Wednesday , November 22 2017
Home / ہندوستان / طالبہ کی کپڑے اُتارکر جامہ تلاشی پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ

طالبہ کی کپڑے اُتارکر جامہ تلاشی پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ

سی پی آئی ایم اور ترنمول کانگریس کے ارکان میں جھڑپ
نئی دہلی ۔ 21 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) مغربی بنگال کے کٹر حریفوں سی پی آئی (ایم ) اور ترنمول کانگریس کے درمیان آج راجیہ سبھا میں شدید جھڑپ ہوئی ۔ دونوں جانب ارکان نے ایک دوسرے پر فقرے کسے ۔ مغربی بنگال میں خاتون اسٹوڈنٹ لیڈرس کی کپڑے اُتارکر مبینہ طورپر تلاشی لینے کے مسئلہ کو اُٹھاتے ہوئے پارلیمنٹ میں سی پی آئی (ایم ) نے احتجاج کیا۔ سی پی آئی (ایم) کے جھرنا داس ویدیا نے وقفہ صفر کے دوران اس مسئلہ کو اُٹھایا اور کہا کہ فیڈریشن آف انڈیا سے تعلق رکھنے والی چار اسٹوڈنٹس لیڈرس کو گزشتہ ہفتہ علی پور سنٹرل جیل میں مبینہ طورپر کپڑے اُتارنے کیلئے زبردستی کیا گیا اور اُن کی تلاشی لی گئی ۔ اسٹوڈنٹس لیڈروں کے ساتھ سیاسی کارکنوں کی طرح برتاؤ کیا گیا ۔ ان کے ساتھ کی گئی حرکت ، غیرقانونی اذیت کی تعریف میں آتی ہے لہذا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے ۔ جھرنا داس ویدیا کے اس بیان پر ترنمول کانگریس کے ارکان نے شدید احتجاج کیا ۔ ٹی ایم سی نے ایوان میں یہ مسئلہ اُٹھانے پر شدید اعتراض کیا ۔ ٹی ایم سی رُکن سکھندیو شیکھر راؤ نے کہا کہ قواعد کے مطابق کوئی بھی مسئلہ حکومت ہند کی اولین ذمہ داریوں سے تعلق نہیں رکھتا اور اس کو ایوان میں اُٹھایا نہیں جاسکتا ۔ انھوں نے کہاکہ اس واقعہ کی تحقیقات کا پہلے ہی حکم دیا جاچکا ہے ۔ شیکھر راؤ کے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے ڈپٹی چیرمین راجیہ سبھا پی جے کورین نے تاہم کہا کہ مرکز اور ریاستوں کے درمیان جو خطِ فاصل پایا جاتا ہے اس پر اپنے اختیارات کو غالب نہیں کیا جاسکتا ۔

TOPPOPULARRECENT