Saturday , January 20 2018
Home / دنیا / طالبان سے ملاقات کیلئے افغان وفد کی قطر روانگی

طالبان سے ملاقات کیلئے افغان وفد کی قطر روانگی

کابل 2 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک افغان وفد آج قطر کیلئے روانہ ہوگیا جہاں وہ طالبان کے نمائندوں کے ساتھ دو روزہ کھلے مذاکرات میں حصہ لے گا ۔ ان مذاکرات کا مقصد افغانستان میں جاری طویل جنگ کو ختم کرنا ہے ۔ ایک عہدیدار نے یہ بات بتائی ۔ قونصل خانہ کے اولین نائب عبدالحکیم مجاہد نے بتایا کہ ایک 20 رکنی افغان وفد قطر میں اتوار اور پیر کو ہونے و

کابل 2 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک افغان وفد آج قطر کیلئے روانہ ہوگیا جہاں وہ طالبان کے نمائندوں کے ساتھ دو روزہ کھلے مذاکرات میں حصہ لے گا ۔ ان مذاکرات کا مقصد افغانستان میں جاری طویل جنگ کو ختم کرنا ہے ۔ ایک عہدیدار نے یہ بات بتائی ۔ قونصل خانہ کے اولین نائب عبدالحکیم مجاہد نے بتایا کہ ایک 20 رکنی افغان وفد قطر میں اتوار اور پیر کو ہونے والی بات چیت میں حصہ لینے کیلئے روانہ ہوگیا ہے ۔ اس میں ہائی پیس کونسل کے دو ارکان بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کھلے مذاکرات ہونگے ۔ یہ افغانستان میں ہوئی بات چیت کی پیشرفت ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان ‘ پاکستان اور طالبان کے نمائندے بات چیت میں حصہ لیں گے ۔ ہائی پیس کونسل کا قیام افغانستان کے اس وقت کے صدر حامد کرزئی نے 2010 میں عمل میں لایا تھا ۔ اس کا مقصد طالبان اور دوسرے عسکری گروپس کے اتھ بت چیت کرنا تھا تاہم اب تک اس بات چیت میں معمولی پیشرفت ہی ہوئی ہے ۔ طالبان کے سرکاری ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے توثیق کی کہ طالبان کا آٹھ رکنی وفد بھی ان مذاکرات میں حصہ لے گا ۔ اس بات چیت کا اہتمام پگواش کونسل کی جانب سے کیا جا رہا ہے ۔

یہ ایک عالمی تنیم ہے جو تنازعات کو ختم کرنے بات چیت کی حوصلہ افزائی کرتی ہے ۔ طالبان کے ترجمان نے کہا کہ تاہم طالبان کی بات چیت میں شمولیت کا یہ مقصد نہیں ہے کہ امن بات چیت یا مذاکرات میں حصہ لیا جا رہا ہے ۔ ماضی میں بھی طالبان کے ساتھ بات چیت کی شروعات کو یقینی بنانے کی کوششیں ناکام ہوگئی تھیں۔ طالبان نے جون 2013 میں قطر میں اپنا دفتر قائم کیا تھا جسے امن بات چیت کی سمت پہلا قدم قرار دیا جا رہا تھا تاہم اس دفتر کو ایک ماہ بعد بند کردیا گیا تھا کیونکہ اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی نے اس دفتر کو جلاوطن حکومت کا نام نہاد سفارتخانہ قرار دیا تھا ۔ طالبان نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ انہوں نے ماضی میں افغان حکومت کے ساتھ بات چیت میں حصہ لیا تھا ۔ طالبان کا کہنا ہے کہ بات چیت اسی وقت ممکن ہوسکتی ہے جب بیرونی افواج غیر مشروط طور پر افغانستان سے دستبرداری اختیار کرلیں۔ گذشتہ مہینے سے طالبان کی جانب سے افغانستان میں حملوں کا سلسلہ تیزی اختیار کر گیا ہے ۔ انہوں نے سرکاری اور بیرونی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT