Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / طب کے نام پر لوٹ کھسوٹ کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ

طب کے نام پر لوٹ کھسوٹ کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ

بدعنوانیوں پر روک لگانے کا آغاز ، ڈاکٹر اکون سبھروال کا ڈائرکٹر محکمہ ڈرگ کنٹرول کے جائزہ کے بعد بیان محمد علیم الدین

بدعنوانیوں پر روک لگانے کا آغاز ، ڈاکٹر اکون سبھروال کا ڈائرکٹر محکمہ ڈرگ کنٹرول کے جائزہ کے بعد بیان
محمد علیم الدین
حیدرآباد /22 اپریل۔ شہر میں انسانی صحت اور طبی سہولیات کا خیال رکھنے والے ہاسپٹلوں کی عوامی جذبات سے کھلواڑ اور لوٹ کھسوٹ پر روک لگانے کے اقدامات کا بالاآخر آغاز ہوچکا ہے ۔ تلنگانہ ڈپارٹمنٹ آف ڈرگ کنٹرول اڈمنسٹریشن کے ڈائرکٹر کا جائزہ لینے والے ڈاکٹر اکون سبھروال نے طبی سہولیات کے نام پر لوٹ کھسوٹ کرنے والوں کو سخت گیر نتائج کا انتباہ دیا ہے ۔ سبھروال شہریوں کیلئے کوئی انجانی شخصیت نہیں ہیں ۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس سنٹرل زون اور ساؤتھ زون خدمات انجام دیتے ہوئے عوام میں مقبولیت حاصل کرنے والے ڈاکٹر اوکن سبھروال نے اب ہر شہری کے جذبات سے جڑے ہوئے انسانی صحت اور طبی سہولیات میں ہورہی بے قاعدگی اور بدعنوانیوں پر روک لگانے کا بیڑا اٹھایا ہے ۔ تلنگانہ ڈپارٹمنٹ آف ڈرگ کنٹرول اڈمنسٹریشن نے بڑے کارپوریٹ ہاسپٹل کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا ہے ۔ مسلسل عوامی شکایت اور مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بعد گیارہ بڑے ہاسپٹلز کے خلاف کارروائی کی گئی اور غیر مجاز طور پر ذخیرہ اندوز 20 لاکھ روپئے مالیتی ادویات کو ضبط کرلیا ۔ چند ہاسپٹلز ضابطوں و شرائط کی خلاف ورزی کے مرتب پائے گئے اور چند معمولی غلطیوں اور خامیوں میں مبتلا ہیں ۔ ڈائرکٹر تلنگانہ ڈرگ کنٹرول اڈمنسٹریشن نے کہا ہے کہ ایسے کسی بھی ادارے کو معاف نہیں کیا جائے گا جو شرائط اور قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا جاتا ہے ۔ انہوں نے سیاست نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہاسپٹلز اور فارمیسی دوکانات کے خلاف کئی شکایتیں موصول ہو رہی ہیں ۔ جامہ تحقیقات کے بعد فیصلہ لیا گیا ہے کہ اس سنگین مسئلہ پر روک لگائی جائے

اور عوام کو راحت فراہم کی جاسکے ۔ ڈاکٹر اکون سبھروال نے بتایا کہ ڈرگ کنٹرول ڈپارٹمنٹ کی جانب سے خصوصی ٹیموں کو تشکیل دیا گیا ہے ۔ جو عوامی شکایتوں کے علاوہ ایسے مقامات اور فارمیسی دوکانوں کا بھی معائنہ کریں گے ۔ جہاں ٹیموں کو شک و شبہ ہوگا ڈاکٹر اکون سبھروال نے بتایا کہ ایسے ہاسپٹلز کا احاطہ کیا جارہا ہے جہاں ادویات کی زائد قیمتیں وصولی کی جارہی ہیں جو باہر کسی فارمیسی بھی کم داموں میں دستیاب ہے ۔ جیسا کہ عام بات ہے یہ چھوٹے بڑے ہاسپٹل میں فارمیسی اور لیاب موجود ہیں اور مریضوں کو یہ خاص طور پر ہدایت و باور کیا جاتا ہے کہ وہ ادویات باہر سے نہ خریدیں اور ایسا کرنے کی صورت میں اڈمنسٹریشن مریض کے رشتہ داروں کو دواء کے تعلق سے ڈرا کر خوف زدہ کردیتا ہے اور اپنے آپ کو بری ذمہ قرار دینے کی کوشش کرتا ہے ۔ تاہم انسانی صحت سے جڑے اس مسئلہ پر ہر شہری کافی سنجیدہ اور جذباتی ہوتا ہے ۔ جس کا ناجائز فائدہ اٹھایا جارہا ہے اور بعض ہاسپٹلز اتنی ادویات کی چھٹیاں تھما رہے ہیں کہ مریض کو ضرورت ہی نہیں اور مریض یا پھر ان کے رشتہ دار اس بات کی وضاحت نہیں کرسکتے ۔ چونکہ وضاحت کی طلبی اور دیگر شکایتوں کیلئے ہاسپٹل میں علحدہ محکمہ ہوتا ہے ۔ کارپوریٹ طرز کی اس لوٹ کھسوٹ کے خاتمہ کیلئے اقدامات خوش آئند بات ہے تاہم ڈرگ کنٹرول ڈپارٹمنٹ کے ڈائرکٹر کے اقدامات جاری رہتے ہیں تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے ۔

ڈائرکٹر ڈرگ کنٹرول ایڈمنسٹریشن مسٹر ڈاکٹر اکون سبھروال نے بتایا کہ عوام کو ایسے کسی بھی ناانصافی کیلئے آگے آکر شکایت دینا چاہئے تاکہ ڈپارٹمنٹ ان کے خلاف سخت کارروائی کرسکے ۔ انہوں نے عوام سے درخواست کی کہ وہ محکمہ کے ٹول فری نمبر 1800111255 پر شکایت و مسائل پیش کرسکتے ہیں ۔ جن 11 بڑے کارپوریٹ ہاسپٹلز کے خلاف کارروائی کی گئی ان میں کرشنا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس ( کمس ) سکندرآباد ، مڈی سٹی ہاسپٹل شاہ میر پیٹ ، کانٹیننٹل ہاسپٹل گچی باؤلی ، مڈون ہاسپٹل نامپلی ، یشودھا ہاسپٹل سکندرآباد ، کامینینی ہاسپٹل ایل بی نگر ، اپولو ہاسپٹل جوبلی ہلز ، کیر ہاسپٹل بنجارہ ہلز ، گلوبل ہاسپٹل لکڑی کا پل ، اسٹار ہاسپٹل بنجارہ ہلز ، سن شائن ہاسپٹل سکندرآباد شامل ہیں ۔ تاہم خصوصی ٹیموں کی رپورٹ اور عوامی شکایتوں پر مزید کارروائیاں انجام دی جائے گی ۔

TOPPOPULARRECENT