طالبان سے امن مذاکرات کیلئے افغان ٹیم کی ابوظہبی آمد

امریکہ 2001ء میں شروع ہوئی افغان جنگ سے بہرقیمت باہر آنے کوشاں
خلیل زاد کو آئندہ سال افغانستان میں صدارتی انتخابات سے قبل طالبان کیساتھ مثبت معاہدہ کی امید

کابل ۔ 18 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ابوظہبی میں افغانستان کی ایک ایسی ٹیم پہنچی ہے جو امن مذاکرات میں حصہ لے گی۔ ایک عہدیدار نے یہ بات بتائی جبکہ صرف ایک روز قبل ہی امریکہ اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کا انعقاد کیا گیا تھا جس کا مقصد 17 سال طویل جنگ کا خاتمہ ہے۔ افغانستان کی ٹیم کی قیادت مذاکرات کار عبدالسلام رحیمی کررہے ہیں تاکہ طالبان وفد کے ساتھ امن بات چیت کے علاوہ فریقین کی دوبدو ملاقات کی تیاریاں بھی شامل ہیں۔ افغان صدر کے ترجمان ہارون چکھن سوری نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔ یاد رہیکہ صدر افغانستان اشرف غنی نے بارہ رکنی ٹیم کا اعلان ماہ نومبر میں کیا تھا جو دراصل طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی ایک سفارتی کوشش تھی تاہم اس کے باوجود طالبان نے ملاقات کی توثیق نہیں کی تھی اور پھر پیر کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ افغان عہدیدار کے ساتھ انہوں نے کوئی تبادلہ خیال نہ کرنے کا جو عزم کر رکھا ہے وہ ہنوز اسی پر قائم ہیں۔ دوسری طرف منگل کے روز ایک دیگر بیان جاری کرتے ہوئے طالبان نے بتایا کہ انہوں نے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے خصوصی قاصد زلمے خلیل زاد کے ساتھ ابتدائی مذاکرات کی ہے جس کا سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا۔

طالبان نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان، یو اے ای اور سعودی عرب کے عہدیداروں کے ساتھ بھی ان کی تفصیلی ملاقات ہوئی ہے جہاں طالبان نے اپنا وہی پُرانا مطالبہ دہرایا تھا کہ افغانستان سے بین الاقوامی فوج کو فوری طور پر ہٹا لیا جائے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ 1996-2001ء کے دوران افغانستان میں طالبان حکومت کو صرف سعودی عرب، یو اے ای اور پاکستان نے ہی تسلیم کیا تھا۔ دوسری طرف امریکہ نے طالبان اور زلمے خلیل زاد کے درمیان راست ملاقات کی توثیق نہیں کی تھی تاہم پیر کے روز اس بات کی توثیق کی گئی کہ خلیل زاد اس خطہ میں موجود ہے اور یو اے ای میں ملاقات اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے تاکہ 17 سالہ طویل جنگ کا خاتمہ ہوسکے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ خلیل زاد نے ماضی میں بھی دلچسپی رکھنے والے ممالک ؍ پارٹی بشمول طالبان سے بات چیت کی ہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہوتا رہے گا۔ اب صورتحال یہ ہیکہ جس مصیبت کو (افغانستان پر 2001ء میں حملہ) امریکہ نے گلے لگایا تھا اب وہی اس کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے اور امریکہ جلد سے جلد اس صورتحال سے باہر آنا چاہتا ہے اسی لئے سفارتی طور پر بھی ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے کہ طالبان امن مذاکرات کیلئے راضی ہوجائے۔ خلیل زاد نے یہ امید ظاہر کی ہیکہ آئندہ سال اپریل میں افغانستان میں صدارتی انتخابات کے انعقاد سے قبل کوئی نہ کوئی مثبت معاہدہ ضرور کیا جائے گا اور اس لئے ماہ ستمبر میں اپنی تقرری کے بعد خلیل زاد نے اس خطہ کا متعدد بار دورہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT