Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / طبی شعبوں کو خانگیانے کی تجویز سے غریبوں میں بے چینی

طبی شعبوں کو خانگیانے کی تجویز سے غریبوں میں بے چینی

نجی اداروں اور ڈاکٹروں کی من مانی سے مریضوں کی مشکلات میں اضافہ کا اندیشہ

حیدرآباد 15 اکٹوبر (ایجنسیز) نیتی آیوگ کے ذریعہ عوامی صحت سے متعلق انتظامی تبدیلی کی سفارش کے تحت طبی خدمات کو خانگی ہاتھوں میں دینے کی بات کہی گئی ہے، گزشتہ ماہ اعلان کردہ اس منصوبہ کے مطابق ’’پی پی پی‘‘ یعنی ’’پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ ‘‘کے تحت ضلع سطح کے عوامی اسپتالوں اور صحت کے مراکز کو نجی اداروں کے ساتھ ملحق کرنے کی تجویز ہے۔ غیرمعمولی بیماریوں کے علاج کے لئے نجی اسپتالوں کی اہمیت کو بڑھانے کے تحت اس ماڈل کی تجویز نیتی آیوگ اور مرکزی وزارت صحت کے ذریعہ پیش کی گئی ہے۔ مجوزہ ماڈل کے تحت ضلع اسپتالوں کی عمارتوں میں نجی اسپتالوں کو 30 برس کے لئے پٹّے پر جگہ اور دیگر سہولتیں مہیا کرانے اور ملک کے آٹھ بڑے شہروں کو چھوڑ کر دیگر شہروں میں 50 سے 100 بستر والے اسپتال بنانے کے لئے زمین فراہم کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جن ضلع اسپتالوں میں روزانہ ایک ہزار سے زیادہ مریض علاج کے لئے آتے ہیں۔ صرف انھیں اسپتالوں میں نجی انتظامی فراہم کی جائے گی۔ اس تجویز کو لے کر نیتی آیوگ کی دلیل ہے کہ نئی پالیسی کے لاگو ہوجانے سے امراض قلب، کینسر اور دیگر بیماریوں پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ ملک میں گمبھیر بیماریوں کی وجہ سے ہونے والی اموات میں لگ بھگ 35 فیصد اموات انہی بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ آیوگ کی سفارش پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حکومت طبی شعبوں کی خستہ حالی کو درست کرنا چاہتی ہے اور اسے معیاری بنانا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک مضبوط پہلو یہ بھی ہے کہ صحت و طب سے متعلق انتظامات کو خانگیانے کی وجہ سے عوام کو فائدہ حاصل ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ جب حکومت کی نگرانی میں امراض قلب، کینسر جیسے امراض پر قابو نہیں پایا جاسکتا تو کیا ضمانت ہے کہ نجی اداروں سے اسپتالوں کو جوڑنے پر مریضوں کو سہولت بخش اور سستا علاج فراہم ہوسکے گا۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ جب نیتی آیوگ کی طرف سے اسپتالوں کو خانگیانے کے اشارے دیئے گئے ہیں۔ 2015 ء میں آیوگ کے ذریعہ طبی شعبہ میں نجی اداروں بیما کمپنیوں کو اہم مقام دینے کے قاعدے پر عمل شروع ہوگئے ہیں۔ اس دوران طبی سہولتوں میں کٹوتی کی جارہی تھی۔ حالانکہ متعلقہ وزارت کی جانب سے اس سمت میں اب تک بدلاؤ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن اسپتالوں کو خانگیانے کے عمل کی طرف پیشقدمی سے غریب عوام میں بے چینی اور بے اطمینانی پائی جارہی ہے۔ خانگیانے کی صورت میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ حکومت ’’پی پی پی‘‘ ماڈل کی ذمہ داری کس کو سپرد کرے گی۔ نجی اداروں کی حصہ داری کی وجہ سے لازمی ہے کہ ان کا بھی دبدبہ ہوگا۔ اسپتال کی پالیسیوں سے لے کر مریضوں سے برتاؤ اور پرائیوٹ ڈاکٹروں کی من مانی کا اندیشہ ہے۔ موجودہ حالت میں ڈاکٹروں کی لاپرواہی اور علاج سے دوری کی بات تک سامنے آتی رہی ہے۔ نئے مجوزہ منصوبوں میں راحت کی بات یہ ہے کہ گمبھیر حالت کے مریضوں کو عوامی اسپتال سے نجی اسپتالوں میں بہتر دیکھ بھال کے لئے بھیجا جاسکتا ہے۔ اس ماہ اترپردیش کے گورکھپور ضلع بی آر ڈی میڈیکل کالج کا حادثہ نہ صرف عوامی طبی انتظامات پر بہت بڑا طمانچہ ہے بلکہ ملک بھر کے سرکاری ۔ پرائیوٹ اسپتالوں کے لئے ایک آئینہ بھی ہے۔ وقت بروقت اس طرح کے حادثات سرکاری انتظامیہ کی قلعی کھول رہی ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ صحت و طب کے شعبہ پر ہندوستان پہلے سے ہی سب سے کم خرچ کرنے والا ملک ہے۔ جملہ جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد حصہ ملک کے عوامی صحت پر خرچ کیا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ریاستوں میں یہ اعداد و شمار تقریباً 10 گنا زیادہ ہے۔ 2012 ء سے 2017 ء کے دوران شعبہ طب کے سرکاری خرچ میں کٹوتی کی گئی ہے۔ 2014-15 ء کے دوران محکمہ صحت و طب کے بجٹ میں 5100 کروڑ روپئے کی کٹوتی ہوئی۔ این ایس ایس او کی رپورٹ کے مطابق 80 فیصد سے زیادہ آبادی کے پاس صحت و طب سے متعلق کوئی سرکاری اسکیم نہیں ہے اور نہ ہی کوئی نجی بیما۔ ایسی صورتحال میں محکمہ صحت و طب کو خانگیانے کے بجائے موجودہ سرکاری انتظامات میں سدھار لایا جائے توزیادہ بہتر ہوگا۔

 

TOPPOPULARRECENT