Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / طاہر مرچنٹ اور فیروز خاں کو سزائے موت، ابو سالم کو عمر قید

طاہر مرچنٹ اور فیروز خاں کو سزائے موت، ابو سالم کو عمر قید

۔1993 ممبئی سلسلہ وار دھماکے کیس  ۔24 سال بعد عدالت کا فیصلہ

کریم اللہ خاں کو بھی عمر قید، ریاض صدیقی کو 10 سال کی سزاء، عبدالقیوم کی ناکافی ثبوت کے باعث رہائی

ممبئی۔7 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ممبئی کی عدالت نے 1993ء ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے کیس میں طاہر مرچنٹ اور فیروز عبدالرشید خاں کو سزائے موت سنائی جبکہ گینگٹسر ابو سالم کو عمر قید کی سزا سنائی۔ ابو سالم کے علاوہ عدالت نے کریم اللہ کو بھی اس کیس میں عمر قید کی سزاء دی ہے جبکہ پانچویں مجرم ریاض صدیقی کو 10 سال کی سزاء دی گئی۔ ٹاڈا کی خصوصی عدالت نے جون میں اصل ذہن ساز مصطفی دوسہ اور ابو سالم کے بشمول 6 افراد کو ماخوذ کیا تھا۔ ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے کیس میں 24 سال بعد یہ فیصلہ آیا ہے جس میں 257 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ملک کے مالیاتی دارالحکومت ممبئی میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد پھوٹ پڑنے والے تشدد کے تسلسل میں 1993 ء میں بم دھماکے ہوئے تھے۔ عدالت نے تاہم ملزم عبدالقیوم کو بری کردیا۔ ان کے خلاف ناکافی ثبوت کی بناء پر رہائی دی گئی ۔ یہ اس مقدمہ کا دوسرا مرحلہ تھا۔ تمام 7 ملزمین کو ہمہ رخی الزامات کا سامنا تھا جس میں مجرمانہ سازش، حکومت ہند کے خلاف اعلان جنگ اور قتل کے الزام شامل ہیں۔ عدالت نے اپنے 16 جون کو دیئے گئے رولنگ میں 6ملزمین کو ماخوذ کیا تھا۔ ابو سالم کو اصل سازشی ذہن ہونے کا ثبوت ملا تھا جس نے 3 اے کے 56 رائفلس، اسلحہ گولہ بارود اور دستی بم اداکار سنجے دت کو پہنچائے تھے۔ (سنجے دت کو اس مقدمہ کے پہلے مرحلہ میں آرمس ایکٹ کے تحت سزا ہوچکی ہے) ابو سالم جو مفرور ملزم دائود ابراہیم کے بھائی کا قریبی ساتھی ہے، انہیں ابراہیم اور مصطفی دوسہ نے مل کر ممبئی کو اسلحہ اور گولہ بارود لائے تھے۔ دہشت گرد کارروائیوں کو انجام دینے کے لیے ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے کی سازش کی گئی تھی تاکہ ہندوستان کے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جاسکے۔ ابو سالم، مصطفی دوسہ، کریم اللہ خان، فیروز عبدالرشید خاں، ریاض صدیقی، طاہر مرچنٹ اور عبدالقیوم کے مقدمہ کو اصل کیس سے علیحدہ کیا گیا تھا کیوں کہ یہ تمام ملزمین بعدازاں گرفتار ہوئے تھے۔ مصطفی دوسہ کا 28 جون کو ممبئی کے جے جے ہاسپٹل میں قلب پر حملے کے باعث انتقال ہوا تھا۔ عدالت نے طاہر مرچنٹ کو اصل سازشی ذہنوں کے درمیان اہم رول ادا کرنے والا قرار دیا تھا۔ اس نے مفرور سازشی ذہن ٹائیگر میمن کے ساتھ مل کر کام کیا تھا اور دوبئی میں کئی میٹنگوں میں دھماکے کرنے کی سازش کی گئی تھی۔طاہر نے سفری انتظامات کئے تھے اور مالی امداد فراہم کرتے ہوئے قیام کا بھی انتظام کیا تھا۔ پاکستان میں ان کی ٹریننگ کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔ اس کیس میں طاہر مرچنٹ کا رول اہم تھا کیوں کہ اس نے ہی سازش تیار کی تھی۔ عدالت نے 16 جون کو دیئے گئے اپنے فیصلہ میں یہ بات بتائی تھی۔ عدالت نے فیروز کے دفاعی موقف کو مسترد کردیا کہ وہ فیروز خاں نہیں ہے بلکہ حمزہ ہے۔ استغاثہ نے ثابت کردیا کہ وہ مصطفی دوسہ گیانگ کا ایک بااعتماد رکن تھا۔ اس نے تمام کارروائیوں میں سرگرمی سے حصہ لیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT