Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / طلاق ثلاثہ اور کثرت ازدواج پر مرکزی حکومت کے حلف نامہ پر عوامی تشویش

طلاق ثلاثہ اور کثرت ازدواج پر مرکزی حکومت کے حلف نامہ پر عوامی تشویش

شریعت میں مداخلت ناقابل برداشت، مذہبی حلقوں میں مستقبل کا لائحہ عمل، صدائے احتجاج پر غور ، شہر میں علماء کا اجلاس
حیدرآباد۔ 9اکٹوبر (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل کردہ کثرت ازدواج اور طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر حلف نامہ کے بعد شہر کے مذہبی حلقوں اور عوام الناس میں تشویش کی لہر پیدا ہو چکی ہے ۔ مرکزی حکومت نے جو حلف نامہ داخل کیا ہے اس سلسلہ میں شہر کے مختلف مقامات پر آج اجلاس منعقد ہوئے اور اس حلف نامہ کو شریعت میں مداخلت قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ حکومت عدلیہ کے راستہ سے شریعت میں مداخلت کرنے کی کوشش میں مصروف ہے ۔ حکومت کی ان کوششوں کو روکنے کیلئے سخت گیر اقدامات و احتجاج ناگزیر تصور کیا جانے لگا ہے اور اب مذہبی حلقوں کے علاوہ بھی ملک کے مستقبل کے متعلق فکر مند حلقوں میں اس مسئلہ پر تشویش کا اظہار کیا جانے لگا ہے۔ دونوں شہروں میں آج مختلف مقامات پر ہم خیال افراد کے اجتماع میں اس بات پر غور و خوض کرتے ہوئے مسئلہ کی سنگینی کا جائزہ لیا گیا اور مسئلہ پر مذہبی و سیاسی قیادت کی جانب سے کئے جانے والے فیصلوں پر انتظار کے رویہ کو ترک کرنے اور اپنے طور پر اقدام کے متعلق غور کرنے کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکمت عملی کی تیاری اور منصوبہ بندی کے نام پر کی جانے والی تاخیر کے سبب ان حلقوں کی تشویش گہری ہوتی جا رہی ہے کیونکہ عدلیہ کے معاملہ میں لب کشائی سے خائف قائدین عوامی جذبات سے نا آشنا ہوتے جا رہے ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے عدالت عظمی میں داخل کردہ حلف نامہ کے بعد ان لوگوں کو سانپ سونگھ گیا جو یہ کہہ رہے تھے کہ حکومت نے انہیں شریعت میں مداخلت نہ کرنے کا تیقن دیا ہے اور اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ وزیر اعظم سے اس سلسلہ میں نمائندگی کی جائے گی۔ شہر کے کئی مقامات پر منعقد ہوئے ان اجلاسوں میں حکومت کی جانب سے اختیار کردہ موقف پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ مسلمان کسی بھی حالت میں شریعت محمدیؐ میں مداخلت برداشت نہیں کرسکتا ۔ حکومت کی جانب سے ان حساس مسائل کو بنیاد بناتے ہوئے عدلیہ کے راستے ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی راہیں ہموار کی جا رہی ہیںاور اگر حکومت کو اسی وقت نہ روکا گیا تو حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں۔حکومت کے حلف نامہ اور ریاستی حکومت کے موقف پر شہر کے عوام میں ہی نہیں بلکہ اضلاع کے عوام میں بھی شدید برہمی پائی جاتی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں سے مرکزی حکومت کے اقدام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی جانی چاہئے کیونکہ شہر سے جب رویت کا اعلان ہوتا ہے تو اضلاع میں عید قرار پاتی ہے لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے ملک میں بسنے والی دوسری بڑی اقلیت کے مذہبی قوانین میں مداخلت کے باوجود اختیار کردہ خاموشی نا قابل فہم ہے۔فکر مند شہریوں کے ان اجلاسوں میں اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا کہ جو لوگ مرکز کی ان کوششوں سے امت کو غافل رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ کہتے ہوئے صبر کی تلقین کر رہے ہیں کہ عدالت کا فیصلہ آنے میں ابھی وقت لگے گا یا عدالت کے فیصلہ کے بعد اسے نافذ کیا جانا کس حد تک ممکن ہے ؟یا پھر کسی اور بڑے وزیر سے نمائندگی کا لالی پاپ دینے کی کوشش کرنے والوں سے بھی چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح کی گفتگو کرتے ہوئے خواب غفلت میں رکھنے والے در حقیقت نوشتہ ٔ دیوار پڑھنے سے عاری اور کم فہم لوگ ہوتے ہیں جن کی باتوں میں آنے سے امت کو روکنا ضروری ہے۔ اتنا ہی نہیں بسا اوقات دشمن عناصر ایسے لوگوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مفادات کی تکمیل اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہوتا ہے اور کچھ لوگ دانستہ اور بعض لوگ نا دانستہ طور پراسلام دشمن طاقتوں  کا کھلونا بننے لگتے ہیں ۔ 2014کے بعد سے ملک جس صورتحال کا سامنا کر رہاہے ایسے میں خاموش تماشائی بنے رہنا امت مسلمہ کے لئے بہت بڑی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یوم عاشورہ کے بعد شہر کے مختلف مقامات بلکہ ہر چوراہے اور گلی کوچہ میں تحفظ شریعت کے سلسلہ میں تحریکوں کا آغاز ہوگا ۔ حکومت نے ایک ایسے وقت یہ حلف نامہ داخل کیا ہے جبکہ ہر ملک کے ہر گوشہ میں شہادت امام حسین ؓ اور معرکہ ٔ کربلا کی یادیں تازہ ہو رہی ہیں اور شریعت و دین محمدیﷺ کی حفاظت کیلئے دی گئی قربانیوں کو یاد کیا جا رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT