Thursday , August 16 2018
Home / ہندوستان / طالب علم کا اپنے والد کے روبرو اعتراف جرم

طالب علم کا اپنے والد کے روبرو اعتراف جرم

ریان انٹرنیشنل اسکول قتل مقدمہ میں ملزم کو تین دن سی بی آئی تحویل میں دیدیا گیا
نئی دہلی۔9 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) گڑگائوں کے ریان انٹرنیشنل اسکول کے 11 ویں جماعت کے طالب علم نے اپنے والد اور ایک آزاد عینی گواہ کے روبرو جرم کا اعتراف کیا ہے۔ اس طالب علم کو سی بی آئی نے مبینہ طور پر 7 سالہ طالب علم کی ہلاکت کے سلسلہ میں حراست میں لیا ہے اور آج تحقیقاتی ایجنسی نے جیوینائل کورٹ کو بتایا کہ اپنے والد اور ایک آزاد عینی گواہ کے روبرو اس طالب علم نے قتل کا اعتراف کیا۔ سی بی آئی نے اس 16 سالہ طالب علم کو ریمانڈ میں دینے کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ اس جرم میں دیگر افراد ملوث ہیں یا نہیں اس کا پتہ چلانے کے لیے تحویل میں لے کر تفتیش ضروری ہے۔ ایجنسی اس طالب علم سے یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ اس نے دوسری جماعت کے طالب علم پردھومان کے 8 ستمبر کو قتل میں استعمال کی گئی چاقو کس دکان سے خریدی تھی۔ سی بی آئی نے بتایا کہ اس جرم کی تمام تفصیلات معلوم کرنے اور پس پردہ سازش اگر ہو تو اس کا پتا چلانے اور ساتھ ہی ساتھ مقدمہ سے متعلق دیگر شواہد اکٹھا کرنے کے لیے 11 ویں جماعت کے اس طالب علم کی تفتیش ضروری ہے۔ عدالت نے ملزم کو تین دن کے لیے سی بی آئی تحویل میں دے دیا۔ اس مقدمہ نے کل اس وقت اچانک ایک نیا رخ اختیار کرلیا جب سی بی آئی نے بتایا کہ ریان انٹرنیشنل اسکول کے ایک طالب علم کو منگل کی رات قتل مقدمہ کے سلسلہ میں گرفتار کیا گیا ہے اور تحقیقاتی ایجنسی نے گروگرام پولیس کا یہ دعوی مسترد کردیا کہ اسکول بس کنڈکٹر اشوک کمار نے طالب علم کا قتل کیا ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی نے عدالت کو بتایا کہ اس طالب علم نے نہ صرف قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا بلکہ اپنے والد اور آزاد عینی گواہ کی موجودگی میں یہ بتایا کہ ریان انٹرنیشنل اسکول کے گرائونڈ فلور بوائس واش روم پر اس نے اس جرم کا ارتکابکیا۔ سی بی آئی نے کہا کہ بس کنڈکٹر اشوک کمار کے خلاف اب تک کوئی ثبوت دستیاب نہیں ہوا۔ تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق 11 ویں جماعت کا یہ طالب علم تعلیم میں بے حد کمزور ہے۔ اس نے محض والدین اور اساتذہ کی مقررہ ملاقات اور ایک امتحان کو ملتوی کرتے ہوئے اسکول کو تعطیل دلانے کی خاطر دوسرے طالب علم کا قتل کردیا۔ سی بی آئی نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج، سائنٹفک اور فارنسک معائنوں اور جرم کے مقام کا تفصیلی جائزہ لینے کے علاوہ طلبہ، اساتذہ اور اسکول کے اسٹاف ممبرس سے پوچھ تاچھ کے نتیجہ میں یہ معمہ حل ہوسکا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور جرم کے مقام کا جائزہ لینے کے بعد تحقیقاتی ایجنسی نے تمام مشتبہ افراد اور عینی گواہوں سے سوالات کیے۔

TOPPOPULARRECENT