طبقات کے بھونس کی تعمیرات پر توجہ ‘ نئے حج ہاوز کی تعمیر نظر انداز

موجودہ حج ہاوز کی عمارت میں کیمپ کے انعقاد میں مشکلات ۔ جلد نئی عمارت کی تعمیر کیلئے عملی اقدامات ضروری

موجودہ حج ہاوز کی عمارت میں کیمپ کے انعقاد میں مشکلات ۔ جلد نئی عمارت کی تعمیر کیلئے عملی اقدامات ضروری
حیدرآباد۔/23ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے عیسائیوں، درج فہرست قبائیل اور پسماندہ طبقات کیلئے شہر میں علحدہ بھونس کے نام پر عالیشان عمارتوں کی تعمیر کو منظوری دیتے ہوئے ان طبقات کی دلجوئی کی کوشش کی ہے لیکن نئے حج ہاوز کی تعمیر سے متعلق دیرینہ مطالبہ اور ضرورت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ واضح رہے کہ کرن کمار ریڈی دور حکومت میں موجودہ حج ہاوز کو عازمین حج کی روانگی اور حج کیمپ کے انعقاد کیلئے ناموزوں تصور کرتے ہوئے انٹر نیشنل ایر پورٹ کے قریب 10ایکر اراضی پر عالیشان حج ہاوز کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ حکومت نے تعمیر کے سلسلہ میں 12کروڑ روپئے منظور کئے تھے جس میں سے 3کروڑ روپئے کلکٹر رنگاریڈی کو جاری کردیئے گئے بعد میں مختلف نمائندگیوں پر سابقہ حکومت نے پہاڑی شریف میں حج ہاوز کی تعمیر کے ارادہ کو ترک کردیا۔ کرن کمار ریڈی حکومت کی جانب سے حج ہاوز کی تعمیر کیلئے منظورہ 12کروڑ کی رقم سرکاری خزانہ میں موجود ہے لیکن کسی نے اس کے استعمال پر توجہ نہیں دی۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے بنجارہ ہلز میں قبائیل کیلئے ’’ بنجارہ بھون‘‘ اور مہندرا ہلز ماریڈ پلی میں عیسائیوں کیلئے ’’ کرسچین بھون ‘‘ کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا۔ حکومت نے پسماندہ طبقات کو خوش کرنے کیلئے تلنگانہ مسلح جدوجہد میں حصہ لینے والے کمرم بھیم کے نام سے ماریڈ پلی میں بھون کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح تمام طبقات کو خوش کرنے کی کوشش میں اقلیتوں کو نظرانداز کردیا گیا۔ بنجارہ بھون کیلئے بنجارہ ہلز جیسے پاش علاقہ میں اراضی الاٹ کی گئی جبکہ کرسچین بھون کیلئے ماریڈ پلی میں 2ایکر اراضی اور 10کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ حکومت نے دوڈی کمریا کروما میموریل بھون کی تعمیر کیلئے ماریڈ پلی میں ایک ایکر 20گنٹے اراضی مختص کرتے ہوئے احکامات جاری کئے۔ یہ بھون 5کروڑ روپئے کے خرچ سے تعمیر کیا جائے گا۔ مختصر مدت کے دوران حکومت نے 3 طبقات کیلئے نہ صرف علحدہ بھون کی تعمیر کا فیصلہ کیا بلکہ رقومات بھی منظوری کی گئیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی نے نئے حج ہاوز کی تعمیر کے سلسلہ میں حکومت کو توجہ نہیں دلائی۔ شہر کے مرکزی مقام پر حج ہاوز کی تعمیر کے سلسلہ میں سابقہ حکومت نے پہاڑی شریف میں تعمیر کے ارادہ کو ترک کیا تھا لیکن اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے ابھی تک شہر کے مرکزی مقام پر حج ہاوز کیلئے موزوں اراضی کی نشاندہی نہیں کی ہے۔ موجودہ حج ہاوز میں چونکہ اقلیتی بہبود کے دفاتر کام کررہے ہیں لہذا حج کیمپ کے انعقاد میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ حج سے متعلق سرگرمیوں کیلئے خصوصی عمارت کی تعمیر ناگزیر ہے۔ ریاستی حج کمیٹی کا بھی احساس ہے کہ حج ہاوز میں حج کیمپ کا انعقاد کسی چیلنج سے کم نہیں کیونکہ عمارت کے بیرونی حصہ میں ٹینٹ نصب کرتے ہوئے کیمپ منعقد کرنا پڑ رہا ہے۔ شمس آباد ایر پورٹ سے قریب پہاڑی شریف میں حج ہاوز کی تعمیر کی صورت میں آبادی سے دوری اور بنیادی سہولتوں کی عدم موجودگی کو دیکھتے ہوئے مسلم جماعتوں اور تنظیموں نے مقام میں تبدیلی کی نمائندگی کی تھی۔ اب جبکہ ٹی آر ایس حکومت تمام طبقات کیلئے شہر کے مرکزی مقام پر بھونس تعمیر کررہی ہے، مسلمانوں کو توقع ہے کہ کم از کم نئے حج ہاوز کی تعمیر کے سلسلہ میں حکومت کوئی فیصلہ کرے گی۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس زیر تصفیہ تجویز سے حکومت کو واقف کرائے۔ چیف منسٹر عام طور پر مختلف تہواروں کے موقع پر ان طبقات کیلئے رعایتوں کا اعلان کررہے ہیں جس طرح کے انہوں نے کرسمس سے قبل کرسچین بھون کی تعمیر کو منظوری دی۔ اب جبکہ عید میلادالنبی ؐ قریب ہے لہذا حکومت کو چاہیئے کہ نئے حج ہاوز کیلئے نہ صرف اراضی کی نشاندہی کرے بلکہ 12ربیع الاول کو سنگ بنیاد کی تقریب منعقد کرے۔ کمرم بھیم کی یاد میں شہر میں بھون کی تعمیر کے مسئلہ پر عوام میں اس بات کو لیکر حیرت پائی جاتی ہے کہ ٹی آر ایس حکومت ایک طرف نظام حیدرآباد کی حکمرانی اور رعایا پروری کی بھرپور ستائش کرتی ہے تو دوسری طرف نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والے کمرم بھیم کو بھی خراج پیش کیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT