Saturday , November 18 2017
Home / سیاسیات / طاق ۔ جفت اسکیم میں مداخلت سے عدالت کا انکار

طاق ۔ جفت اسکیم میں مداخلت سے عدالت کا انکار

اعلامیہ محدود مدت کیلئے ہے ۔ عدالتیں پالیسی فیصلوں میں مداخلت نہیں کرتیں : دہلی ہائیکورٹ
نئی دہلی 11 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی ہائیکورٹ نے آج عام آدمی پارٹی حکومت کی جانب سے دہلی میں آلودگی پر قابو پانے لاگو کردہ طاق ۔ جفت اسکیم میں کسی طرح کی مداخلت سے انکار کردیا اور کہا کہ یہ تحدیدات صرف 15 جنوری تک کیلئے ہیں۔ عدالت نے تاہم حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ان درخواستوں کے مواد پر غور کرے جو اس کے خلاف عدالت میں دائر ہوئی ہیں۔ اس کے بعد ہی حکومت کو مستقبل کے تعلق سے کوئی فیصلہ کرنا چاہئے ۔ چیف جسٹس جی روہینی اور جسٹس جئینت ناتھ پر مشتمل ایک بنچ نے کہا کہ حالانکہ اس اسکیم پر عمل آوری سے سماج کے ایک طبقہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن عدالتی نظرثانی کے اختیار کو اس طرح کے پالیسی فیصلوں کی درستگی کے عمل تک توسیع نہیں دی جاسکتی ۔ عدالت نے کہا کہ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ جو اعلامیہ حکومت دہلی نے جاری کیا ہے اس کے تحت ٹریفک تحدیدات صرف ایک مقررہ اور محدود مدت تک کیلئے ہے اور یہ اسکیم چونکہ پائلٹ پراجیکٹ کے تحت نافذ کی گئی ہے تاکہ اس سے اگر آلودگی کی شرح میں کسی حد تک کمی ہوسکتی ہے تو اس کا جائزہ لیا جائے ۔ بنچ نے کہا کہ اس صورتحال میں عدالت کا خیال ہے کہ اس کی مداخلت ضروری نہیں ہے ۔ عدالت نے اپنے 12 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ اس اسکیم پر عمل آوری سے سماج کے ایک طبقہ کو مشکلات پیش آئی ہیں تاہم عدالتی نظام کا جو اختیار ہے اسے حکومتوں کے اس طرح کے پالیسی فیصلوں کی درستگی تک توسیع نہیں دی جاسکتی ۔ نہ یہ عدالتوں کے کام کاج میں شامل ہے اور نہ ہی یہ جانچا جاسکتا ہے کہ آیا کوئی مخصوص پالیسی عوام کے حق میں بہتر ہے یا نہیں ۔ بنچ نے کہا کہ عدالت کا یہ خیال ہے کہ قانون بہت واضح ہے کہ عدالتیں اس وقت تک کسی پالیسی مسئلہ میں مداخلت نہیں کرینگی جب تک یہ کوئی غیر دستوری عمل نہ ہو یا پھر اس سے قانونی دفعات کی مخالفت ہوتی ہو یا پھر اختیارات کے بیجا استعمال کا تاثر پیدا نہ ہوتا ہو۔ عدالت نے کہا کہ چونکہ پالیسی فیصلے متعلقہ افراد کی مہارت کے ذریعہ کئے جاتے ہیں ایسے میں عمومی طور پر عدالتیں پالیسی فیصلوں کی درستگی کے تعلق سے کوئی مداخلت نہیں کرتیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT