Wednesday , November 22 2017
Home / مضامین / طلاق۔ طلاق۔ طلاق

طلاق۔ طلاق۔ طلاق

غلام احمد نورانی
( آئی آر ایس ( موظف )
طلاق لفظ یوں تو بڑا کٹھور ، کرخت اور تکلیف دہ ہوتا ہے لیکن اس کی سفاکی کا آسانی سے اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا ۔ یقینا اس کی معنویت آری کے اُبھرے ہوئے دانتوں کی طرح خطرناک ہوتی ہوگی۔، اس کا ہم صرف قیاس ہی لگاسکتے ہیں کیونکہ ڈوبتے ہوئے انسان کی چیخیں تو عمر بھر کیلئے سماعتوں کو گونگا کردیتی ہیں۔ ہم نے اپنی کم عمر کے زمانے میں اپنے ایک جاننے والے بزرگ جو قدیم حیدرآبادی روایات کے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ان کے خاندان میں ’ طلاق۔ طلاق۔ طلاق ‘ کے رسمی طور پر انجام پانے کا ایک خوفناک منظر اپنی ان بدنصیب آنکھوں سے دیکھا تھا اور آج تک میری آنکھیں اس دلسوز منظر سے پیچھا نہیں چھڑا سکی ہیں۔ گھر کے آنگن اور دالان کے بیچ ایک دبیز گھریلو چادر کو حجاب بنایا گیا تھا یعنی یہ ایک پردہ تھا، لیکن یہ پردہ کب تھا؟ یہ تو مقدس رشتوں کی ایک ٹوٹتی ہوئی دیوار تھی۔ آنگن میں خاندان کے بزرگ اور محلے کے کچھ شرفاء بیٹھے ہوئے تھے اور پردے کے پیچھے دالان میں ایک تخت پر کچھ عورتیں اُس عورت کو گھیرے بیٹھیں تھیں جو طلاق کی سولی پر لٹکائی جانے والی تھی۔ مردانے والے حصے میں بزرگوں کے بیچ ایک شخص گردن جھکائے بیٹھا تھا۔ تھوڑی سی میلی کچیلی گفتگو کے بعد وہ شخص اچانک کھڑا ہوگیا اور اُس نے تین بار طلاق۔ طلاق۔ طلاق کہا اور کسی رجسٹر نما چیز پر دستخط کئے اور بہت آرام سے کچھ لوگوں کے ساتھ گھر سے نکل کر زندگی کی شاہراہ پر کہیں گم ہوگیا۔ اُسے تو یہ پتہ ہی نہیں چلا کہ اندر کے حصہ میں نسوانی تمکنت کی ایک مضبوط دیوار اچانک بیٹھ گئی، آرزوؤں، حسرتوں، اُمنگوں کے ملبہ میں دھنس گئی۔ اُس اندر بیٹھی ہوئی طلاق کے زہریلے خنجر سے زخمی عورت کی سسکیاں اچانک چیخوں میں تبدیل ہوگئیں۔ اس خاتون نے بین کرتے ہوئے اپنی کلائی کی چوڑیوں کو تخت پر اتنی زور سے پٹخا کہ چوڑیوں کے ٹکڑوں نے اس کی دونوں کلائیوں پر مطلقہ کی کبھی نہ مٹنے والی خونی مُہر لگادی تھی۔ بظاہر تو اس دلدوز منظر نے ملنے اور بچھڑنے کی ہزارہا داستانوں میں ایک نئے قصے کا اضافہ کردیا تھا لیکن اندرونی چوٹ اور ٹوٹ پھوٹ کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا تھا۔ یوں بھی پوسٹ مارٹم کیلئے مرنا ضروری ہوتا ہے لیکن طلاق کی گولی سے گھائل عورت زندہ چلتی پھرتی نعش کی طرح ہوتی ہے۔ ابھی تک سائینس اور جدید ٹکنالوجی زندہ اور چلتی پھرتی نعشوں کے پوسٹ مارٹم سے بالکل ناآشانا اور انجان ہیں۔
کم و بیش کچھ اسی سے ملتی جلتی کہانیاں طلاق دینے اور طلاق حاصل کرنے والوں کے درمیان معاشرے میں آج کل مستقل گھوم رہی ہیں۔ لڑکیاں شادی سے قبل آرزوؤں اور ارمانوں کے سنہرے خوابوں میں طلاق کے تصور سے بھی ناآشانا رہتی ہیں لیکن سرپرستوں کے غلط فیصلے، پچھتاوے یا قسمت کی خرابی پر وہ رو تو سکتی ہیں اور ماتم بھی کرسکتی ہیں لیکن کسی معقول وجہ کے بغیر نیپکن کے کاغذی مشین کی طرح استعمال کرکے پھینک دیئے جانے والی صورت میں اتنا ٹوٹ جاتی ہیں کہ انھیں شادی کے نام سے نفرت ہونے لگتی ہے اور وہ اپنے وجود کو کوسنے لگتی ہیں اور کبھی کبھی تو وہ سوچتی ہیں کہ وہ قدیم دور کتنا اچھا تھا جب بیٹی کو پیدا ہوتے ہی ماردیا جاتا تھا، دفن کردیا جاتا تھا، زندہ جلادیا جاتا تھا۔ غیور لوگ طلاق کے بعد اپنی بیٹیوں کے ساتھ ساری عمر اپنے گھروں میں ایسے قید ہوجاتے ہیں یا اپنے آپ کو قید کرلیتے ہیں کہ پھر وہاں سے چار کاندھوں پر ہوکر ہی نکلیں۔ طلاق کے زہریلے خنجر سے زیادہ خطرناک کوئی اور ہتھیار اس دنیا میں آج تک نہیں بن سکا جس کے زخم کی شدت طلاق کے زخم سے ہونے والی تکلیف سے زیادہ ہو۔
سورج سے نظریں ملانے کا دعویٰ کرنے والے لوگ چھوٹی سی ویلڈنگ مشین کے پاس سے گذرتے ہوئے بھی اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں لیکن کسی طلاق شدہ عورت کی آنکھوں میں دیکھیئے تو ہزاروں سورج اس کی آنکھوں سے اُبلتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ اس کے اندر چھپا ہوا کرب آتش فشاں پہاڑ سے کم نہیں ہوتا۔ اس کرب کو محسوس کرنے والی ساری زندگی اندر ہی اندر سلگتی رہتی ہے۔ اپنے اندر چھپے ہوئے شعلوں پر صبر و تحمل و ضبط کا پانی ڈال کر اس آگ کی آنچ کو کم کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ اس فرسودہ اور رکیک عمل کو انجام دینے والے کیوں اور کس طرح اس حقیقت کو فراموش کردیتے ہیں کہ یہ وہ عمل ہے جو خالق کائنات کو سخت ناپسند ہے اور اس کو انجام دینے والا بلاشبہ جہنم بن جائے گا۔ حدیث شریف ہے کہ جب کوئی مرد کسی عورت کو کسی معقول وجہ کے بغیر طلاق دیتا ہے تو زمین و آسمان لرز اُٹھتے ہیں۔ زمین و آسمانوں کو اس طرح جھنجھوڑنے والے کیوں اپنے عبرتناک انجام سے غافل اور بے نیاز ہوجاتے ہیں اور ایسے گھناؤنے عمل کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ معاشرہ میں جب کسی گھر میں کسی بیٹی کو طلاق دی جاتی ہے تو گھروں میں ایسی خاموشی چھاجاتی ہے جیسے کسی گھر سے میت اُٹھ جانے کے بعد کیفیت طاری ہوتی ہے۔  جیسے لڑکی کی رخصتی کے بعد گھر کے درودیوار کی ویرانی، جیسے قبرستان میں دفنانے کے بعد لوگوں کے چلے جانے کے بعد چھاجانے والی خاموشی۔ آنکھوں میں سوگواری کے ڈھیر سارے آنسو، چہرے آنسوؤں سے تر جیسے بھیگے ہوئے سفید کبوتر، جیسے بجھتے ہوئے چراغ کی لو، جیسے چھت کاٹ کر آتا ہوا برسات کا پانی، جیسے شکرے کی آواز سے سہمی چڑیا، جیسے سانپ کے خوف سے خالی  بیا کا گھونسلہ، جیسے پگڈنڈیوں سے اُلجھتا ہوا تھکا تھکا سا مسافر۔دنیا ایک گذرگاہ ہے، انسانیت کے قافلے اس پر سے گذررہے ہیں۔ پوری زندگی ایک مسلسل سفر ہے۔ ہر انسان مسافر ہے اور چار و ناچار زندگی کا سفر سبھی کو طئے کرنا ہے۔ ازدواجی زندگی کا رشتہ ایک آئینہ کی طرح ہے جس میں شوہر اور بیوی ایک دوسرے کی عکاسی کرتے ہیں۔ نکاح صرف خوشی کا نام نہیں بلکہ ایک معاہدہ ہے جو ایک مرد اور عورت کے درمیان طئے پاتا ہے کہ ہم دونوں زندگی بھر کے ساتھی اور مددگار بن گئے ہیں اور یہ معاہدہ کرتے وقت خدا اور خلق دونوں کو گواہ بنایا جاتا ہے، اور خطبہ نکاح کی آیتیں اس بات کی طرف صاف صاف اشارہ کرتی ہیںکہ اگر اس معاہدہ میں شوہر یا بیوی کی طرف سے کوئی خرابی پیدا کی گئی یا اسے ٹھیک سے نبھایا نہیں گیا تو خدا کا غصہ اس پر بھڑکے گا، اور وہ جہنم کی سزا کا مستحق ہوگا۔پرانے زمانے میں طلاق کے واقعات کبھی کبھار سننے میں آتے تھے لیکن آج کل یہ روزانہ کے واقعات بنتے جارہے ہیں۔ ازدواجی زندگی کی ناخوشگواری معاشرہ کی بنیادیں ہلارہی ہیں۔ انانیت(Ego)، غرور، تکبر، بے پردگی، جنسی بے راہ روی، ٹیلی ویژن سیریلس کے منفی اثرات، موبائیل فونس، یہ تمام برائیاں اس فعل کی فصل کے بیج ہیں۔ نئی نسل آج صبر و تحمل، بزرگوں کے ادب، استقامت ایثار و قربانی کے جذبے سے بہت دور ہے۔ سرپرست ان بنیادی ضرورت کی قدروں سے اپنی اولاد کو قریب لانے سے غافل ہیں۔
معاشرہ میں لوگ اپنی اولاد کو زندگی کے تقریباً ہر شعبہ کیلئے تیار کرتے ہیں ، روزگار سے منسلک اعلیٰ تعلیم، لڑکیوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ اُمور خانہ داری ، خصوصی طور پر پکوان سے واقفیت اور مہارت پر توجہ دی جاتی ہے لیکن سسرال میں ضرورت پڑنے پر کبھی کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہ پیدا ہو۔ لیکن کہیں بھی کبھی بھی یہ دیکھا نہیں جاتا ہے کہ میاں بیوی کے ازدواجی رشتہ کی مستحکم اور مضبوط اور ہمیشہ قائم رہنے والی بنیادی قدروں کے بارے میں بھی موثر طور پر کونسلنگ کی جائے۔ ابتداء میں انہیں ان قدروں کی اہمیت کے بارے میں سمجھایا جائے۔ جب آپ شادی کو ایک سماجی فرض اور جسمانی ضرورت سمجھ کر زندگی کی طرف بڑھیں گے تو ظاہر ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ رشتہ بھی محض ایک ذمہ داری بن جائے گا۔ اس طرح یہ رشتہ صرف سانس لیتا ہے، جیتا نہیں ہے۔ سروے کے مطابق 75% شادی شدہ لوگ اس طرح جیتے ہیں کہ بس ذمہ داری نبھانی ہے، اور وہ اجنبیوں کی طرح زندگی گذارتے ہیں۔ سماجی فرائض اور جسمانی تقاضؤں کو تو وہ پورا کرتے ہیں لیکن ذہنی و جذباتی طور پر ایک دوسرے کے قریب نہیں ہوتے۔ میاں بیوی دو انفرادی شخصیتیں ہیں۔ کامیاب شادی شدہ زندگی کیلئے ایک دوسرے کی انفرادیت سے مستفید ہونا چاہیئے۔ کسی ایک کی سوچ یا رائے کو اپنے شریک حیات پر کبھی مسلط نہ کریں۔ اختلاف رائے فطری بات ہے، ایسی صورت میں خاموش اور ناراض ہونے کی بجائے گفتگو اور سنجیدگی سے مل کر غور کریں اور پھر دونوں مشترکہ طور پر ایک فیصلہ پر آئیں، اس سے احساس اور اچھوتا پن قائم ہوتا ہے۔ مومن شوہر اپنی مومن بیوی سے نفرت نہ کرے۔ وہ اگر خوبصورت نہ ہو تو اس کی سیرت میں خوبصورتی تلاش کرے ، اگر اس کی ایک عادت آپ کو پسند نہیں آتی تو دوسری اور عادتیں پسند آئیںگی بشرطیکہ اس کو موقع دیا جائے۔ ایسے کسی عمل پر فوراً قطع تعلق کا فیصلہ بزدلانہ اور کمزور ہے۔ یہ مردانگی والا عمل یقینا نہیں۔
حجتہ الوداع کے خطبہ میں نبی دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ لوگو سنو! عورتوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنا، اس لئے کہ وہ تمہارے پاس بمنزلہ قیدی کے ہیں۔ جب پوچھا گیا کہ کسی شوہر کی بیوی کا اس پر کیا حق  ہے تو حضور نے فرمایا جب تو کھائے اسے کھلائے اور جب تو پہنے تو اسے پہنائے اور اس کے چہرے پر نہ مارے اور اس کو بددعا کے الفاظ نہ کہے اور اگر اس سے تعلق ترک کرے تو صرف اپنے گھر میں کرے یعنی اگر بیوی کی طرف سے نافرمانی اور شرارت ظاہر ہو تو قرآن کی ہدایت کے مطابق پہلے اسے نرمی سے سمجھایا جائے، اگر اس سے بھی وہ ٹھیک نہ ہو تو گھر میں بستر الگ کرے اور بات باہر نہ پہنچنے دے کیونکہ یہ شرافت کے خلاف ہے، اس پر بھی ٹھیک نہ ہو تو مارا جاسکتا ہے لیکن چہرہ پر نہیں نہ ہی ایسا کہ ہڈی ٹوٹ جائے  زخمی کردینے والی مار نہ ماری جائے اس کی سختی سے ہدایت کی گئی ہے۔
ہر شادی شدہ زندگی میں جھگڑے، بحث و تکرار ہوتی ہے، ایک کامیاب شادی شدہ جوڑے کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ کبھی ایک دوسرے کو الزام نہیں دیتے جہاں تک ممکن ہو وہ مسئلہ کی تہہ تک پہنچ کر اسے جڑ سے اکھاڑ پھینک دیتے ہیں۔ اکثر میاں بیوی جھگڑے یا کسی خلش یا تکرار کے بعد ایک دوسرے سے بات نہ کرتے ہوئے اپنے غصہ کا اظہار کرتے ہیں، اس سے کشیدگی اور بڑھتی ہے۔ ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ ہمیشہ گفتگو یا بات چیت بے حد اہمیت کی حامل ہوتی ہے، اس لئے ضروری ہے کہ ہمیشہ مسئلہ کا حل بات چیت سے نکالا جائے، ذہنی و جذباتی طور پر میاں بیوی ایک دوسرے میں ضم ہوجائیں۔ پیار و محبت، باہمی احترام و اعتماد و بھروسہ، صبر و تحمل، جذبہ ایثار و قربانی، بزرگوں اور سرپرستوں کی قدر و عزت اور ان سب سے بڑھ کر استقامت وہ بنیادی پتھر ہیں جن کے بغیر کامیاب زندگی کے بنیادی فیصلے ادھورے اور نامکمل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT