Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / طالبان سربراہ ملا اختر منصورامریکی ڈرون حملے میں ہلاک

طالبان سربراہ ملا اختر منصورامریکی ڈرون حملے میں ہلاک

پاکستان میں کارروائی ، افغان انٹلیجنس کی توثیق ، امن کی راہ میں حائل سب سے بڑا خطرہ ختم :امریکی وزیر خارجہ جان کیری
واشنگٹن؍ کابل۔ 22 مئی (سیاست ڈاٹ کام) افغانستان کے طالبان سربراہ ملا اختر منصور، پاکستان کے اندرونی علاقوں میں امریکہ کی جانب سے شاذ و نادر ہی کئے جانے والے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے۔ افغان جاسوس ادارہ نے بھی ملا اختر کی ہلاکت کی توثیق کردی ہے جس کے ساتھ ہی تخریب کاروں کو ایک زبردست دھکہ لگا ہے بلکہ جنگ زدہ افغانستان میں مخدوش امن مساعی کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ بھی ختم ہوگئی ہے۔ امریکی عہدیداروں نے کہا ہے کہ امریکی اسپیشل آپریشنس فورسیس کے بلاپائلٹ طیارہ کے متعدد حملوں میں گزشتہ روز منصور اور ایک دوسرا عسکریت پسند مارا گیا۔ افغان سرحد سے متصلہ شورش زدہ پاکستانی صوبہ بلوچستان کے احمد وال ٹاؤن کے قریب یہ دونوں ایک گاڑی کے ذریعہ دور دراز کے اندرونی علاقہ کا سفر کررہے تھے کہ امریکی ڈرون طیاروں نے ان کی گاڑی کو حملے کا نشانہ بنایا۔ افغان کے انٹلیجنس ادارہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں کئے گئے امریکی ڈرون حملے میں منصور ہلاک ہوگئے۔ افغان سکیورٹی کے نیشنل ڈائریکٹوریٹ نے اپنے مختصر بیان میں کہا کہ ’’ایک مختصر عرصہ سے منصور پر قریبی نظر رکھی جارہی تھی اور انہیں بلوچستان میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ دیگر جنگجوؤں کے ساتھ اس گاڑی میں سوار تھے‘‘۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے مائنمار کے دارالحکومت نیپیائیڈا میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’منصور سے امریکی اہلکاروں، افغان شہریوں اور افغان سکیورٹی فورسیس کو سنگین خطرہ لاحق تھا‘‘۔ کیری نے کہا کہ منصور نے امن مذاکرات کی راست مخالفت کی تھی۔ کیری نے مزید کہا کہ ’’امریکہ ایک طویل عرصہ سے اس عہد کا پابند رہا ہے کہ افغانستان کے زیرقیادت، افغانستان کی سرپرستی میں ہی امن و مصالحت کا عمل شروع کرنا ہی امن کو یقینی بنانے کا ایک یقینی راستہ ہوسکتا ہے اور وہ امن ہی ہے جو ہم بھی چاہتے ہیں لیکن منصور اس (امن) کیلئے خطرہ تھا‘‘۔ امریکی دفاعی ادارہ پینٹگان نے قبل ازیں توثیق کی کہ صدر بارک اوباما کی اجازت سے شروع کردہ ایک کارروائی میں منصور کو نشانہ بنایا گیا جس کی عمر 50 سال سے زائد تھی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بسااوقات طالبان قائدین کی غلط اطلاعات بھی دی جاتی رہی ہیں، خود ملامنصور کی ہی ہلاکت کی ایک اطلاع گزشتہ سال دسمبر میں بھی دی گئی تھی۔ ملااختر منصورنے 2015ء میں طالبان کی قیادت سنبھالی تھی۔ وہ طالبان کے بانی و روحانی سربراہ ملا محمد عمر کے جانشین تھے۔ پینٹگان کے پریس سیکریٹری پیٹرکک نے کہا کہ ’’منصور جو طالبان کے لیڈر تھے، کابل اور سارے افغانستان میں کئے جانے والے مختلف حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل آوری میں سرگرمی کے ساتھ ملوث تھے جس سے افغانستان کے عام شہریوں، سکیورٹی فورسیس اور ہمارے (امریکی ) اہلکاروں کے علاوہ حلیف ساجھیداروں کو سنگین خطرہ لاحق تھا‘‘۔ وہائٹ ہاؤز کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ منصور کو نشانہ بنائے جانے والے ڈرون حملے کے فوری بعد پاکستان اور افغانستان کو مطلع کردیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT