Friday , September 21 2018
Home / دنیا / طالبان کا حملہ ‘ کم از کم 10افغان پولیس عہدیدار ہلاک

طالبان کا حملہ ‘ کم از کم 10افغان پولیس عہدیدار ہلاک

قندھار۔24مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) طالبان شورش پسندوں نے آج دھماکو صورتحال والے جنوبی افغانستان میں ایک پولیس چوکی پر حملہ کر کے کم از کم 10پولیس عہدیداروں کو ہلاک کردیا ۔ عہدیداروں کے بموجب ڈائرکٹر صوبہ ہلمند مشترکہ رابطہ دفتر محمد اسمعیل ہوتکی نے کہا کہ طالبان جنگجوؤں نے 10پولیس چوکیوں پر صوبہ کے ضلع سنگین میںحملہ کیا ۔ تین پولیس چوکیو

قندھار۔24مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) طالبان شورش پسندوں نے آج دھماکو صورتحال والے جنوبی افغانستان میں ایک پولیس چوکی پر حملہ کر کے کم از کم 10پولیس عہدیداروں کو ہلاک کردیا ۔ عہدیداروں کے بموجب ڈائرکٹر صوبہ ہلمند مشترکہ رابطہ دفتر محمد اسمعیل ہوتکی نے کہا کہ طالبان جنگجوؤں نے 10پولیس چوکیوں پر صوبہ کے ضلع سنگین میںحملہ کیا ۔ تین پولیس چوکیوں پر قبضہ کرلیا اور ان کی یلغار جاری ہے ۔ ہوتکی نے کہا کہ تشدد میں کم از کم 10پولیس عہدیدار ہلاک اور دیگر 16 زخمی ہوگئے ہیں ۔ بعدازاں سنگین کے نائب پولیس سربراہ حاجی باری نے کہا کہ عہدیداروں نے اس علاقہ سے کم از کم 13 مقتول پولیس عہدیداروں کی نعشیں برآمد کی ہیں ۔ جب کہ دیگر 15 زخمی ہیں ۔ ایسے ہلاکتوں کے بارے میں متضاد اعداد و شمار جاریہ حملوں کے دوران عام بات ہوگئے ہیں ۔ باری نے کہا کہ ہم 80فیصد چوکیوں پر قابض ہیں اور فی الحال طالبان کے ساتھ جنگ دو پولیس چوکیوں پر جاری ہے ۔ طالبان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور وہ پوری طاقت کے ساتھ حملے کررہے ہیں ۔ طاقت کی یہ سطح جس کا وہ لوگ مظاہرہ کررہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جوابی وار کرنے کے طاقتور موقف میں ہیں ۔

افغان فوج طالبان کے ساتھ صوبہ ہلمند میں تقریباً گذشتہ تین ماہ سے جنگ میں مصروف ہے‘ جب کہ فوجی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا جس کا مقصد شورش پسندوں کے موسم گرما میں سالانہ حملوں سے پہلے ان کے سامنے اپنی طاقت کا مظاہرہ تھا ۔ کیونکہ جارحانہ کارروائی کا آغاز 24اپریل کو ہوا تھا ۔ طالبان نے کئی حملے ملک کے کئی علاقوں میں کئے ہیں ۔ پولیس چوکیاں ان کا باقاعدہ نشانہ ہے کیونکہ وہ اکثر کم تعداد میں ملازمین پولیس کی تعیناتی اور چوکیوں کی مخدوش حالت کا جائزہ لینے کے بعد حملے کرتے ہیں ۔ پولیس کے کئی ملازمین ہلاک ہوچکے ہیں ۔ پولیس کو اکثر طالبان کے ساتھ جنگ کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے کیونکہ ان کے وسائل فوج کے مماثل نہیں ہے ۔ وہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ان کے حوصلے بلند کرنے کیلئے انہیں بھی طالبان سے جنگ کے دوران میدان جنگ میں غلبہ پانے کیلئے فوج کے مماثل ہتھیاروں سے آراستہ کیا جائے ۔مدافعتی جنگ اس وقت شروع ہوئی جس کہ ناٹو اور امریکی فوجی افغانستان میں گذشتہ سال کے ختم پر اپنا جنگی مشن ختم کرکے وطن واپس ہوگئے ۔

TOPPOPULARRECENT