Thursday , June 21 2018
Home / مضامین / طلاقِ ثلاثہ کے بعدحلالہ اورتعددِ ازواج کی باری

طلاقِ ثلاثہ کے بعدحلالہ اورتعددِ ازواج کی باری

مولانا سید احمد ومیض ندوی
شریعت میں مداخلت کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے، یکے بعددیگرے شرعی قوانین حکومت کے نشانے پر آتے جارہے ہیں، یہ در اصل اسلام کے نظامِ خاندان پر حملوں کے تسلسل کے ساتھ مسلم پرسنل لاء کو ٹھکانے لگانے کی سوچی سمجھی سازش ہے، طلاقِ ثلاثہ بل کے خلاف ابھی احتجاج کا سلسلہ تھما ہی نہیں تھا کہ حلالہ اور تعددِ ازواج کے خلاف عدالتی کاروائی شروع ہوگئی، ۶؍ دسمبر ۲۰۱۶ء کو جس اشونی کمار اپادھیائے کو ایک عرضی داخل کرنے پر سپریم کورٹ نے پھٹکار لگائی تھی اور اظہار ِناراضگی کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ کیا آپ سپریم کورٹ میں بی جے پی کے لیے مہم چلا رہے ہیں؟ کیا آپ کی پارٹی نے آپ کو سپریم کورٹ میں درخواست دینے کا کام سونپ رکھا ہے؟ اسی اشونی کمار کی طرف سے سپریم کورٹ میں حلالہ اور تعددِ ازواج کے خلاف مفاد عامہ کی عرضی داخل کی گئی ہے، اشونی کمار کے علاوہ اس تعلق سے داخل کی گئی مزید چار درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے گذشتہ دنوں سپریم کورٹ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ حلالہ اور تعدد ازواج کے آئینی جواز کا جائزہ لے گی، اشونی کمار بی جے پی کے دہلی پردیش کے ترجمان اور سپریم کورٹ میں وکیل ہیں،ان کے علاوہ ثمینہ، نفیسہ خان، معلم اور محسن بن حسین نے بھی سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے، مفاد ِعامہ کی ان درخواستوں میں تعدد ازواج، حلالہ، متعہ اور نکاحِ مسیار کو غیر آئینی قرار دئے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، درخواست گذاروں کا کہنا ہے کہ مسلم پرسنل لاء (شریعت) درخواست ایکٹ ۱۹۳۷ء کی دفعہ ۲ کو آئین کے آرٹیکل ۱۴،۱۵،۲۱ اور ۲۵ کی خلاف ورزی کرنے والا قرار دیا جائے، تعزیرات ِہند کے۶۰ ۱۸کے التزام تمام ہندوستانی شہریوں پر یکساں طور سے لاگو ہوں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ طلاقِ ثلاثہ تعزیرات ِہند کی دفعہ ۴۹۸ اے کے تحت ایک ظلم ہے، حلالہ تعزیرات ہند کی دفعہ ۳۷۵ کے تحت عصمت دری اور تعدد ازواج تعزیرات ہند کی دفعہ ۴۹۴ کے تحت ایک جرم ہے، گذشتہ ماہ مارچ کو سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت،وزارت قانون، خواتین اور بچوں کی فلاح وبہبود کی وزارت اور تمام فریقوں سے جواب طلب کیا ہے، سپریم کورٹ نے اس معاملہ کو وسیع تر آئینی بینچ کے حوالے بھی کردیا ہے، جو اس کی تفصیلی سماعت کے بعد یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا تعدد ازواج اور حلالہ بھی طلاقِ ثلاثہ کی طرح غیر قانونی ہیں، طلاقِ ثلاثہ کے معاملے کو بھی عدالت ِعظمیٰ نے وسیع تر آئینی بینچ کے حوالے کیا تھا؛ اگرچہ حلالہ اور تعدد ازواج کا مسئلہ اس وقت بھی زیر بحث آیا تھا؛لیکن پانچ رکنی آئینی بینچ نے اس کی وضاحت کی تھی کہ وہ فی الوقت صرف طلاق ثلاثہ کی آئینی موزونیت کی سماعت کرے گی اور حلالہ اور تعدد ازواج پر فی الوقت غور نہیں کیا جائے گا، مسئلہ کی سماعت کے بعد آخر کار آئینی بینچ نے اپنا فیصلہ سنایا تھا، پھر مرکزی حکومت نے اس سلسلہ میں قانون سازی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے مسلم خواتین بل ۲۰۱۷ء کے عنوان سے ایک بل متعارف کروا کر اسے لوک سبھا میں منظور بھی کرایا تھا، مسلم خواتین کے مفاد اور ان کے حقوق کے تحفظ کے نام سے بنایا گیا یہ بل نہ صرف شریعت ِاسلامی کے صریح خلاف اور مسلم خواتین کے ساتھ ظلم ہے؛ بلکہ ملک کے ماہرین قانون نے بھی اس سے عدم اتفاق کیا ہے، جس مسلم خواتین بل کے لیے حکومت ملک کی تمام مسلم خواتین کی تائید کے حصول کا دعویٰ کررہی ہے آج پورے ملک کی مسلم عورتیں اس بل کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی ہیں، کولکاتہ سے لے کر ممبئی تک لاکھوں مسلم خواتین اس بل کے خلا ف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لے رہی ہیں۔

جہاں تک حلالہ کا تعلق ہے تو اس کے خلاف جو کچھ طوفان برپا ہے اس کی بنیاد غلطی فہمی یا معاشرے میں رائج حلالہ کی گھناؤنی شکل ہے؛ ورنہ قرآن وسنت میں حلالہ کی جو تفصیل ذکر کی گئی ہے وہ مسلم سماج میں کثرت طلاق پر روک لگانے کا ذریعہ ہے، حلالہ کے خلاف طوفان کھڑا کرنے والوں کی اکثریت اس قرآنی حکم کی اصل حقیقت سے نابلد ہے، حلالہ کی مشروعیت جس تناظر میں ہوئی ہے، پہلے اس کی جانکاری ضروری ہے، اسلام سے قبل دور جاہلیت میں طلاق کی کوئی تحدید نہیں تھی، شوہر اپنی بیوی کو جتنی چاہتا طلاق دیتا اور پھر رجوع کرلیتا تھا، بہت سے مرد اپنی بیویوں کو مستقل اذیت میں مبتلا رکھنے کے لیے بار بار طلاق دیتے اور بار بار رجوع کرلیتے تھے، بیوی کو نہ ہی مکمل علیحدہ کرکے آزاد کیا جاتا اور نہ ہی اسے سکون کے ساتھ زوجیت میں رہنے دیا جاتا، اسلام کے ابتدائی دور میں بھی یہی سلسلہ تھا، اس دوران ایک صحابی کا واقعہ پیش آیا، انھوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں تمہیں لٹکا کر رکھوں گا، بیوی نے پوچھا وہ کیسے؟ انھوں نے کہا تمہیں طلاق دوں گا، پھر عدت سے پہلے رجوع کرلوں گا اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رکھوں گا، خاتون نے خدمت ِاقد س میں حاضر ہوکر اپنے شوہر کی شکایت کردی، جس پر الطلاق مرتان الخ والی آیت نازل ہوئی، جس میں طلاق کی تحدید کردی گئی اور یہ واضح کردیا گیا کہ شدید ضرورت پر ایک طلاق دو، اس کے بعد مزید ایک اور طلاق دے سکتے ہو؛ لیکن تمہیں دو سے زائد طلاق نہیں دینی چاہیے، اگر تیسری طلاق دوگے تو پھر بیوی سے محروم ہوجاؤ گے، اب اس بیوی سے نکاح کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی، عدت کے بعد نہ شوہرکا بیوی پر کا کوئی حق رہے گا اور نہ شوہر بیوی پر ظلم کرسکے گا، بیوی کے لیے اب کوئی رکاوٹ نہیں کہ وہ کسی دوسرے مرد سے شادی کرے اور اسی کے ساتھ زندگی بسر کرتی رہے، اتفاق سے اگر دوسرے شوہر نے طلاق دیدی یا اس کا انتقال ہوجائے تو عدت کے بعد عورت پھر آزاد ہوگی، چاہے تو وہ پہلے مرد سے شادی کرے یا کسی تیسرے مرد کے نکاح میں آجائے، آیت بالا میں یہی مضمون ذکر کیا گیا ہے،او راسی کو شریعت میں حلالہ کہا جاتا ہے، اب کوئی بتائے کہ آخر اس میں کون سی بات غلط ہے؟حلالہ کا معاملہ شریعت اسلامی میں نہایت سادہ ہے، اس میں عورت کی عزت نفس کا لحاظ رکھا گیا ہے، یہ در اصل طلاق پر روک لگانے کا مؤثر ذریعہ ہے، قرآن کے بتائے ہوئے طریقہ حلالہ پر پابندی عائد کرنا در اصل خواتین کے ساتھ زیادتی اور ان کے بنیادی حقوق کی پامالی ہے، یہ الگ بات ہے کہ بعض مسلمان حلالہ کا غلط استعمال کرتے ہیں، ایسے لوگ شریعت کی نگاہ میں قابل مذمت ہیں، مثلا بہت سے نادان لوگ جو غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے جاتے ہیں، پھر جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ بیوی ہمیشہ کے لیے حرام ہوچکی ہے تو کسی ایسے آدمی کو تلاش کرتے ہیں جو ان کی بیوی سے ظاہری طور پر نکاح کرکے اسے طلاق دیدے؛تاکہ وہ اس سے دوبارہ نکاح کرسکیں، یہ سراسر غیر اخلاقی اور انتہائی گھناؤنی حرکت ہے، نبی رحمت ﷺ نے اس کی سخت مذمت فرمائی ہے، ایسے شخص کو جو حلالہ کی خاطر نکاح کرے سانڈ سے تشبیہ دی ہے، نیز نبی رحمت ﷺ نے فرمایا کہ حلالہ کی خاطر نکاح کرنے والے اور جس کے لیے ایسا نکاح کیا گیا دونوں پر اللہ کی لعنت ہے۔

حلالہ کے ناقدین بعض بے دین مسلمانوں کی جانب سے ہونے والے حلالہ کے غلط استعمال کو بنیاد بناتے ہیں؛ جب کہ انہیں اس قرآنی حکم کو قرآنی تناظر میں دیکھنا چاہیے،حلالہ کوئی لازمی حکم نہیں ہے؛ بلکہ پہلی بیوی کی گھر واپسی کی ایک اتفاقی شکل ہے،علامہ ابن عاشور نے حلالہ کی حکمتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بہت خوب لکھا ہے وہ لکھتے ہیں: ’’اس عظیم قانون کی حکمت یہ ہے کہ اس میں بیویوں کے حقوق کی پامالی اورگھروں میں انہیں کھلواڑ بنالینے پر شوہروں کو زجروتوبیخ کی گئی ہے؛ چنانچہ پہلی طلاق کو نادانی، دوسری کو تجربہ اور تیسری کو جدائی قرار دیا گیا ہے، پھر تیسری طلاق کے ساتھ دو حکم متعلق کئے ہیں، ایک یہ کہ شوہر سے مراجعت کا حق چھین لیا گیا، دوسرے یہ کہ بیوی کو بغیر دوسرے مرد سے نکاح کے پہلے شوہر کے پاس واپسی کے حق سے محروم کردیا گیا، پھر دوسرے شوہر سے نکاح کی شرط اس لیے لگائی گئی کہ تاکہ شوہروں کو اس بات سے روکا جائے کہ وہ تین طلاق دینے میں جلد بازی سے کام نہ لیں؛ ورنہ بیوی سے محروم کردئے جائیں گے‘‘(تفسیرالتحریر والتنویر)الغرض حلالہ کے ذریعہ عورتوں کے حقوق پامال کرنے والے شوہروں کو مشقت میں مبتلا کردیا جاتا ہے اور ان کی غیرت کو للکارا جاتا ہے کہ تمہاری بیوی جس کے ساتھ تم نے ایک عرصہ گذارا، تمہاری غلطی کے نتیجہ میں اب دوسرے کے بستر کی زینت بننے جارہی ہے۔

مصیبت یہ ہے کہ حلالہ کے حوالہ سے حقائق پر کم اور پروپیگنڈہ پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے، عام لوگ اس سلسلہ میں میڈیا کے ذریعہ پھیلائے گئے پروپیگنڈہ پر یقین کرتے ہیں، ٹی وی چینلوں پر تو حلالہ کے سلسلہ میں اسی وقت سے ڈیبٹس کا سلسلہ چل رہا ہے، جب طلاق ثلاثہ کے خلاف کاروائی کا آغاز ہوا تھا، اب جب کہ عدالت نے دوبارہ اس مسئلہ کو زندہ کردیا ہے ، ملک کے ایک معروف ٹی وی چینل نے حلالہ کے خلاف ایک سیریل ہی بناڈالا ہے، جو گذشتہ کئی دنوں سے دکھایا جارہا ہے، عشق سبحان اللہ کے نام سے بنائے گئے اس سیریل میں مسلم خواتین کی خود ساختہ بے بسی کا رونا روتے ہوئے شریعت کا خوب مذاق اڑایا گیاہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ حلالہ کا قرآن وحدیث سے ثبوت نہیں ہے، حلالہ کے تعلق سے سب سے زیادہ جس بات کا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ شریعت کا ایک ناگزیر حکم ہے، جس سے ہر طلاق یافتہ مسلم خاتون کو بہر حال گزرنا پڑتا ہے؛ جب کہ یہ بات سراسر غلط ہے، حلالہ شریعت کا کوئی لازمی حکم نہیں ہے؛ بلکہ شرعی حلالہ کی حقیقت بس اتنی ہے کہ تین طلاق دینے کی صورت میں بیوی شوہر پرہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے، اب اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونا چاہیں تو اس صورت میں ہوسکتے ہیں جب اس عورت کا نکاح کسی دوسرے شوہر سے ہوجائے، پھر وہ شخص اسے اتفاقا طلاق دیدے یا اس کی موت واقع ہوجائے، تب عدت گزرنے کے بعد سابقہ میاں بیوی کے درمیان پھر سے نکاح ہوسکتا ہے، دوسرے شوہر کی طرف سے طلاق اتفاقا ہونا چاہیے، نہ کہ پیشگی شرط کے ذریعہ،شریعت حلالہ کی اس صورت کو جس میں دوسرے شوہر سے نکاح طلاق کی شرط پر کیا جاتا ہے انتہائی قابل مذمت قرار دیتی ہے، ایک شخص حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ کے پاس آیا اور اس نے ابن عمرؓ سے ایسے آدمی سے متعلق سوال کیا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، پھر اس کے بھائی نے اپنے بھائی سے مشورہ کئے بغیر اس عورت سے اس نیت سے نکاح کرلیا کہ وہ عورت اس کے بھائی کے لیے حلال ہوجائے تو کیا وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی؟ حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ نے نفی میں جواب دیااورفرمایا: نکاح تو وہ ہے جو رغبت سے کیا جائے،ہم لوگ رسول اللہﷺ کے زمانے میں اس کو زنا سمجھتے تھے(المستدرک للحاکم ۲؍۲۱۷) اسی طرح کتب ِفقہ میں حلالہ کے تعلق سے حضرت ابن عمرؓ کا یہ قول بھی نقل کیا گیا ہے کہ حلالہ کرنے والے مرد وعورت اگرچہ ۲۰؍سال تک ایک ساتھ رہیں وہ زنا ہی کرتے رہیں گے(المغنی لابن قدامہ )حلالہ کرنے والوں کے تعلق سے حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میرے پاس حلالہ کرنے والا اور کروانے والا لایا گیا تو میں دونوں کو سنگسار کردوں گا(مصنف عبد الرزاق) بر صغیر ہند وپاک کے معروف مفسر قرآن حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے حلالہ سے متعلق آیت کی تفسیر میں شرعی حلالہ کی توضیح کرتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے وہ نہایت چشم کشا ہے،حضرت لکھتے ہیں:’’یعنی اگر اس شخص نے تیسری طلاق بھی دے ڈالی جو شرعا پسندیدہ نہ تھی تو اب نکاح کا معاملہ بالکلیہ ختم ہوگیا، اس کو رجعت کرنے کا کوئی اختیار نہ رہا اور چونکہ اس نے شرعی حدود سے تجاوز کیا کہ بلا وجہ تیسری طلاق دیدی تو اس کی سزا یہ ہے کہ اب اگر یہ دونوں راضی ہوکر آپس میں دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو اس کے لیے شرط یہ ہے کہ یہ عورت عدت طلاق پوری کرکے کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور حقوق زوجیت ادا کرکے دوسرے شوہر کے ساتھ رہے، پھر اگر اتفاق سے وہ دوسرا شوہر بھی طلاق دیدے یا مرجائے تو اس کی عدت پوری کرنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح ہوسکتا ہے(معارف القرآن ۱؍۵۵۸) شرعی حلالہ جس کی توضیح سطور بالا میں کی گئی ہے مختلف مصالح پر مبنی ہے، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے دوسرے شخص سے نکاح کی تین حکمتیں بیان فرمائی ہیں:(۱) اس بات کا اعلان کہ اب شوہر کا حق مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے۔(۲) شوہر کی فعل شنیع پر تعزیر وتشنیع۔ (۳)طلاق ثلاثہ کی سنگینی کا اظہار(حجۃ اللہ البالغہ ۲؍۱۳۹)

اب جب کہ سپریم کورٹ نے حلالہ کے آئینی جواز کا جائزہ لینے کا تہیہ کرلیا ہے اور اس سلسلہ کی کاروائی شروع کردی ہے، آل ا نڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو انتہائی دور اندیشی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، جہاں تک مروجہ غیر شرعی حلالہ (جس میں طلاق کی شرط لگائی جاتی ہے) کے ممنوع اور ناپسندیدہ ہونے کی بات ہے تو اس پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے؛ لیکن ا گر کوئی ایسا کرے تو نکاح ہوگا یا نہیں، اس میں اختلاف ہے۔علامہ ابن قدامہ کی تصریح کے مطابق امام شافعیؒ ، امالکؒ اور امام احمد ابن حنبلؒ کے یہاں ایسا نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا اور مطلقہ خاتون اپنے پہلے شوہر کے لیے حلال نہ ہوگی، ائمہ احناف میں امام ابویوسف نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے؛ جب کہ امام ابوحنیفہؒ اور امام محمدؒنے اسے مکروہ تحریمی قرا ردیا ہے؛لیکن ان کے یہاں نکاح منعقد ہوجاتا ہے، ہندوستان میں اگرچہ اس سلسلہ میں امام ابوحنیفہؒ کے مسلک پر فتویٰ دیا جاتا ہے؛ لیکن موجودہ حالات کے مد نظر کیا ان علماء کی تجویز پر غور کیاجاسکتا ہے، جس میں انھوں نے امام ابویوسف ؒ اور ائمہ ثلاثہ کے مسلک کو اپنانے کی رائے دی ہے؟ علماء کو جائزہ لینا چاہیے۔

طلاقِ ثلاثہ بل کے فوری بعد حلالہ اور تعدد ازواج کے مسئلے کو جس انداز میں زیر بحث لایا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت ہورہا ہے، عدالت نے اس مسئلے کو سماعت کے لیے جس طرح پانچ رکنی آئینی بینچ کے پاس بھیج دیا ہے،اس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ عدالت پہلے سے تیار تھی، حکومت جانتی ہے کہ مسلم پرسنل لاء کو یکبارگی ختم کردینا کوئی آسان کام نہیں ہے، اس لیے وہ بتدریج مسلم پرسنل لاء کی دفعات اور اس کی مختلف شقوں کو بے اثر کرنا چاہتی ہے؛ تاکہ خود بخود مسلم پرسنل لاء ختم ہوجائے، شریعت میں مداخلت کے لیے اس نے آسان راستہ ڈھونڈ نکالا ہے اور وہ عدالت کا سہارا ہے،اس کے لیے پہلے کچھ شخصیتوں کے ذریعہ عرضی داخل کروائی گئی،عرضی داخل کرنے والی کوئی شخصیت ایسی نہیں ہے جس سے ان مسائل کا راست کوئی تعلق ہو،اس سلسلہ میں دہلی پردیش کے بی جے پی ترجمان اشونی کمار نے جو اس حوالے سے عدالت ِعظمیٰ کی پھٹکار بھی سن چکے ہیں پہل کی ہے، سوال یہ ہے کہ اشونی کمار کو آخر عدالت میں ان مسائل پر چیلنج کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ پھر دلچسپ بات یہ ہے کہ تعدد ازواج کے معاملہ میں آئینی جواز کی بات کرنے والی ان خواتین نے لیو اِن ریلشن شپ کے قانون چیلنج نہیں کیا، جو اخلاقیات ہی نہیں بلکہ سماجی کسوٹی پر کھرا نہیں اترتا،آخر اس کے خلاف عدالت میں عرضی کیوں نہیں داخل کی جاتی؟ پھر حیرت یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اس معاملہ میں مرکز کی نمائندگی کرنے والے اٹارنی جنرل سے تعاون کرنے کو کہا ہے، ظاہر ہے جو خود جانب دار اور عرضی کا حامی ہو وہ کیا تعاون کرسکتا ہے؟
[email protected]

TOPPOPULARRECENT