Tuesday , January 23 2018
Home / مذہبی صفحہ / طلاق بائن دینے کے بعد پھر طلاق

طلاق بائن دینے کے بعد پھر طلاق

حضرت مولانا مفتی محمد عظیم الدین ، صدر مفتی جامعہ نظامیہ

حضرت مولانا مفتی محمد عظیم الدین ، صدر مفتی جامعہ نظامیہ

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر نے اپنی بیوی ہندہ کو ایک خط تحریر کیا کہ جس میں لکھا کہ ’’آج بتاریخ ۲۲؍فبروری ۷۰ء؁ روز یکشنبہ کو میں اپنی زوجہ منکوحہ مسماۃ ہندہ صاحبہ کو طلاق بائن دے دیا‘‘۔ پھر ۲۳؍مارچ ۷۰ء؁ کو ایک اور خط لکھا کہ ’’اس سے قبل بتاریخ ۲۲؍فبروری ۷۰ء؁ میںنے تمہیں طلاق نامہ ذریعہ رجسٹری تمہارے نام ارسال کیا تھا لیکن تم نے رجسٹری واپس کردی لیکن واضح ہوکہ طلاق صادر ہوچکی ہے۔ ذریعہ ہذا تمہیں آگاہ کیا جاتا ہے تم ۲۲؍فبروری ۷۰ء ؁روز یکشنبہ سے میرے رشتۂ زوجیت سے خارج ہو۔ تم کو میں طلاق قطعی (طلاق بائن) دیدیا ہوں۔ میں نے تم کو طلاق دیا، طلاق دیا، طلاق دیا۔
اب زوجین آپس میں صلح کرکے پھر تعلقات زوجیت بحال کرنا چاہتے ہیں۔ ایسی صورت میں شرعاً کیا حکم ہے ؟
جواب : صورت مسئول عنہا میں بکر نے ۲۲؍فبروری ۷۰ء؁ کو جو تحریر لکھا اس میں ’’طلاق بائن دیدیا‘‘ کے الفاظ ہیں۔ اس وقت اگر شوہر نے بلانیت یا بہ نیت ایک یہ الفاظ لکھے تھے اسی تاریخ ہندہ پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی پھر ۲۳؍ مارچ ۷۰ء ؁ کو جو خط لکھا اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہ ہوگی اس کو پہلی طلاق کی ہی خبر تصور کیا جائیگا۔ اور ایسی صورت میں دونوںاندرون عدت یا بعد ختم عدت (تین حیض) آپس میں عقد جدید بقرار مہر جدید کرسکتے ہیں۔ اور اگر ۲۲؍فبروری ۷۰ء؁ ہی کو شوہر کی نیت تین طلاق دینے کی تھی اور اسی کا اظہار اس نے ۲۳؍مارچ۷۰ء ؁ کے خط میں کیا ہے تو پھر بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں اور اب بغیر حلالہ ان کا آپس میں دوبارہ عقد نہیں ہوسکتا۔ ولایلحق البائن البائن بأن قال لھا أنت بائن ثم قال لھا أنت بائن لایقع الا طلقۃ واحدۃ بائنۃ لأنہ یمکن جعلہ خبراً عن الأول وھو صادق فیہ فلا حاجۃ الی جعلہ انشاء لأنہ اقتضاء ضروری حتی لوقال عنیت بہ البینونۃ ینبغی أن یعتبر وتثبت بہ الحرمۃ الغلیظۃ۔ عالمگیری جلد اول ۳۷۷ اور ۴۷۲ میں ہے اذا کان الطلاق بائنا دون الثلاث فلہ أن یتزوجھا فی العدۃ وبعد انقضائھا وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحاً صحیحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا کذا فی الہدایۃ۔

ممنوع اوقات میں سجدہ تلاوت کرنا
سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںکہ طلوع آفتاب ‘ زوال آفتاب ‘ غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنا صحیح نہیں ۔ اگر ان اوقات میں قرآن شریف کی تلاوت کے دوران آیت سجدہ کی تلاوت کی جائے تو کیا سجدہ تلاوت ادا کیا جاسکتا ہے یا نہیں ۔
جواب : شریعت اسلامی میں ان تینوں ممنوعہ اوقات میں فرض و نفل نماز کا ادا کرنا مکروہ ہے ۔ ’’الاوقات التی یکرہ فیھا الصلوۃ خمسۃ، ثلاثۃ یکرہ فیھا التطوع و الفرض و ذلک عند طلوع الشمس و وقت الزوال وعند غروب الشمس، إ لا عصر یومہ فانھا لا یکرہ عند غروب الشمس۔
(تاتار خانیہ ‘ ج : ۱ ‘ ص : ۴۰۷ )
مذکورہ اوقات ممنوعہ میں تلاوت قرآن مکروہ نہیں اگر ممنوعہ وقت میں تلاوت کرتے ہوئے آیت سجدہ کی تلاوت کی جائے تو سجدہ تلاوت کرنا بغیر کسی کراہت کے جائز ہے ،اگر آیت سجدہ کی تلاوت ان اوقات کے علاوہ میں ہو اور تلاوت کرنے والا، واجب شدہ سجدہ تلاوت ان اوقات میں کرنا چاہئے تو شرعاً درست نہیں ۔ عالمگیری ج : ۱ ‘ ص ۱۳۵ باب سجود التلاوۃ میں ہے : ولو تلاھا فی وقت مباح فسجدھا فی أوقات مکروھۃ لم تجز ولو تلاھا فی اوقات مکروھۃ فسجدھا فی ھذہ الاوق

TOPPOPULARRECENT