Monday , January 22 2018
Home / مضامین / طلاق ثلاثہ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟

طلاق ثلاثہ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟

غضنفر علی خان
طلاق ثلاثہ کا قانون تو بن جائے گا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا مودی حکومت کا یہ ہندوستانی مسلمانوں پر آخری وار ہے یا یہ ایک انتہائی خطرناک ابتداء ہے اور اس کی انتہا کیا ہوگی۔ کہاں یہ سلسلہ ختم ہوگا؟ آخر مودی حکومت کا منشاء کیا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ہم مسلمانوں کو ڈھونڈنا ہے۔ اکثریتی فرقہ کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے کیونکہ فرقہ پرست طاقتوں نے زور پکڑ لیا ہے۔ یکے بعد دیگرے 18 ہندوستانی ریاستوں میں ان ہی طاقتوں کی حکومت ہے۔ بی جے پی، آر ایس ایس اور ہندوتوا کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان طاقتوں کے مذموم عزائم بھی بڑھ رہے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہمارے ملک کا صدیوں قدیم اجتماعی مزاج کسی ایک دھرم کی حکمرانی قبول کرے گا؟ ہندوستانی مسلمانوں کی آنے والی نسلیں کیا اپنی شناخت برقرار رکھ سکیں گی۔ کیا ہندوستان ایک ہندو راشٹر بن جائے گا۔ غرض اس وقت تو سارے ملک اور خاص طور پر مسلمانوں کے آگے ایسے سوالات ہیں جن کا جواب تلاش کرنا بے حد ضروری ہے۔ طلاق ثلاثہ ایک نشست، ایک سانس میں 3 مرتبہ اپنی بیوی کو طلاق دینا خود مسلمانوں میں عام رواج نہیں ہے۔ طلاق ثلاثہ بڑی حد تک ایک غیر معمولی یا استثنائی شکل ہوتی ہے۔ ایک فیصد سے کم طلاق ایسے ہوتے ہیں جو طلاق ثلاثہ کے زمرہ میں آتے ہیں۔ طلاق کی دوسری شکلیں بھی ہیں جن میں دوبارہ میاں بیوی کچھ وقت کے بعد صلاح صفائی کرکے رجوع ہوسکتے ہیں۔ یہی اقسام مسلمانوں میں ہوتی ہیں۔ لیکن مودی حکومت نے طلاق ثلاثہ کو Exceptional نوعیت کا مسئلہ بناکر ایک نیا وبال کھڑا کردیا ہے۔ جہاں تک طلاق کا سوال ہے یہ عمل اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں انتہائی ناپسندیدہ ہے اور خاص کر طلاق ثلاثہ تو عین بدعت ہے اسی لئے اس کو ’’طلاق بدعت‘‘ کہا جاتا ہے۔ ملک کے دیگر طبقات میں بھی طلاق مختلف صورتوں میں ہوتی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ دوسرے طبقات میں طلاق کا فیصد مسلمانوں کے طلاق کے واقعات سے بہت زیادہ ہے۔ اس وقت دوسرے طبقات میں یہ فیصد مسلمانوں سے کہیں زیادہ ہے۔ پھر بھی حکومت کی نظر کرم مسلمانوں پر ہے کیوں کہ مودی حکومت کو مسلم طبقہ سے نفرت ہے۔ ان وزیراعظم مودی کو کیا کہا جائے کہ وہ مسلم خواتین کی ہمدردی میں خود کو چمپئن ثابت کرنے کے لئے طلاق ثلاثہ کا مسئلہ اُٹھاکر ایک نیا مسئلہ کھڑا کرچکے ہیں۔ لیکن مسلم اقلیت کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ بات صرف طلاق بدعت پر ہی ختم ہوجائے گی۔ یہاں سے سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ ابھی کئی شرعی قوانین میں اس کی مداخلت ہوگی۔ آئندہ حلالہ کے مسئلہ پر سوال کیا جائے گا پھر پردہ کا مسئلہ اُٹھایا جائے گا۔ قانون شرعیہ میں مکمل تبدیلی یا نعوذباللہ من ذالک شرعی قوانین کو ایک ایک کرکے ختم کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے ’’ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا؟ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا‘‘ اس وقت تو اللہ نہ کرے یہ نوشتہ دیوار بن گیا ہے ’’دو سے زیادہ شادیاں کرنے کا شرعی قانون، حق جائیداد کا قانون غرض کہاں تک کہئے کہاں تک سنئے ہرمسلمان کا دل ان دنوں تیزی سے دھڑک رہا ہے کہ کہیں آج کی یہ مذموم سیاسی طاقتیں ان کی دینی شناخت کو ہی نہ ختم کردیں۔ ایسے ہی ملک کے مسلمان کیا کرسکتے ہیں۔ یہ طاقتیں اب یہ کہہ رہی ہیں، ایک ملک ایک پرچم ایک دستور ہے تو پھر ایک ہی قانون کیوں نہ رہے یعنی یکساں سیول کوڈ، کیوں نہ نافذ کیا جائے اور یہی حکومت کا ارادہ ہے۔ یکساں سیول کوڈ اگر نافذ کیا جاتا ہے تو پھر مسلمانوں کے لئے اپنے شرعی قوانین جو ان کی شناخت ہیں، جو ان کا ایمان ہے جس سے وہ منحرف نہیں ہوسکتے ہیں جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتے انہیں ضرو ان قوانین کی حفاظت کرنی ہوگی۔ ہندوستان کی تاریخ میں کبھی مسلمانوں پر ایسی افتاد نہیں پڑی تھی۔ کبھی انھیں ایسی سخت آزمائش سے نہیں گزرنا پڑا تھا ان کی آنے والی نسلیں تو دور کی بات ہے خود موجودہ نسل کو اپنی دینی حمیت کے لئے ایسی جدوجہد کرنا پڑے گی۔ یہ وقت ہے کہ اپنے ایمان اور اپنی پہچان کی حفاظت کے لئے وہ (مسلمان) عزم کرلیں ایسا کرنے میں ان کو کسی اور طبقہ سے لڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انھیں عزیمت سے کام لینا ہوگا۔ انھیں اپنی شرعی عدالتوں سے اپنے عایلی قوانین کے تحت شرعی عدالتوں سے ہی انصاف حاصل کرنا ہوگا۔ اگر شرعی عدالتیں پورے نظم و ضبط کے ساتھ پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ میدان میں اُتریں تو پھر حکومت خواہ شریعت میں مداخلت کرتے ہوئے کوئی قانون بنائے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ طلاق ثلاثہ کا ہی مسئلہ لیجئے۔ اگر مٹھی بھر مسلم خواتین وزیراعظم سے اس قانون کو لاگو کرنے کا مطالبہ نہ کی ہوتیں اگر خود کو شرعی قوانین کا پرزور حامی ظاہر کیا ہوتا تو کیوں حکومت اتنی عجلت میں یہ قانون نافذ کرتی۔ طلاق ثلاثہ کو سپریم کورٹ نے غیر دستوری اور غیر قانونی اگر قرار دیا ہے تو اس کا مطالبہ کس نے کیا تھا۔ یہی ہماری خواتین نے کیا ہے۔ یہ مغرب زدہ آزاد خیال چند خواتین ہندوستانی مسلم خواتین کی نمائندہ تو نہیں ہے لیکن ان کی ایماء پر ہی یہ قانون بنانا پڑا۔ خود کردہ را علاج نیست والی بات ہے۔ اپنے پیر پر خود کلہاڑی ہمارے مسلم سماج کی چند گمراہ کردہ خواتین ہی نے ماری ہے۔ ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ان خواتین کے ساتھ ان کے شوہروں نے ایک سانس میں بیک وقت طلاق بدعت دے کر انھیں کہیں کا نہ چھوڑا تھا۔ اگر مسلم خواتین نے قانون سازی کی راہ ہموار کی تھی تو مسلم شوہروں نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ساری غلطی ہمارے سماج کی ہے یہ تو طلاق ثلاثہ کی بُرائی کو مسلمانوں نے ٹھیک طور پر سمجھا اور نہ ان کی خواتین نے اس بارے میں کبھی غور کیاکہ ان کی ایک غلطی کی وجہ سے سارے مسلم سماج پر کیا عذاب نازل ہوگا۔ ہم نے اپنی شریعت پر پورے ایقان و اخلاص سے عمل کیا نہ کبھی اس کی حرمت کا پاس و لحاظ رکھا۔ ہم نے بھی یہ غلطی کی کہ ایک ایسی حکومت کو مداخلت فی دین کی دعوت دی جو موقع کی تلاش میں تھی اور جیسے ہی اس کو موقع ملا اس نے شریعت پر ہلّہ بول دیا۔ اب بھی ہم مسلمان خود اپنے سے شریعت پر عمل پیرا ہوکر اس کی حفاظت کرسکتے ہیں۔ اس کے لئے صرف عزیمت کی ضرورت ہے۔ اللہ ہماری مدد کرے کہ ہم اسلام دشمن طاقتوں کو شریعت میں مداخلت سے صرف اس پر عمل کر کے روک سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT