Thursday , November 23 2017
Home / کھیل کی خبریں / طاقتور جنوبی افریقہ کیخلاف جیت کی ماہر ہندوستانی ٹیم کا آج مقابلہ

طاقتور جنوبی افریقہ کیخلاف جیت کی ماہر ہندوستانی ٹیم کا آج مقابلہ

Indian groundstaff cover the wicket as rain falls ahead of the World T20 cricket tournament qualifying match between Oman and The Netherlands at The Himachal Pradesh Cricket Association Stadium in Dharamsala on March 11, 2016. / AFP / STR (Photo credit should read STR/AFP/Getty Images)

میزبانوں کے پاس تجربہ کار ویراٹ اور روہت ، مہمان ڈی ویلیرس بھی کسی سے کم نہیں ، سمیع کی واپسی دھونی ٹیم کیلئے خوش آئند
ممبئی ۔ 11 مارچ ۔ (سیاست ڈاٹ کام)ورلڈ ۔ ٹی ۔ 20 کے فائنل وارم اپ گیم میں ہندوستان کا مقابلہ کل طاقتور جنوبی افریقہ سے ہوگا ۔ 15 مارچ کو ہونے والے اصل مقابلہ سے قبل میزبان ہندوستانی ٹیم کیلئے یہ اب تک کا سخت ترین مقابلہ ثابت ہوگا ۔ مختصر ترین فورمیٹ کے اس کھیل میں ہندوستانی ٹیم کا موقف فی الحال کافی مستحکم ہے جو حالیہ 11 میچوں کے منجملہ 10 میں کامیابی حاصل کرچکی ہے ۔ جس میں 50 اوورس فورمیٹ کے چمپیئنس آسٹریلیا کو خود ان کے آنگن میں صفر کے مقابلے تین سے دی گئی شکست بھی شامل ہے ۔ بعد ازاں ایشیاء کپ کھیلتے ہوئے سری لنکا کو ایک کے مقابلے دو سے شکست دی تھی ۔ بعد ازاں ڈھاکہ میں ہندوستانی ٹیم کو لگاتار پانچ کامیابیاں حاصل ہوئی تھی جس کے ساتھ دھونی کی ٹیم نے براعظمی برتری حاصل کرتے ہوئے اپنے اعتماد کو مزید مستحکم کیا ہے ۔ اب ہندوستان میں میزبان ٹیم مقامی حالات سے پوری طرح ہم آہنگ ہے جس کے نتیجہ میں وہ دیگر تمام حریفوں کیلئے ایک انتہائی خطرناک ٹیم کی حیثیت سے اُبھری ہے ۔ لیکن ہندوستانی ٹیم کو آسٹریلیا میں کامیابی سے قبل جنوبی افریقہ کے خلاف صفر کے مقابلے دو سے شکست اٹھانی پڑی تھی چنانچہ کل کا میچ ہندوستانیوں کیلئے نمایاں اہمیت رکھتا ہے ۔ویراٹ کے جارحانہ فارم اور روہت شرما کے متوازن انداز کے ساتھ میزبانوں کے پاس ایسے بہتر بیٹسمین ہیں جو جنوبی افریقی ٹیم سے اچھی طرح نمٹ سکتے ہیں اگرچہ یہ بات اور ہے کہ خود حریف ٹیم کے پاس بھی چند ایسے بیٹسمین ہیں جو میچ جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔بولنگ کے محاذ پر بھی ہندوستان کو کب کیسی بولنگ کرنا ہے اس فن کا بہترین تجربہ ہے ۔

بولنگ حملوں کے آغاز کیلئے دو اسپنرس روی چندرن اشون اور ہربھجن سنگھ کو اُتارا گیا تھا لیکن اس سے کام نہیں چل سکا ۔ سخت فیلڈنگ کے درمیان ماضی میں کچھ زیادہ رنز بھی دے چکے ہیں۔ چنانچہ جنوبی افریقہ کے خلاف کھیل میں ہندوستانی ٹیم اپنے منصوبوں میں کچھ تبدیلی کرسکتی ہے اورکسی دوسری حکمت عملی آزمائی جائے گی ۔ محمد سمیع کی واپسی بھی ہندوستانی ٹیم کیلئے ایک حوصلہ افزاء علامت ہے ۔ بولنگ حملوں کیلئے تجربہ کار آشیش نہرا اورکم تجربہ کار جسپریت بومرہ کے ساتھ سمیع اپنی ٹیم کو ایک بہتر موقف فراہم کرسکتے ہیں۔ بائیں ہاتھ کے اسپنرس رویندر جڈیجہ ، ہاردک پانڈیا اور پون نیگی نے گزشتہ روز ویسٹ انڈیز کے خلاف دو دو وکٹس حاصل کرچکے ہیں۔ دوسری طرف جنوبی افریقی ٹیم بھی ایک مثبت انداز میں ٹورنمنٹ کی شروعات چاہتی ہے ۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ جنوبی افریقی ٹیم تاحال کوئی ورلڈ کپ ، عالمی ٹی ۔ 20 کپ نہیں جیت سکی ہے اور حتیٰ کہ ایسے کسی عالمی مقابلہ کے فائنل تک رسائی بھی حاصل نہیں کرسکی ہے ۔ فاف ڈوپلیسی کی ٹیم میں اے بی ڈی ویلیرس ، ہاشم آملہ ، ڈیوڈ ملر اور کوئینٹن ڈی کاک جیسے بہترین کھلاڑی ہیں اور خود کپتان ڈوپلیسی بھی طاقتور بیٹنگ لائن اپ کے حامل ہیں ۔ ان کی ٹیم میں کرس مورس ، جین پال ڈومنی اور ڈیوڈ ویس جیسے آل راؤنڈرس بھی قابل ذکر ہیں ۔ دنیا کے بہترین پیسرس ڈیل اسٹن فاسٹ بولنگ کے محاذ کی قیادت کریں گے ۔ کاگیسوباڈا ، کائیل ابوٹ اور کرس مورس اس محاذ پر ان کے اہم ساتھی رہیں گے ۔ اسپین کے معاملہ میں پاکستانی نژاد عمران طاہر اور بائیں ہاتھ کے اسپنر آرون فنگیسو جنوبی افریقہ کی ٹیم کو متوازن بنارہے ہیں۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم آسٹریلیا کے خلاف ایک کے مقابلے دو سے شکست کے بعد یہاں پہونچی ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT