Sunday , September 23 2018
Home / Top Stories / طلاق ثلاثہ بل ،صدر کے متنازعہ بیان کیخلاف خواتین کی ریالی

طلاق ثلاثہ بل ،صدر کے متنازعہ بیان کیخلاف خواتین کی ریالی

مالیگاؤں ۔ 15 فبروری (ای میل) آل انڈیا مسلم پر سنل لابورڈکے بیانر تلے تحفظ شریعت کمیٹی مالیگاؤں کی جانب سے آج دوپہر میں 2 بجے اے ٹی ٹی ہائی اسکول سے خواتین کی ایک خاموش پر امن احتجاجی ریالی آل انڈیا مسلم پر سنل لابورڈکے سکریٹری مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی کی قیادت میں نکالی گئی جو کہ تاریخی کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ اس ریالی میں پورے شہر سے لاکھوں کی تعداد میں خواتین نے شریک ہو کر طلاق سے متعلق حکومت کے مجوزہ قانون اور 28 جنوری کو پارلیمنٹ میں مسلم خواتین کے تعلق سے صدر جمہوریہ کی جانب سے دیئے گئے اس بیان پر اپنی ناراضگی کااظہار کیا جس میں انہوں نے مسلمان عورتوں کوذلت اور غلامی کاشکار قرار دیاہے، اور انہیں غلامی سے نکال کر آزادی دلانے کی بات کہی ہے۔تمام خواتین نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنا مجوزہ قانو ن واپس لے،خواتین نے ایک آواز میں شریعت اسلامیہ پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے شریعت میں مداخلت کی کوششوں کی مذمت کی،اور مسلم پرسنل لا کے مطابق زندگی بسر کرنے کا عزم کیا۔ریالی کے آغاز میں تمام مسالک و مکاتب فکر کے نمائندہ حضرات اور سیاسی پارٹیوں کے لیڈران نے اس ریالی سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے شریعت میں مداخلت کی کوششوں پر تنقید کی اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے اس اقدام کی سراہنا کرتے ہوئے مکمل تائید وحمایت کااظہار کیا۔

مقررین میں شفیق رانا (مرکزی سنی جمعیۃعلماء وادارہ ابراہیم)، اطہر حسین اشرفی(سنی اشرف اکیڈمی)، یوسف سیٹھ (بنکر بیداری محاذ )، یوسف الیاس (مہا گٹھ بندھن )،سید حیدر عباس نقوی(شیعہ اثنا عشری جماعت)ڈاکٹرخالد پرویز (ایم آئی ایم)،مولانا ایوب قاسمی(جمعیۃعلماء سلیمانی چوک)،عتیق کمال(راشٹروادی کانگریس )،صوفی غلام رسول قادری(سنی جمعیۃ الاسلام )،بلند اقبال(جنتادل سیکولر)،شیخ آصف (ایم ایل اے،کانگریس ) مفتی محمداسماعیل قاسمی (جمعیۃعلماء مدنی روڈ)،مولانا عبدالحمید ازہری (رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)صاحبان شامل ہیں۔خواتین میں سے محترمہ شبانہ (جماعت اسلامی) اور زینب فاطمہ عبدالحلیم صدیقی (ایم آرایف) نے بھی خطاب کیا۔ یہ ریالی اے ٹی ٹی ہائی اسکول سے نکل کر پرانت آفس تک پہونچی جہاں آل انڈیا مسلم پر سنل لابورڈکے سکریٹری مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت چند نام نہاد مسلمان خواتین کاسہارا لے کرشریعت میں مداخلت کی کوشش کر رہی ہے، اور مسلم خواتین کی ہمدردی کے نام پر اپنا مجوزہ طلاق ثلاثہ بل مسلمانوںکے سر تھوپنے پر آمادہ ہے جبکہ یہ قانون شریعت اسلامی کے خلاف ہے اور آئین ہند کی روح کے منافی بھی ہے۔اسی طرح گذشتہ دنوں صدر جمہوریہ ہند نے بھی یہ کہہ کر مسلمانوں کو اذیت پہونچائی کہ ’’کئی دہائیوں سے مسلم خواتین کا وقارسیاسی مفادات کی خاطر داؤ پر لگا دیا گیا تھا، اب قوم کوانہیں آزادی دلانے کاموقع ملا ہے،طلاق ثلاثہ بل کے ذریعے مسلمان عورتوں کو عزت نفس اور حوصلے کے ساتھ جینے کا موقع ملے گا‘‘۔

TOPPOPULARRECENT