Tuesday , October 23 2018
Home / شہر کی خبریں / طلاق ثلاثہ بل فوجداری قانون کی خلاف ورزی

طلاق ثلاثہ بل فوجداری قانون کی خلاف ورزی

جرم ثابت کرنا مشکل، وائس چانسلر نلسار یونیورسٹی ڈاکٹر فیضان مصطفی کی رائے
حیدرآباد۔/16 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) مرکز کی جانب سے طلاق ثلاثہ کے خلاف مجوزہ قانون سازی کی ماہرین قانون کی جانب سے سخت مخالفت کی جارہی ہے۔ حکومت نے بل کا جو مسودہ تیار کیا ہے اس پر کئی ماہرین نے اعتراض جتایا اور اسے فوجداری قانون کے اُصولوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ پروفیسر فیضان مصطفی وائس چانسلر نلسار یونیورسٹی آف لاء نے مسودہ بل پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ہلاکت خیز اور نقصان دہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز بل کی پیشکشی پر بضد ہے لیکن آپ کسی ایسی چیز کو جرم کے طور پر کس طرح نشاندہی کرسکتے ہیں جب دوسرے کو جسمانی طور پر کوئی نقصان نہ ہو۔ یہ معاملہ فوجداری انصاف کے نظام کیلئے ٹھیک نہیں ہے۔ طلاق ثلاثہ کا ارتکاب کرنے پر یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ یہ کوئی فوجداری جرم ہے کیونکہ یہ معاملہ زبانی ہوتا ہے اس میں جسمانی نقصان کا کوئی اندیشہ نہیں۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے 22 اگسٹ کو طلاق ثلاثہ پر فیصلہ سنایا تھا۔ یہ فیصلہ 2 کے مقابلہ 3 ججس کی اکثریتی رائے کی بنیاد پر دیا گیا لیکن فیصلہ میں طلاق کے طریقہ کار کو مجرمانہ قرار نہیں دیا گیا۔ عدالت نے اس معاملہ کو مرکز پر چھوڑ دیا کہ وہ قانون سازی کرے۔ پروفیسر فیضان مصطفی نے کہا کہ فوجداری قانون سے سماجی تبدیلی میں مدد نہیں ملے گی اور یہ قانون سوشیل کنٹرول کا ذمہ دار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ماہرین اور سپریم کورٹ نے بھی اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ملک میں طلاق ثلاثہ کے معاملات کافی کم ہیں۔ مرکز نے کہا کہ ملک میں طلاق ثلاثہ کے 67 معاملات منظر عام پرآئے ہیں جن میں حیدرآباد سے صرف 2 ہیں۔ ڈاکٹر فیضان مصطفی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بارے میں شعور بیدار کرنے کیلئے 2 ماہ کا وقفہ انتہائی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کو چاہیئے کہ وہ مَردوں کو سزا دینے کے بجائے مسلمانوں میں قانونی شعور بیداری کی مساعی کرے۔

TOPPOPULARRECENT