Friday , December 15 2017
Home / دنیا / طالبان کا افغان حکومت سے راست بات چیت کرنے سے انکار

طالبان کا افغان حکومت سے راست بات چیت کرنے سے انکار

بیرونی افواج کا قبضہ ختم کرنے پر زور ۔ تخریب کاری روکنے افعانستان ‘ چین ‘ پاکستان اور امریکہ کی کوششوں کو دھکا
کابل 5 مارچ ( اے ایف پی ) طالبان نے افغان حکومت کے ساتھ راست امن بات چیت سے انکار کردیا جس کے نتیجہ میں طویل وقفہ سے تعطل کا شکار بات چیت کا احیاء عمل میں لانے بین الااقومی کوششوں کو زبردست جھٹکا لگا ہے ۔ بین الاقوامی برادری اس بات چیت کے ذریعہ 14 سال سے جاری تخریب کاری کو ختم کرنے کوشاں تھی ۔ طالبان نے آج ایک بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ راست بات چیت نہیں کرینگے ۔ فریقین کے مابین راست بات چیت کا جاریہ ہفتے اسلام آباد میں آغاز ہونے والا تھا ۔ اس بیان میں راست بات چیت کیلئے کئی شرائط پیش کی گئی ہیں جن میں افغانستان سے بیرونی افواج کی واپسی بھی شامل ہے ۔ واضح رہے کہ حالیہ عرصہ میں تخریبی کارروائیوںمیں طالبان کو شدید جھٹکا لگا ہے جس کے بعد انہوں نے سخت گیر موقف اختیار کرلیا ہے ۔ حالیہ فوجی کارروائیوں میں طالبان کو نقصانات ہوئے ہیں تاہم ناٹو کی جانب سے یہاں لڑاکا کارروائیوں کو ختم کردیا گیا ہے ۔ طالبان نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے موقف کا ایک بار پھر اعادہ کیا جائے ۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ جب تک بیرونی افواج کا قبضہ برقرار رہتا ہے اور جب تک بین الاقوامی سطح پر بلیک لسٹ سے طالبان کا نام حذف نہیں کیا جاتا اور جب تک ہمارے محروسین کو رہا نہیں کیا جاتا اس وقت تک بات چیت کے نتائج نہیں نکلنے والے ۔

افغانستان ‘ چین ‘ پاکستان اور امریکہ کی جانب سے تخریب کاری کو ختم کرنے کے مقصد سے بات چیت کے احیاء کی کوششیں کی جا رہی تھیں جنہیں طالبان کے اس بیان سے شدید جھٹکا لگا ہے ۔ گذشتہ فبروری کے اواخر میں چاروں ممالک کے مندوبین کا کابل میں چوتھے دور کی بات چیت کیلئے اجلاس منعقد ہوا تھا ۔ اس اجلاس کا مقصد بھی طالبان ۔ افغان راست بات چیت کو بحال کرنا تھا ۔ بات چیت کا یہ عمل گذشتہ سال گرما میں تعطل کا شکار ہوا تھا اور ابھی تک تعطل ختم نہیں کیا جاسکا ہے ۔ ان چاروں ممالک نے زور دیا تھا کہ طالبان اور افغان حکومت کے مابین جاریہ ہفتے راست بات چیت چاہئے ۔ کچھ تجزیہ نگاروں نے بات چیت کیلئے جو مہلت مقرر کی گئی تھی اسے یکسر غیر حقیقت پسندانہ قررا دیا تھا۔ طالبان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ اسلامی مملکت ( طالبان ) کے سربراہ نے کسی کو بھی اس بات چیت میں حصہ لینے کی اختیار نہیں دیا ہے اور نہ ہی اسلامی امارت کی لیڈر شپ کونسل نے اس بات چیت میں حصہ لینے سے اتفاق کیا ہے ۔ طالبان نے اپنے بیان میں امریکہ پر دوہرے معیارات کا الزام بھی عائد کیا ہے اور کہا کہ اس نے فضائی حملوں اور راتوں میں کی جانے والی کارروائیوں میں اضافہ کردیا ہے اور ساتھ ہی وہ بات چیت کے احیاء کی کوشش کر رہی ہے ۔ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے ۔ طالبان نے بھی افغانستان میں بیرونی نشانوں پر حملوں میں اضافہ کردیا ہے ۔ یہ حملے موسم سرما میں بھی کئے گئے حالانکہ اس موسم میں لڑائی عموما کم ہوجاتی ہے ۔ ان حملوں سے افغانستان میں سکیوریٹی صورتحال کے ابتر ہونے کا اشارہ ملتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT