طاقتور علاقائی پارٹیوں سے اتحاد سیاست میں انقلابی تبدیلی پیدا کرسکتا ہے:سی پی آئی ایم

کانچی پورم ( ٹاملناڈو )20 جنوری (سیاست ڈاٹ کام ) طاقتور علاقائی پارٹیوں جیسے کُل ہند انا ڈی ایم کے کے ساتھ سی پی آئی ایم کا اتحاد سیاست میں انقلابی تبدیلی پیدا کرسکتا ہے۔ افراد جیسے بی جے پی کے وزارت عظمی کے امیدوار نریندر مودی کے ساتھ اتحاد سے ’’کرپشن اور بنیاد پرستی‘‘ کی جڑواں برائیوں کو نکال باہر نہیںکیا جاسکتا۔ سی پی آئی ایم کے ق

کانچی پورم ( ٹاملناڈو )20 جنوری (سیاست ڈاٹ کام ) طاقتور علاقائی پارٹیوں جیسے کُل ہند انا ڈی ایم کے کے ساتھ سی پی آئی ایم کا اتحاد سیاست میں انقلابی تبدیلی پیدا کرسکتا ہے۔ افراد جیسے بی جے پی کے وزارت عظمی کے امیدوار نریندر مودی کے ساتھ اتحاد سے ’’کرپشن اور بنیاد پرستی‘‘ کی جڑواں برائیوں کو نکال باہر نہیںکیا جاسکتا۔ سی پی آئی ایم کے قائد سیتا رام یچوری نے کل رات ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر سی پی آئی ایم طاقتور علاقائی پارٹیوں جیسے انا ڈی ایم کے کے ساتھ اتحاد کرتی ہے تو اس سے ہماری سیاست میں انقلابی تبدیلی پیدا ہوگی۔ مودی جیسے افراد سے اتحاد ایسی تبدیلی پیدا نہیں کرسکتا ۔ کرپشن اور بنیاد پرستی کی جڑواں برائیوں کو نکال باہر نہیںکیا جاسکتا جس کی عوام خواہش رکھتے ہیں۔ سیتا رام یچوری کو عوام سے جمع کئے ہوئے چندے کی رقم 8 لاکھ 56 ہزار روپئے حوالہ کی گئی ۔ اس پر انہوں نے کہا کہ یہ رقم آئندہ لوک سبھا انتخابات میں استعمال کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ گھرانوں سے عطیے حاصل کرنا سی پی آئی ایم کی پالیسی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو کارپوریٹ گھرانے سیاسی پارٹیوں کو عطیے دیتے ہیں انہیں بھی لازمی طور پر لوک پال کے آگے جوابدے بنانا چاہئے ۔لیکن اس تجویز کی مخالفت صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ بی جے پی کی جانب سے بھی کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انا ڈی ایم کے اور اس کی حلیف پارٹیاں اس مسئلہ کو پارلیمنٹ میں اٹھانے کے سلسلہ میں بائیں بازو کے ساتھ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نمایاں بات یہ ہے کہ یو پی اے کی سابق حلیف ڈی ایم کے نے ایسی تجویز کے خلاف ووٹ دیا ہے ۔ سیتا رام یچوری نے دعوی کیا کہ بائیں بازو کی پارٹیوں کی تائید کے نتیجہ میں ہی کانگریس 2009 کے انتخابات میں بی جے پی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینے میںکامیاب ہوئی تھی لیکن اس پارٹی نے اقل ترین مشترکہ پروگرام پر پوری طرح عمل آوری نہ کرتے ہوئے عوام کو مایوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ غذائی صیانت اور تعلیم کا حق اب بھی ایسے تیقنات ہیں جن کی تکمیل نہیں ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی لاگت توقع سے زیادہ ہوگئی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ 2G اور کوئلہ اسکینڈلس عام آدمی کی دولت ہڑپ کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT