Saturday , December 16 2017
Home / ہندوستان / طالبات پر پولیس لاٹھی چارج کیخلاف احتجاجی مظاہرے

طالبات پر پولیس لاٹھی چارج کیخلاف احتجاجی مظاہرے

وائس چانسلر بنارس ہندو یونیورسٹی کی برطرفی اور تحقیقات کا مطالبہ

نئی دہلی ۔ 25 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) بنارس ہندویونیورسٹی میں طالبات پر لاٹھی چارج کے خلاف نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) اور اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے احتجاجی مظاہرے کئے۔عوام آدمی پارٹی کی طلبہ تنظیم چھتریووا سنگھرش سمیتی نے بھی دہلی یونیورسٹی کے نارتھ کیمپس میں احتجاجی مارچ منظم کرتے ہوئے بنارس یونیورسٹی طلبہ کے ساتھ یگانگت کا اظہار کیا۔ آر ایس ایس سے ملحق اے بی وی پی نے پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے حقائق کا پتہ چلانے والی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا جبکہ کانگریس کی این ایس یو آئی نے برسرخدمت ہائیکورٹ جج کے ذریعہ تحقیقات اور بنارس ہندو یونیورسٹی وائس چانسلر کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ دونوں طلبہ تنظیموں نے علحدہ احتجاجی مظاہرے کئے۔ کانگریس سے الحاق رکھنے والی طلبہ تنظیم نے دہلی پولیس پر اے بی وی پی کی تائید کا الزام عائد کیا۔ اے بی پی وی پر تنقید کی اور کہا کہ احتجاج صرف علامتی تھا۔ این ایس یو آئی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے اے بی وی پی کے قومی ذرائع ابلاغ کے کنوینر ساکت بہوگنا نے اپنے ٹوئیٹر پر کہا کہ جو لوگ احتجاج پر اظہارحیرت کررہے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اے بی وی پی طلبہ برادری کیلئے کام کرتی ہے کسی سیاسی پارٹی کیلئے نہیں اور اسے اس پر فخر ہے۔ ربط پیدا کرنے پر پارلیمنٹ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او نے کہا کہ وزارت کے قریب احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور دونوں فریقین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ کئی طلبہ بشمول خواتین اور دو صحافی پولیس لاٹھی چارج میں ہفتہ کی رات زخمی ہوگئے تھے۔ یہ احتجاجی مظاہرے لڑکیوں کے چھیڑنے کے واقعہ کے خلاف کئے جارہے تھے۔

 

TOPPOPULARRECENT