Thursday , September 20 2018
Home / Top Stories / طلاق ثلاثہ بل نقائص و تضادات کا پلندہ

طلاق ثلاثہ بل نقائص و تضادات کا پلندہ

بل کی منظوری سے ہندوستان کا ہر شہری شرمسار ہوگا: مسلم پرسنل لا بورڈ کا تاثر

مسلمانوں کو بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی سازش
مولانا سید خلیل الرحمن سجاد نعمانی کی پریس کانفرنس

حیدرآباد8 فبروری ( محمد مبشر الدین خرم ) مسلم پرسنل لابورڈ طلاق ثلاثہ بل کو نقائص و تضادات کا پلندہ تصور کرتا ہے اور اس طرح کے بل کی منظوری سے ہندستان کا ہر شہری شرمسار ہوگا۔مسلم پرسنل لابورڈ کو طلاق ثلاثہ بل پر اعتراض نہیں ہے لیکن اس میں جو شق شامل کی گئی ہے وہ راست مسلمانوں کو بنیادی حقوق سے محروم کرنے اور منظم سازش و چالبازی کے ذریعہ شریعت پر عمل سے روکنے کی کوشش ہے۔ مولانا سید خلیل الرحمن سجاد نعمانی نقشبندی نے کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سہ روزہ اجلاس سے قبل پریس کانفرنس کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ مرکزی حکومت کو مسلم پرسنل لاء بورڈ نے طلاق ثلاثہ مسودہ بل منظر عام پر آنے پر مکتوب روانہ کیا تھا اور وزیر اعظم سے ملاقات کا وقت طلب کیا تھا لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ وزیر اعظم نے اس مکتوب کا آج تک جواب نہیں دیا بلکہ وزیر اعظم تو جس طرح کی حکمرانی کر رہے ہیں اس سے ملک واقف ہو چکا ہے۔ مولانا نے مودی طرز حکمرانی کو تانا شاہی قرار دیا کیونکہ انہوں نے کرنسی تنسیخ کے فیصلہ سے اپنی کابینہ کو تک واقف نہیں کروایاتھا اور نہ ہی وزیر فینانس اس سے واقف تھے۔ پریس کانفرنس میں مولانا سید خلیل الرحمن سجاد نعمانی نقشبندی ‘ بیرسٹر اسد الدین اویسی ‘ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‘ جناب رحیم الدین انصاری ‘ مولانا عمرین محفوظ موجود تھے۔ مولانا نعمانی نے بتایا کہ طلاق ثلاثہ بل کو من و عن کسی قیمت پر قبول نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کے ذریعہ نہ صرف طلاق ثلاثہ پرپابندی عائد کرنے کی بات کی جا رہی ہے بلکہ حکومت بالواسطہ طلاق پر پابندی عائد کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ اس بل کو من و عن قانونی شکل دیئے جانے سے روکنے ہر جمہوری طریقہ کار اختیار کریگا۔مولانا نے بتایا کہ حیدرآباد میں 9فروری سے شروع ہونے والے اجلاس میں بورڈ کی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے علاوہ تین نشستیں ہوں گی جن میں طلاق ثلاثہ ‘ بابری مسجد مقدمہ کے علاوہ دیگر امور پر غور کیا جائیگا ۔ ان اجلاسوںمیں صدر پرسنل لاء بورڈ مولانا سید رابع حسنی ندوی کی اجازت سے دیگر امور پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ماڈل نکاح نامہ کے متعلق استفسار اور اس میں طلاق ثلاثہ کے طریقہ کو روکنے عہد کی شق کے متعلق کہا کہ یہ تجویز بعض ارکان بورڈ کی جانب سے موصول ہوئی ہے اور اس پر بھی غور کیا جائیگا ۔ مولانا نے کہا کہ26ویں اجلاس عام کی پہلی نشست ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ہوگا جو جمعہ کی شام منعقد کیا جائیگااور 10 فروری بروز ہفتہ صبح 10بجے کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ جنرل سیکریٹری کی رپورٹ کے ساتھ اجلاس کی دوسری نشست ہوگی ۔ اس اجلاس میں کولکتہ اجلاس کے فیصلوں اور ان پر عمل ٓاوری کا جائزہ لیا جائے گا۔ اسی دن شام کو کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کے بجٹ کے متعلق اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ 11فروری بروز اتوار بعد نماز مغرب اجلاس کا آخری مرحلہ جلسۂ عام ہوگا ۔ جلسہ میں ’حیدرآباد اعلامیہ‘ جاری کیا جائیگا۔ مولانا نعمانی نے بتایا کہ بابری مسجد مقدمہ کی ملکیت کے مقدمہ کے علاوہ بابری مسجد انہدام مقدمہ کے پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جائیگا اور بابری مسجد کے مقدمات کی نگرانی کر رہی کمیٹی کی جانب سے تفصیلی رپورٹ پیش کی جائیگی۔مولانا نے بابری مسجد معاملہ میں مصالحت کے متعلق تجاویز کے ملنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی تجاویز گشت کر رہی ہیں ان میں مسلم پرسنل لاء بورڈ تک کوئی تجویز نہیں پہنچائی گئی ہے بلکہ بورڈ کو بھی ان تجاویز کا علم ذرائع ابلاغ سے ہی ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں محکمہ آثار قدیمہ کے تحت موجود ہزاروں مساجد جہاں نماز پر پابندی ہے ان کا جائزہ لینے بھی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اس کی رپورٹ حاصل کی جائے گی کیونکہ محکمہ آثار قدیمہ کے تحت موجود ان مساجد میں نماز پر تو پابندی عائد کی جا چکی ہے لیکن ان میں برائیاں عام ہوتی جا رہی ہیں اس کے تدارک کیلئے انہیں بازیاب کرنے اقدامات کئے جانے لگے ہیں۔ انہوں نے پرسنل لاء بورڈ کی کارکردگی اور اس کے مختلف شعبوں کی سرگرمیوں کا سرسری تذکرہ کیا اور کہا کہ بورڈ کی جانب سے تفہیم شریعت کے علاوہ اصلاح معاشرہ کی تحریک چلائی جا رہی ہے اور اس سے زیادہ لوگوں کو مربوط کرنے پر غور کیا جائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ 11فروری بروز اتوار ’بابری مسجد‘ معاملہ کا جائزہ لینے خصوصی اجلاس منعقد ہوگا۔انہوں نے طلاق ثلاثہ مسئلہ پر حکومت کی جانب سے پیش کردہ بل کی تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے جو قانون بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کو من و عن منظور کیا جاتاہے تو خاتون اپنے شوہر سے علحدگی اختیار کرنا چاہے تب بھی اسے شوہر کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنے کے مترادف ہے۔ قبل ازیں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور اسد الدین اویسی نے اس اجلاس کی تفصیلات سے واقف کروایا اور کہا کہ تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور اجلاس میں ملک بھر سے 500 علماء ‘ دانشوروں کی شرکت متوقع ہے ۔

TOPPOPULARRECENT