Wednesday , December 12 2018

طلاق بل واپس لینے کا مطالبہ

خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کردے
کہ ترے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
طلاق بل واپس لینے کا مطالبہ
مسلم پرسنل لا بورڈ نے 3 طلاق کے مسئلہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ اور اس کے بعد مرکزی کابینہ کی جانب سے بل کی منظوری پر محتاط رہنے کا مظاہرہ کرتے ہوئے اب وزیراعظم نریندر مودی سے 3 طلاق کو جرم قرار دینے والے بل کو روکدینے اور اسے واپس لینے کی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزیراعظم مودی نے مجوزہ 3 طلاق بل کو پارلیمنٹ کے ذریعہ منظور کرانے آئندہ ہفتہ پارلیمنٹ میں متعارف کروانے کا تہیہ کرلیا ہے تو ان کے ارادوں کے مقابل مسلم پرسنل لا بورڈ کو ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندہ شخصیتوں کے ساتھ مل کر موثر کارروائی کرنے کی ضرورت تھی ۔ صرف وزیراعظم سے بل کو روکنے کی اپیل یا درخواست کرنے کے فیصلہ سے مسئلہ حل ہوجائے گا یہ غیر متوقع معلوم ہوتا ہے ۔ بی جے پی نے سنگھ پریوار کی پالیسیوں کو بروے کار لاتے ہوئے ایک کے بعد ایک کامیابی کا جشن منا رہی ہے ۔ سپریم کورٹ کی جانب سے طلاق پر دئیے گئے فیصلہ پر بھی بی جے پی نے جشن منایا اور مسلم خواتین کے تحفظ کے نام پر انتخابی پروپگنڈہ مہم بھی چلائی ۔ گجرات اسمبلی انتخابات میں طلاق ثلاثہ موضوع کو انتخابی حربہ بنایا گیا ۔ مسلم معاشرہ میں غالب مسلم مرد کے چنگل سے مسلم خواتین کو آزاد کرانے کا سہرا اپنے سر لینے والی مرکز کی مودی حکومت نے اب تک ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے کہ اس سے ہندو خواتین کو با اختیار بنانے والا کوئی ٹھوس قدم اٹھایا ہوگا ۔ حکومت کی سازشوں کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں نے کوئی مضبوط قدم نہیں اٹھایا اور نہ ہی مسلم تنظیموں نے سیکولر ہم خیال سیاسی پارٹیوں کا ساتھ حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ بی جے پی نے گجرات انتخابات میں اپنے ایجنڈہ کو کامیابی کے ساتھ پیش کیا اور انتخابات جیت گئی ۔ اب سال 2019 کے عام انتخابات تک وہ مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ کی علمبردار بن کر ایک اور محاذ جیت لینے کا بندوبست کرلے گی ۔ ملک میں اپوزیشن ایک کمزور گروپ بن چکا ہے ۔ مسلمانوں کو بھی اس کمزوری نے گھیر لیا ہے تو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ بھی اب تک محتاط ادارہ کا مظاہرہ کرنے میں ہی خود کو محدود رکھا جس کے نتیجہ میں مسلم شخص کے خلاف اس حکومت کے عزائم پختہ ہوتے چلے گئے ۔ بی جے پی کی سیاسی برتری کے سامنے ہندوستانی جمہوریت اور قوم پرستی کے لیے جو سنگینیاں پیدا ہوئی ہیں وہ افسوسناک صورت اختیار کرتی جارہی ہیں ۔ بی جے پی کو نا تو مسلم خواتین سے دلچسپی ہے اور نہ اس ملک کی جمہوریت اور قوم پرستی سے لگاؤ ہے وہ تو صرف انتخابات جیتنے کے حربوں کو استعمال کرنے میں کامیاب ہورہی ہے ۔ اس طرح کے حربوں کا مظاہرہ اس نے گجرات اسمبلی انتخابات میں کیا ہے اب تمام انتخابات میں بھی قومی سطح پر یہی حربے استعمال کئے جائیں گے ان میں ایک حربہ مسلم خواتین کے ( شادی حقوق کا تحفظ ) بل 2017 ہے ۔ بی جے پی نے اپنا وقت ، طاقت اور دولت کو اصل دھارے پر کنٹرول حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سوشیل میڈیا کے ذریعہ پروپگنڈہ مہم چلانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ ہندوستانی عوام کی اکثریت اب بھی دستوری حب الوطنی کے نظریہ پر عمل کرنے کے پابند عہد ہیں جس میںہندوتوا کی شدید مخالفت کی گئی ہے ۔ یہ ہندوستانی عوام نہیں چاہتے کہ ان کا ملک ایک کٹر ہندوتوا ملک بن جائے ۔ یہ لوگ نہیں چاہتے کہ ان پر ایسی حکومت مسلط نہ ہو جو ہندوستانیوں کو کیا کھانا چاہئے کیا پینا چاہئے اور کس سے محبت کی جائے اور کس سے رقبت بڑھائی جائے ۔ دستور ہند کے تحت آزاد ہندوستان میں 70 سال گذارنے والے ہندوستانیوں کے سامنے اچانک کلیت پسندانہ حکمرانی آگئی ہے تو یہ ہندوستانی عوام اس حکومت سے ناراض و بیزار ہیں ان کی ناراضگی اور بیزار کیفیت کو طاقت عطا کرنے کے لیے ایک مضبوط اپوزیشن نہیں ہے ۔ اسی طرح مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلم طبقہ میں طاقتور سوچ اور مضبوط عزائم کا فقدان دکھائی دے رہا ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو مسلمانوں کے مختلف گروپس کی وجہ سے اگر کچھ رکاوٹوں کا سامنا ہے تو اس بورڈ کو حکمت عملی تیار کرنے اور داخلی طور پر مسلم اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ 3 طلاق بل کو شرعی قوانین کے مغائر سمجھا جانے کے باوجود اب تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ۔ صرف وزیراعظم مودی سے اس بل کو واپس لینے کا مطالبہ کرنے اور بل کے نقصانات پر افسوس ظاہر کرنے پر ہی اکتفا کیا جارہا ہے ۔ حکومت نے اس مسودہ 3 طلاق بل کے تعلق سے کسی بھی مسلم تنظیم یا مفتی مفکر اسلام سے مشاورت نہیں کی ۔ اب جب کہ مسلم پرسنل لا بورڈ نے وزیراعظم مودی سے بل کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے تو اس سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے موثر نمائندگی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ ہفتہ وزیر پارلیمانی امور اننت کمار کی جانب سے پارلیمنٹ میں بل کی پیشکش سے روکا جاسکے ۔ مسلم خواتین کے ساتھ صنفی انصاف و صنفی مساوات کو یقینی بنانے کے مقصد سے حکومت نے مجوزہ بل تیار کیا ہے جب کہ ہندو خواتین کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں اور عدم مساوات کو نظر انداز کردیا گیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT