Monday , December 18 2017
Home / Top Stories / طب یونانی کی ترقی کیلئے تحقیق ضروری

طب یونانی کی ترقی کیلئے تحقیق ضروری

نئی دہلی میں حکیم عبدالرزاق میموریل لکچر
نئی دہلی ۔ 18 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) جامعہ ہمدرد نئی دہلی میں 8 اپریل کو حکیم محمد عبدالرزاق میموریل لکچر منعقد کیا گیا تاکہ طب یونانی کی تحقیق اور ترقی میں ان کی خدمات اور کارناموں کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔ حکیم عبدالرزاق کی 24 ویں برسی کے موقع پر سنٹرل کونسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسن ، محکمہ ایوش حکومت ہند کے زیراہتمام یادگار تقریب منعقد کی گئی تھی۔ ابتداء میں پروفیسر رئیس الرحمن ڈائرکٹر جنرل CCRUM نے افتتاحی خطاب میں بتایا کہ حکیم عبدالرزاق صدرجمہوریہ کے اعزازی فزیشن تھے اور طب یونانی کی ترقی اور تحقیق کیلئے اپنی زندگی وقف کردی تھی جبکہ سابق ڈائرکٹر سنٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن ڈاکٹر مشتاق احمد نے میموریل لکچر دیتے ہوئے حکیم عبدالرزاق کی ہمہ گیر شخصیت کو اجاگر کیا اور ہندوستان میں یونانی اداروں کے قیام کو ان کی مرہون منت قرار دیا ہے اور ان ہی کی کاوشوں سے کوویت میں مرکز طب اسلامی اور ابوظہبی میں مرکز برائے متبادل طب کا قیام کیا گیا اور 1987 ء میں طب یونانی پر پہلا بین الاقوامی سمینار بھی منعقد کیا جس میں 25 ممالک سے 500 مندوبین شریک تھے۔ علاوہ ازیں حکیم عبدالرزاق عالمی ادارہ صحت کے مشیر بھی رہے اور طب یونانی میں عربی اور فارسی کتابوں کا ترجمہ بھی کیا اور بذات خود متعدد کتابیں تحریر کیں۔ اس موقع پر مہمان خصوصی پروفیسر طلعت احمد وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ نے دور حاضر میں طب یونانی کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کیا اور تالیوں کی گونج میں یہ اعلان کیا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طبیہ کالج اور میڈیکل کالج کے قیام کی تجویز زیر غور ہے ۔ حکیم محترمہ ام الفضل سابق ڈائرکٹر CCRUM نے صدارتی خطاب میں حکیم رزاق پر ڈاکٹر اے آر قدوائی کی تحریر کردہ کتاب مجاہد طب کے اقتباسات پیش کئے اور کہا کہ حکیم عبدالرزاق بھی حکیم اجمل خاں اور عبدالحمید کی طرح ماہر یونانی طب تھے۔ ڈاکٹر خالد محمود صدیقی ڈپٹی ڈائرکٹر جنرل CCRUM نے کہا کہ طب یونانی کے شعبہ میں حکیم عبدالرزاق بھی کام ادھورے چھوڑے ہیں ۔ نئی نسلی کو چاہئے کہ اسے پایہ تکمیل کو پہنچائیں تاکہ انسانیت کی خدمت کا سلسلہ جاری رہے۔

TOPPOPULARRECENT