نشیبی علاقوں میں پانی کی بھاری مقدار چھوڑنے کے سبب دریا کے کنارے واقع مواضعات میں سیلاب کا خطرہ پیدا ہوا ہے ۔کرشنا بھاگیہ جل نگم لمیٹیڈ (کے بی جے این ایل) کے ذرائع نے بتایا کہ ریزروائر میں پانی کا بہاؤ 99,822 کیوزک رہا ہے ۔ حکام کی جانب سے 519.570 میٹر تک پانی کے ذخیرہ کو برقرار رکھا گیا اور ریزروائر سے 167,00 کیوزک پانی چھوڑا گیا۔ اسی طرح الماٹی ریزروائر میں نچلے حصہ کے نارائن پور ڈیم میں بھی پانی کا شدید بہاؤ دیکھا گیا۔ حکام نے اس کے تمام 15 دروازے کھولتے ہوئے 117,914 کیوزک پانی چھوڑا۔ اس میں 127 ہزار کیوزک پانی کا بہاؤ دیکھا گیا۔ رائچور سے موصولہ اطلاع کے مطابق 15 خاندانوں کے 60 افراد کل شب سے لنگا سگور تعلقہ کے کادادل ہلی،ماگراہلی اور اومکار ہلی جزائر پھنسے ہوئے ہیں۔ ضلع انتظامیہ ان سے مسلسل ربط میں ہے اور بچاؤ کارروائیاں شروع کی گئی ہیں۔ محصور افراد آوارہ کتوں اور دیگر جانوروں سے اپنے بکروں کو خطرہ کے پیش نظر اپنے متعلقہ علاقوں کو واپس ہونا نہیں چاہتے ۔ محکمہ مال کے حکام نے چوکسی کا انتباہ دیا اور دریا کی صورتحال پر انتظامیہ نظر رکھے ہوئے ہے ۔

TOPPOPULARRECENT