Saturday , January 20 2018
Home / اضلاع کی خبریں / طاق راتوں میں تلاش شب قدر اور ہمارے اعمال

طاق راتوں میں تلاش شب قدر اور ہمارے اعمال

رمضان المبارک بڑابابرکت مہینہ ہے اور اس کے آخری عشرے میں ایک رات ہے جس میں عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے ۔طاق راتوں میں تلاش شب قدر میںجو عبادتیں کررہے ہیں، اللہ انہیں قبول فرمائے اس ماہ مبارک میں مسلمان جتنی پابندی کرتے ہیں وہ بقیہ مہینوں میں بھی اسی طرح پابندرہیں ۔شب قدر عظیم اور فضیلت والی رات ہے اس کے ساتھ ہی یہ تقدیر س

رمضان المبارک بڑابابرکت مہینہ ہے اور اس کے آخری عشرے میں ایک رات ہے جس میں عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے ۔طاق راتوں میں تلاش شب قدر میںجو عبادتیں کررہے ہیں، اللہ انہیں قبول فرمائے اس ماہ مبارک میں مسلمان جتنی پابندی کرتے ہیں وہ بقیہ مہینوں میں بھی اسی طرح پابندرہیں ۔شب قدر عظیم اور فضیلت والی رات ہے اس کے ساتھ ہی یہ تقدیر ساز رات بھی ہے اللہ اس رات تقدیروں کا فیصلہ فرماتا ہے اور اس ایک رات کی عبادت ہزار راتوں کی عبادت سے افضل ہے جتنے بزرگ اور نوجوان طاق رات میں قیام کرتے ہیںاللہ ان کو قبول فرمائے اور مزید مسلمانوں کو اس کی فکر عطا فرمائے ۔اللہ رب العزت نے اپنے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت سے یہ رات یعنی شب قدر عطا فرمائی ہے جس میں عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے اور جس میں اللہ تقدیروں کا فیصلہ فرماتا ہے اللہ رب العزت کو امت محمدیہ سے بہت محبت ہے اس لئے اللہ نے اس پر کئی احسان اور انعام عطا فرمایا ہے طاق راتوں میں تلاش شب قدر کا اہتمام کرنے والوں کو اللہ قبول فرمائے یہ اہتمام حضور اکرم ﷺ اور حضرات صحابہ اکرام ؓ بھی فرماتے تھے اور آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے شب قدر سے جو محروم رہا وہ سال بھر کی برکتوں اور نعمتوں سے محروم رہا۔شب قدر اتنی فضیلت والی رات ہے اوراس فضیلت کو حاصل کرنے اللہ نے بہت آسانی عطا فرمائی ہے ا سکے باوجود شب قدر کی فضیلتوں سے محرومی بدنصیبی ہی ہوگی۔ ہم پورے یقین کے ساتھ صرف ایک رات جاگ کر مان لیتے ہیں کہ ہمیں شب قدر مل گئی ایسا نہیںبلکہ ہمیں طاق راتوں میں شب قدر تلاش کرنا چاہئے۔ اللہ رب العزت نے رمضان المبارک کے مہینہ میں شب قدر جیسی بابرکت و فضیلت والی رات بھی رکھی جو تمام مسلمانوں کے لیے مغفرت و ثواب کی رات ہے ۔ شب قدر وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔سب سے بڑی فضیلت تو یہ ہے کہ اس رات میں اللہ تعالی نے قرآن کریم کو نازل فرمایا۔اللہ تعالی نے فرما یا ’’ بیشک ہم نے قرآن کریم کو شب قدر میں نازل کیا‘‘(سورہ القدر۔۱)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ مقدس رات اللہ نے فقط میری امت کو عطا فرمائی ہے سابقہ امتوں میں یہ شرف کسی کو نہیں ملا،گویا یہ عظیم نعمت بھی رسول رحمت ﷺکی غلامی کے صدقہ میںامت کو نصیب ہوئی ہے اور رب کریم کی اپنے محبوبﷺ کی امت پر خصوصی عنایتوں میں سے ایک عظیم عنایت ہے۔یہ عظیم رات بہت ہی خیر و برکت والی ہے اسی رات کو اللہ نے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے اور ہزار مہینے کے تراسی برس چار ماہ ہوتے ہیں یعنی جو بندہ اس رات میں عبادت کرتا ہے گویا اس نے تراسی برس چار ماہ عبادت کی ۔اور یہ کم سے کم ہے اللہ نے اس رات کو ہزار مہینوں سے بھی افضل قرار دیا ہے یہ مدت کتنی بھی ہوسکتی ہے یعنی ہزار مہینوں تک عبادت کرنے کا جس قدر ثواب ہے اس سے زیادہ شب قدر میں عبادت کرنے کا ثواب ہے۔حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے عبادت کے لیے کھڑا ہوا ، اس کے سابقہ تمام گناہ معاف ہو جا تے ہیں اور اس رات میں فرشتے کثیر تعداد میں اترتے ہیں حضرت جبریل ؑ فرشتوں کے ایک گروہ کے ساتھ اترتے ہیں اور جس شخص کو عبادت ذکر و غیر ہ میں مشغول دیکھتے ہیں اس کے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور بندوں کی دعائوں پر آمین کہتے ہیں۔آخری عشرہ کی طاق راتوں میں شب قدر تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ نقل فرماتی ہیں کہ ’’ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو ‘‘ اس رات کو پانے والا ایک ہزار مہینوں کی عبادت کا ثواب پا تاہے ۔ رمضان المبارک کا مہینہ مسلمانوں کے لئے تربیت کامہینہ ہے اللہ رب العزت چاہتا ہے کہ اس کے بندوں میں تقوی پیدا ہو روزوں کی فرضیت کے ساتھ اللہ نے اسکا مقصد بھی یہی بیان کیا ہے کہ روزے تم پر فرض کئے گئے تا کہ تم میں تقوی پیدا ہو لیکن ہم مسلمانوں پر روزہ فرض ہے یہ سمجھ گئے لیکن اس کے مقصد کو بھول گئے نتیجہ جب سے شعور آیا ہے روزہ پابندی سے رکھ رہے ہیں 30,20,10 سال گزرگئے روزہ رکھتے ہوئے لیکن تقوی پیدا نہیں ہوا مقصد سے لاعلمی نے ہمیں اس سے محروم رکھا ہوا ہے ۔ آج علم عام ہے سینکڑوں کتابیں مطالعہ میں ہیں لائبریریاں کم پڑرہی ہیں علم ہر کوئی حاصل کررہا ہے یہ بہت اچھی بات ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ عمل کے میدان میں سناٹا چھایا ہوا ہے ۔ اسلام عمل کی دعوت دیتا ہے لیکن مسلمان عمل کے معاملے میں کوتاہی برت رہا ہے ۔رمضان المبارک کو قرآن کریم سے خاص نسبت ہے اس ماہ مبارک میںقر آن نازل کیا گیا لیکن مسلمان اس عظیم کلام الہی سے جس کو اللہ رب العزت نے ساری انسانیت کیلئے ہدایت بنا کے نازل فرمایا۔ اس سے غافل ہے ہم خود بھی قرآن کی تلاوت کریں اس کو سمجھیں اس کی تعلیمات پر عمل کریں اپنی اولاد کو بھی قرآن کریم کی تعلیم دیں دورحاضر میں عصری تعلیم کیلئے بے شمار سہولتیں دستیاب ہیں قرآن کریم کی تعلیم کے لئے اس طرح بہترین سہولتیں فراہم کرکے قرآن کو پڑھنے پڑھانے اور سمجھنے کا اہتمام کریں۔ رسول اکرم حضرت محمد مصطفیﷺ نے فر ما یا تم لوگوں میں سب سے بہترین وہ ہے جو قرآن کریم سیکھے اور سکھائے قرآن کریم کی تلاوت کر نا یقینا ًباعث ثواب ہے لیکن اگر اس کو سمجھا جائے تو اس سے ایک خاص تعلق پیدا ہو گا اور زندگی گذارنے کا صحیح سلیقہ و طریقہ سمجھ میں آجائیگا اور قرآن کی تعلیمات پر عمل کر نے کی سعاد ت بھی نصیب ہو گی اور وہ کامیاب ہو جائیگا ۔رمضان المبارک کی قرآن سے خاص نسبت ہے اور قرآن سے جس کی نسبت ہو گئی اس کا درجہ بلند ہو گیا ۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ قرآن کو سمجھیں اور اس کے پیغام کو اوروں تک پہنچائیں۔

TOPPOPULARRECENT