Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / طلاق ثلاثہ اسلام کا اٹوٹ حصہ نہیں ہے:مرکز

طلاق ثلاثہ اسلام کا اٹوٹ حصہ نہیں ہے:مرکز

کیا خواتین کو طلاق ثلاثہ کی نفی کا اختیار دیا جاسکتا ہے؟ دستوری بنچ کا استفسار
نئی دہلی ۔ 17 مئی (سیاست ڈاٹ کام) طلاق ثلاثہ اسلام کا اٹوٹ حصہ نہیں ہے اس کے علاوہ یہ ’’اکثریتی بمقابلہ اقلیتی‘‘ مسئلہ بھی نہیں ہے بلکہ مسلم مرد اور مظلوم خواتین کے درمیان ’’باہمی فرقہ جاتی مسئلہ‘‘ ہے۔ مرکز نے آج سپریم کورٹ میں یہ بات کہی۔ اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے طلاق ثلاثہ کے 1400 سال قدیم طریقہ کار کو ختم کرنے کیلئے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی جیسے مساوات‘ صنفی انصاف وغیرہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ طریقہ کار ختم کیا جانا چاہئے۔ انہوںنے کہا کہ سپریم کورٹ کو اس معاملہ میں فیصلہ سے گریز نہیں کرنا چاہئے۔ چیف جسٹس جے ایس کھیہر پر مشتمل دستوری بنچ نے مرکز سے سوال کیاکہ اب تک مسلمانوں میں شادیوں اور طلاق کو باقاعدہ بنانے کیلئے قانون سازی کیوں نہیںکی گئی۔ بنچ نے کہا کہ آپ (مرکزی حکومت) کا یہ کہنا ہیکہ اگر عدالت طلاق ثلاثہ کو کالعدم کردے تو قانون سازی کریں گے لیکن حکومت نے گذشتہ 60 سال کے دوران ایسا قانون کیوں نہیں بنایا؟ روہتگی نے جواب میں کہا کہ سیکولر عدالت کی یہ نشانی ہوتی ہیکہ وہ جب کوئی معاملہ رجوع کیا جائے تو قانون سازی کا انتظار کئے بغیر اصلاحات یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جو بھی کرنا ہو کرے گی لیکن سوال یہ ہیکہ عدالت کیا کرنے والی ہے؟۔ روہتگی نے کہا کہ انہوں نے حکومت کی ہدایت پر یہ بیان دیا ہے۔

وہ حکومت کی طرف سے بات کرسکتے ہیں لیکن پارلیمنٹ کی طرف سے نہیں۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ بنیادی حقوق کی نگران ہے اور اسے یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا ان حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے آج آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سے دریافت کیا کہ اسلامی شادی کے عقد نکاح سے متعلق نکاح نامہ کی تکمیل کے وقت مسلم خواتین کو تین طلاق کی نفی کرنے کا اختیار دیا جاسکتا ہے۔ دستوری بنچ نے یہ بھی کہا کہ آیا تمام قاضیوں سے یہ کہا جاسکتا ہیکہ شادی کے موقع پر نکاح نامہ میں اس شرط کو شامل کیا جائے۔ اس بنچ نے یہ بھی دریافت کیا کہ ’’آیا یہ ممکن ہیکہ مسلم خواتین کو نکاح نامہ کی تیاری و تکمیل کے موقع پر تین طلاق کو نہیں کہنے کا اختیار دیا جاسکتا ہے‘‘۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے اس مقدمہ کی پیروی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ و سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے کہا کہ وہ بورڈ کے تمام ارکان سے بات کرنے کے بعد اس تعلق سے جواب دیں گے۔

مکل روہتگی نے کپل سبل اور طلاق ثلاثہ کی تائید کرنے والے کئی سینئر وکلاء کی بحث کے جواب میں کہا کہ مذہب کی اساس کو بھی بنیادی حقوق پر پرکھا جانا چاہئے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جواب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بورڈ کا یہ موقف ہیکہ طلاق ثلاثہ ناپسندیدہ اور گناہ کا کام ہے اس کے باوجود طلاق ثلاثہ کو آخر کیوں جائز قرار دیا جارہا ہے۔ یہ کس طرح مذہب کا ایک اٹوٹ حصہ ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلم خواتین نے صدیوں قدیم اس طریقہ کار کی وجہ سے جن مصائب کا سامنا کرنا پڑا ان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ مرد کے ظلم کا شکار ہوئی ہیں۔ روہتگی نے کہاکہ طلاق ثلاثہ ایک ایسا طریقہ کار ہے جس کے بارے میں خود مسلمانوں کے اندر اختلافات پائے جاتے ہیں اور یہ بحث جاری ہے کہ طلاق ثلاثہ دی جاسکتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ لڑائی مسلم طبقہ کے مردوں جو زیادہ طاقتور‘ بااختیار اور تعلیم یافتہ ہیں ان میں اور ان خواتین کے مابین ہے جو زیادہ طاقتور نہیں‘ زیادہ بااختیار نہیں اور غیرتعلیم یافتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت اس مسئلہ پر کوئی قانون موجود نہ ہونے کی صورت میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے یہ خلا پُر کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وشاکھا مقدمہ میں عدالت نے کام کے مقام پر جنسی ہراسانی کے واقعات روکنے کیلئے رہنمایانہ خطوط وضع کئے۔ روہتگی نے ستی‘ بچیوں کو زندہ درگور کرنے اور دیوداسی اور ہندوؤں میں چھوت چھات جیسی رسومات کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان سب رسومات کو ختم کردیا گیا۔ بنچ نے پوچھا کیا ان سب رسومات کو عدلیہ نے ختم کیا؟ کیا اسے قانون سازی کے ذریعہ ختم کیا گیا۔ روہتگی نے وشاکھا مقدمہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتیں بنیادی حقوق کی نگرانکار ہیں۔ کپل سبل نے بحث شروع کرتے ہوئے دہلی ہائیکورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیا اور کہاکہ یہ کہنا غلط ہے کہ تمام مکاتب فکر طلاق ثلاثہ کو ’’گناہ‘‘ قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے یہاں تک کہا کہ پرسنل لاء امتیازی رویہ کی قانونی بنیاد ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے یہ بھی یہ موقف اختیار کیا ہیکہ عدالت کو ایسے معاملہ میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے جب کوئی بھی اس سے رجوع نہ ہوا ہو۔ مسلمانوں میں کثرت ازدواج، نکاح حلالہ اور طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر مختلف درخواستوں پر سماعت کا آج پانچواں دن تھا۔ سکھ، عیسائی، پارسی، ہندو اور مسلم کے بشمول مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ججوں پر مشتمل بنچ اس مقدمہ کی سماعت کررہی ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے گذشتہ روز تین طلاق کے مسئلہ کا لارڈ رام کی ایودھیا میں پیدائش سے متعلق اعتقاد سے تقابل کیا اور کہا کہ یہ اعتقاد کے معاملات ہیں جنہیں دستوری جواز کی بنیاد پر پرکھا نہیں جاسکتا۔

TOPPOPULARRECENT