Thursday , October 18 2018
Home / دنیا / طالبان میں موجود عناصر امن بات چیت کیلئے تیار:میٹس

طالبان میں موجود عناصر امن بات چیت کیلئے تیار:میٹس

کابل ۔ 13 مارچ ۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکی وزیردفاع جم میٹس نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ طالبان میں موجود بعض عناصر افغان حکومت سے بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ جم میٹس غیرمعلنہ دورہ پر آج ہی کابل پہنچے ہیں۔ حالانکہ صرف دو روز قبل صدر افغانستان اشرف غنی نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے ایک منصوبہ کا تذکرہ کیا تھا ۔ جم میٹس نے آتے ہی ’’کام کی بات‘‘ شروع کرتے ہوئے یہ بھی کہاکہ اب تک حالانکہ طالبان کی جانب سے حکومت افغانستان کی جانب سے کی گئی بات چیت کی پیشکش کا کوئی مثبت جواب نہیں ملا ہے تاہم بعض عناصر ایسے ہیں جو بات چیت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ طالبان کا مطلب یہ نہیں کہ پورا کا پورا گروہ بات چیت کے لئے دیوانہ وار ہماری جانب لپکے گا ۔ ایسا سوچنا بھی ’’دلی ہنوز دور است ‘‘ کے مترادف ہے لیکن ہرگروہ ، ہر جماعت اور ہر فرقہ میں ایسے عناصر بھی ہوتے ہیںجو مثبت مکتب فکر کے حامل ہوتے ہیں حالانکہ انھوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ غلط ہوتا ہے ۔

ایک فوجی طیارہ میں موجود اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے یہ بات کہی ۔ یہاں اس بات کا ذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ اشرف غنی کے منصوبوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ طالبان کو ایک سیاسی پارٹی کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے ۔ دوسری طرف طالبان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ بات چیت کیلئے تیار ضرور ہے لیکن افغان حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ امریکہ کے ساتھ کیونکہ طالبان کی نظر میں حکومت افغانستان ’’غیرقانونی ‘‘ہے اور قیام امن کے لئے اُس کی کوششیں محض دھوکہ اور فریب ہیں۔ طالبان نے یہ کہتے ہوئے جکارتہ میں منعقد ہونے والی ایک اسلامی کانفرنس میں شرکت کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا تھا ۔ تاہم میٹس طالبان کی اس منطق سے متفق نہیں ۔ اُن کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کو ہی امن بات چیت کی قیادت کرنی پڑے گی ۔ انھوں نے کہاکہ اس معاملہ کو سیاسی تناظر میں دیکھنے کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ امریکہ اب 16 سال کے طویل عرصہ کے بعد افغانستان میں فتح سے ہمکنار ہونا چاہتا ہے تاکہ امریکی عوام کو بھی یہ باور کیا جاسکے کہ امریکہ جنگ کے نتائج اپنے حق میں کرنے کافن بھی جانتا ہے۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ ’’فتح‘‘ کے معنی خود اُن کی نظر میں کیا ہیں ؟ جس کاجواب دیتے ہوئے میٹس نے کہاکہ ایک ایسا ملک جس کی باگ ڈور خود اُس کے عوام اور لاء انفورسمنٹ کے ہاتھوں میں ہو تاکہ وہ کسی بھی خطرے سے بخوبی نمٹ سکیں۔ بے شک کچھ عرصہ کے لئے بعض بیرونی ممالک کی مدد کی بھی اُسے ضرورت پڑسکتی ہے ۔ یہ بات میں امریکہ کے لئے نہیں بلکہ افغانستان کے لئے کہہ رہا ہوں تاکہ وہ مندرجہ بالا شعبوں میں خود کفیل ہوجائے اس لئے امریکہ نے افغانستان پر نظرثانی کی ہے کیونکہ سابق صدر بارک اوباما کے زمانے میں تو یہ کام نہیں ہوسکا ۔

اُس وقت کے کئی اعلیٰ سطحی فوجی جنرلوں کے ساتھ ہوئی بات چیت بھی بے فیض ثابت ہوئی ہے ۔ ہم یہ کام اب سیاسی صلح کے لئے کررہے ہیں تاکہ فوجی فتح کیلئے جنوبی ایشیاء کی نام نہاد حکمت عملی کے حصہ کے طورپر صدر ٹرمپ کے گزشتہ سال طالبان کے ٹھکانوں پر زائد بمباری جن میں منشیات کی لیابس اور ٹریننگ کیمپس شامل ہیں کا حکم دیا تھا جبکہ مقامی یعنی افغانی فوج کو زائد تربیت فراہم کرنے زائد از 3000امریکی فوجی بھی افغانستان آئے ہیں ۔ اس طرح ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں اب امریکی فوجیوں کی تعداد 14000 ہوچکی ہے اور یہ تعداد سابق صدر اوباما کے زمانے سے بہت زیادہ ہے کیونکہ اُس وقت افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 8,500 تھی ۔ افغان صدر نے طالبان کو امن مذاکرات کی پیشکش اس لئے بھی کی ہے کہ حالیہ دنوں میں معصوم اور بے قصور شہریوں کی ہلاکت میں قابل لحاظ اور قابل تشویش اضافہ ہورہا تھا ۔ یاد رہے کہ میٹس نے جب سے وزارت دفاع کا قلمدان سنبھالا ہے ، یہ اُن کا تیسرا دورۂ افغانستان ہے تاہم اس بار اُن کے دورہ کو انتہائی رازدارانہ انداز میں قطعیت دی گئی تھی کیونکہ گزشتہ سال ستمبر میں جب وہ افغانستان آئے تھے اُس وقت اُن کی آمد کے کچھ گھنٹوں بعد ہی کابل ایرپورٹ پر شورش پسندوں نے شیلز برسائے تھے۔
آسٹرین پارلیمنٹ کے باہر پولیس گارڈ پر حملہ
ویانا۔ 13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) آسٹریا کی پولیس نے دعویٰ کیا کہ ایک شخص نے پولیس گارڈ کو اس کی کار سے کھینچ کر باہر نکالا ۔ یہ واقعہ آسٹریا کی پارلیمنٹ کے روبرو پیش آیا۔ حملہ آور کو گرفتار کرلیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT